جی این این سوشل

دنیا

چین نے ایران پر امریکی پابندیوں کی مخالفت کردی

چین ایران کے حق میں بول پڑا، اس نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد امریکا کی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

چین نے ایران پر امریکی پابندیوں کی مخالفت کردی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ترجمان چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز چین کے وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے صوبے جیانگ زو میں ملاقات کی۔

اس ملاقات میں چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی، چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ چینی ہم منصب کی دعوت پر چین کے دورے پر ہیں۔

پاکستان

عمران خان سے منسوب باتوں کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں، شہباز گل

عمران خان سے متعلق ملک ریاض اور آصف زرداری کی مبینہ آڈیو کی پاکستان تحریک انصاف نے تردید کردی۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

عمران خان سے منسوب باتوں کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں، شہباز گل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ کاروباری شخص اور عمران خان کے مخالف سیاستدان آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔

شہباز گل نے کہا کہ بات چیت میں عمران خان سے منسوب باتوں کاحقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں، یہ تمام لوگ خان سے این آر او مانگتے رہے تھے جو انہیں نہیں ملا۔

واضح رہے کہ ملک ریاض کی سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ گفتگو کی مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ عمران خان سے متعلق گفتگو کررہے ہیں۔

ملک ریاض آڈیو میں یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’خان کے پیغامات آرہے ہیں کہ مصالحت کروادیں‘۔

مبینہ آڈیو میں ملک ریاض کے ’اسلام علیکم سر‘ اور آصف زرداری کے ’وعلیکم اسلام، خیریت ‘ سے گفتگو کا آغاز ہوا۔

ملک ریاض نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سر بس بتانا تھا، میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا، باتیں آپ سے کرنی ہیں، آپ نے کہا تھا بات نہیں کریں گے۔

پراپرٹی ٹائیکون نے آصف علی زرداری سے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ ’آپ کو انفارمیشن دینی تھی، خان کے پیغامات آرہے ہیں کہ مصالحت کروادیں‘۔

ملک ریاض نے یہ بھی کہا کہ ’آج تو اُس نے مجھے بہت ہی مسیجز کیے ہیں کہ پیچ اپ کروادیں‘۔

پی پی کے شریک چیئرمین نے جواب دیا کہ اب امپاسیبل ہے نہ۔

اس پر ملک ریاض نے آخری جملہ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’ نہیں ٹھیک ہے، بس آپ کے سامنے بات رکھ دی‘۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

’سستا پیٹرول، ڈیزل سکیم‘، 40 ہزار سے کم آمدن والوں کو دو ہزار ماہانہ دینے کا اعلان

اسلام آباد : وفاقی حکومت  نے ’وزیراعظم سستا پیٹرول سستا ڈیزل‘ سکیم کے تحت ایک کروڑ 40 لاکھ گھرانوں کو جون سے دو ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

’سستا پیٹرول، ڈیزل سکیم‘، 40 ہزار سے کم آمدن والوں کو دو ہزار ماہانہ دینے کا اعلان

تفصیلات کے مطابق وزیرمملکت ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم سستاپیٹرول سستا ڈیزل سکیم کے تحت ایک کروڑ40 لاکھ پاکستانی گھرانوں کوماہانہ دوہزارروپے وظیفہ دیا جائے گا، سکیم سے 8 کروڑ 40لاکھ افراد یا ایک تہائی آبادی مستفید ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جون تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کامعاہدہ ہوجائے گا، اس کے بعد پاکستان کونئی قسط ملے گی، ہم سیاسی دباؤ کاسامنا کریں گے اوروہ فیصلے کریں گے جوملک اورقوم کے مفادمیں ہوں، نئے مالی سال کابجٹ 10 جون کوپیش کیاجائے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیرعظم نے گزشتہ رات قوم سے خطاب میں جواعلانات کئے ہیں ان سے ملک کے غریب اورکم آمدنی رکھنے والے طبقات کوفائدہ پہنچے گا ، یہ حقیقت ہے کہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھانے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا لیکن اگرایسا نہ کرتے توروپیہ کی قدرمزیدگرجاتی  اورملک اورمعیشت کانقصان ہوتا،مشکل اورسخت فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں کیاہے ، اس فیصلے سے روپیہ کی قدرپراچھا اثرپڑا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی آئی ہے ، اس سے لیکویڈیٹی کادباؤ کم ہوجائے گا۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ غریب پروری وزیراعظم شہبازشریف کی روایت ہے، سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کاجوطوفان آیاہے اس کے تدارک کیلئے حکومت سے جوکچھ ہوگا وہ کرے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ  مئی میں پیٹرول بڑھایا ہے، مناسب نہیں ہوگا کہ چند دن بعد پھر بڑھا دیا جائے، مجھے نہیں لگتا ہے پیٹرول کی قیمت میں یکم جون کو اضافہ ہوگا، بجلی کی قیمت بڑھانے کی کوئی سمری ہمارے پاس نہیں آئی ، اس بار آئی ایم ایف سے نجکاری پر بات نہیں ہوئی۔

مفتاح اسماعیل  نے کہا کہ وزیراعظم سستاپیٹرول سستاڈیزل سکیم کے تحت ایک کروڑ40 لاکھ پاکستانی گھرانوں کوماہانہ دوہزارروپے وظیفہ دیا جائے گا، یہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام سے حاصل معاونت سے اضافی ہوگا، اس سکیم سے 8 کروڑ 40لاکھ افراد یا ایک تہائی آبادی مستفید ہو گی۔

اس سکیم کی لاگت 28ارب روپے ہے، اس سکیم سے 73لاکھ وہ گھرانے جو بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہیں، مستفید ہوں گے اس کے علاوہ 67لاکھ وہ گھرانے بھی شامل ہیں جوبی آئی ایس پی میں شامل تونہیں مگر ان کا پاورٹی کاسکور37 سے کم ہے، ایسے گھرانے ٹیلی فون نمبر786 پراپنا شناختی کارڈ نمبرارسال کرکے یہ امداد حاصل کرسکیں گے، اس میں گھرانوں کی سربراہ خواتین اوربیواوں کوترجیح دی جائے گی۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان بیوروبرائے شماریات کے مطابق پاکستان میں ایک گھرانہ اپنی آمدنی کا 5 فیصد ٹرانسپورٹ پرخرچ کرتا ہے اسی پیمانہ کے مطابق آمدنی کے پانچ فیصد کے مطابق امداد دی جائے گی،اس سکیم کوآئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیاجائے گا۔انہوں نے سکیم میں معاونت فراہم کرنے پرڈاکٹرشازیہ مری اورسیکرٹری بی آئی ایس پی کاشکریہ اداکیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے کہ وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینےکی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا ایک لازم امر ہے، عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دے دی گئی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کسے جج بنانا ہے کسے نہیں، تاثر یہ ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کے لیے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا کہ اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کریں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمے داری ہمیں سونپی ہے، عدلیہ کو ججز تقرر کی ذمے داری آئین کے تحت ادا کرنا ہو گی، پاکستان کے عوام کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll