Advertisement
پاکستان

مولانا فضل الرحمان دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں:وزیراعظم عمران خان

سوات:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں، ان سے سوال کرتاہوں کہ آپ 30 سال ہر حکومت میں شامل رہے، کیا کبھی کسی مغربی رہنما کے سامنے اسلامو فوبیا کے خلاف بات کی۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Mar 16th 2022, 10:30 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مولانا فضل الرحمان دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں:وزیراعظم عمران خان

سوات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نےکہا ہے کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں لوگ نوٹوں کے بیگ لے کر ضمیر خریدنے بیٹھے ہیں، سندھ کے عوام کا پیسا بوریاں بھر کر آیا ہے، سندھ سے گارڈ بھی لائے ہیں تاکہ کوئی اندر نہ آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے سامنے بے شرمی سے ہمارے لوگوں کو خریدنے آئے ہیں، لوگوں کے ضمیر کی بولی لگائی جارہی ہے ،قوم پر لازم ہے کہ برائی کے خلاف کھڑی ہو، الیکشن کمیشن سے بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آئین میں ہارس ٹریڈنگ کی اجازت ہے؟

عمران خان کا کہنا تھا کہ سب چور ایک طرف ہوگئے ، انھوں نے مجھے موقع دیا اب ایک گیند سے 3 وکٹیں گریں گی،تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کے بچے باہر بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں ہم پاکستانی شہری نہیں،ملک کی باہر سے جائیداد کی ایک رسید نہیں دکھاپائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا منشی اسحاق ڈار سوٹ پہن کر ان کو کہتا ہےکہ میں بھی آپ کی طرح ہوں میں بھی انگلش بولتا ہوں، جب عدالت پوچھتی ہے کہ پیسا کہاں سے آیا تو شہبازشریف کی کمر میں درد ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ  قوم اسلام آباد پہنچ کر دنیا کو بتائے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں، قوم دنیا کو بتائے کہ ہم نے چورں کے خلاف کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ڈر ہے کہ عمران خان تھوڑی دیر اور رہ گیا تو یہ جیل جائیں گے، اگر یہ لوگ کامیاب ہوگئے تو سب سے پہلا کام نیب کو ختم کرنا ہوگا، میرے شکار کے لیے 3 چوہے نکلے ہیں ، میں ان تینوں کا شکار کروں گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 100 گیدڑوں کی قوم جس کا سردار شیر ہو وہ قوم جیت جائےگی اور 100 شیروں کی قوم جس کا لیڈر نواز شریف جیسا ہو وہ نہیں جیتےگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جسے یہودی کہتے تھے اس نے وہ کام کیا جو آپ30 سال میں نہ کرسکے،  یہ مدرسے کے بچوں کو میرے خلاف نکالتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ یہودی لابی ہے، آج اقوام متحدہ نے تسلیم کیا کہ دنیا کو اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔

Advertisement
Advertisement