جی این این سوشل

تجارت

قومی ایئرلائن کا پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ہفتہ وار 63 پروازیں آپریٹ کرنے کا فیصلہ

دبئی اور دبئی سے فیصل آباد کیلئے ہفتہ وار دو پروازیں ہوں گی،کوئٹہ سے دبئی اور دبئی سے کوئٹہ کیلئے ہفتہ وارایک پرواز آپریٹ ہوگی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

قومی ایئرلائن کا پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ہفتہ وار 63 پروازیں آپریٹ کرنے کا فیصلہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 اسلام آباد : قومی ایئرلائن(پی آئی اے) نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات(یو اے ای )کے درمیان ہفتہ وار 63پروازیں آپریٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق 14 پروازیں اسلام آباد سے دبئی،شارجہ،ابوظہبی،فجیرہ اور ان شہروں سے واپس اسلام آباد کیلئے آپریٹ ہونگی،

پشاور سے دبئی،شارجہ، ابوظہبی، العین، فجیرہ اور راس الخیمہ کیلئے 17 پروازیں چلائی جائیں گی۔لاہور سے دبئی،شارجہ،ابوظہبی اور ان شہروں سے لاہور واپسی کیلئے ہفتہ وار 10پروازیں ہوں گی، سیالکوٹ سے دبئی، شارجہ، ابوظہبی اور ان شہروں سے سیالکوٹ کیلئے چار پروازیں آپریٹ ہوں گی۔

کراچی سے متحدہ عرب امارات کیلئے ہفتہ وارسات پروازیں چلیں گی جبکہ دبئی، شارجہ اور دیگر شہروں سے ملتان واپسی کیلئے ہفتہ وارپانچ پروازیں آپریٹ ہوں گی۔تربت سے شارجہ اور شارجہ سے تربت واپسی کیلئے ہفتہ وار تین پروازیں چلیں گی،فیصل آباد سے دبئی اور دبئی سے فیصل آباد کیلئے ہفتہ وار دو پروازیں ہوں گی،کوئٹہ سے دبئی اور دبئی سے کوئٹہ کیلئے ہفتہ وارایک پرواز آپریٹ ہوگی۔

پاکستان

لاہور بورڈ؛ 25 مئی کو ملتوی ہونے والے میٹرک کے پیپر کی تاریخ کا اعلان

لاہور بورڈ نے 25 مئی کو لانگ مارچ کی وجہ سے ملتوی ہونے والے میٹرک کے پیپر کی تاریخ کا اعلان کردیا۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

لاہور بورڈ؛ 25 مئی کو ملتوی ہونے والے میٹرک کے پیپر کی تاریخ کا اعلان

لاہور بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ میٹرک مطالعہ پاکستان کا ملتوی ہونے والا پیپر11 جون کو لیا جائے گا ،امیدواروں کو ایک گھنٹہ قبل امتحانی سنٹر پہنچنے کی ہدایت کردی گئی،صبح کی شفٹ میں 8 بجے اور دوپہر کی شفٹ میں 1 بجے پیپر شروع ہوگا۔

یاد رہے کہ مذکورہ پیپر 25 مئی کو لانگ مارچ کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا ، رواں سال اڑھائی دو لاکھ ستر ہزار بچے میٹرک کے امتحان میں شریک ہوئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

بہاولنگر: پتی چوری کے الزام پردکانداروں کیجانب سےخواتین کی سرعام تذلیل

بہاولنگر کے علاقے ہارون آباد کے بازار میں دکانداروں نے خواتین پر مبینہ چوری کا الزام لگا کر  ان کی سرعام تذلیل کی اور خود ہی عدالت لگاتے ہوئے انصاف و قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

بہاولنگر: پتی چوری کے الزام پردکانداروں کیجانب سےخواتین کی سرعام تذلیل

رپورٹ کے مطابق ہارون آباد کے بازار میں دو خواتین کی جانب سے مبینہ طور پر چائےکی پتی کا پیکٹ چوری کرنے پر دکانداروں نے اپنی عدالت لگالی۔

دکاندار خواتین کو ان ہی کے دوپٹے سے باندھ کر بازار میں ننگے سرگھسیٹتے رہے اور انہیں ہراساں کرتے رہے۔

واقعےکی اطلاع پر پولیسں موقع پر تو پہنچی لیکن لیڈیز پولیسں کی عدم موجودگی میں خواتین کو پیدل تھانے لے جایا گیا۔

پولیسں کا کہنا ہےکہ خواتین پر چائے کی پتی کا پیکٹ چوری کرنےکا الزام ہے، معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے کہ وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینےکی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا ایک لازم امر ہے، عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دے دی گئی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کسے جج بنانا ہے کسے نہیں، تاثر یہ ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کے لیے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا کہ اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کریں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمے داری ہمیں سونپی ہے، عدلیہ کو ججز تقرر کی ذمے داری آئین کے تحت ادا کرنا ہو گی، پاکستان کے عوام کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll