مسلم ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے ، شاہ محمود قریشی کا او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ہم اس اجلاس میں کشمیرکے معاملے کو بھی اجاگر کریں گے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ممالک میں مسلسل بیرونی مداخلتوں کی وجہ سے امت مسلمہ کی ناراضی بڑھ رہی ہے اور غیرملکی مداخلت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے 48ویں سیشن میں شریک وزرائے خارجہ، سربراہان مملکت اور عرب ممالک کے اعلیٰ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا جس کا عنوان ’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2022 میں اس اجلاس کی میزبانی کرنا ہمارے ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی آزادی کے 75سال بھی مکمل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی اجلاس کے چیئر کی حیثیت سے سعودی عرب کو سراہتے ہیں اور اجلاس کے انعقاد کے لیے کردار ادا کرنے پر او آئی سی سیکریٹریٹ کے بھی شکرگزار ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگلے دو دن ہم دوستی اور بھائی چارے کی اسلامی اقدار کے تحت کام کریں گے، او آئی سی دنیا کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی مشترکہ آواز ہے، یہ مسلمان اقوام اور عالمی برادری کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ میں یکجہتی اور تعاون کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور او آئی سی چیئر کی حیثیت سے پاکستان کی کوشش ہو گی کہ وہ اس پُل کے کردار کو مستحکم کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل دسمبر میں او آئی سی وزرائے خارجہ افغانستان پر بلائے گئے غیرمعمولی اجلاس میں ملاقات کی تھی جس میں ہم نے افغانستان کے حوالے سے کچھ تاریخی اور ٹھوس فیصلے کیے تھے، ہم نے انسانی بنیادوں پر او آئی سی ٹرسٹ فنڈ کے قیام پر اتفاق کیا تھا اور افغانستان فوڈ سیکیورٹی پروگرام کا آغاز بھی کیا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیامے میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں ہم نے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا تھا اور آج میں امت مسلمہ کو یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہوں کہ او آئی سی میں ہمارے اتحاد کی بدولت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15مارچ کو باضابطہ طور پر اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس اہم معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور اس دن کو منانے کی بدولت او آئی سی عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے حوالے سے آگاہی بیدار کر سکے گی اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے اس کے حل بھی پیش کر سکے گی۔
انہوں نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی سطح پر بے مثال ہنگامہ خیز حالات دیکھ رہے ہیں، یوکرین میں تنازع نے مشرق و مغرب میں کشیدگی کو دوبارہ جنم دیا ہے جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے جبکہ اسلحے کی ایک نئی اور غیرمستحکم عالمی دوڑ جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور فوجی دھڑے عالمی استحکام کو داؤ پر لگا کر مزید طاقت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور ٹیکنالوجی کی جنگوں کے اس بوجھ سے عالمی تجارت اور ترقی میں کمی آرہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کو مشرق وسطیٰ میں تنازعات، طویل غیر ملکی قبضے بالخصوص فلسطین اور کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مسلم ممالک میں مسلسل بیرونی مداخلتوں کی وجہ سے امت مسلمہ کی ناراضی بڑھ رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ تنازعات ہمارے اتحاد و یکجہتی کو کمزور کرتے ہیں، ہمارے ممالک میں غیرملکی مداخلت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے جبکہ ہمارے ترقیاتی اہداف اور عوام کی فلاح و بہبود سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔
انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تین نکاتی حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے موجودہ چیلنجوں اور تنازعات سے نمٹنے کے لیے امت میں اتحاد کے لیے شراکت داری، قبضے کے تحت مسلمانوں کے حقوق کے لیے انصاف کے لیے اتحاد اور کووڈ 19، ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے شراکت داری کی جائے۔
اس موقع پر انہوں نے مسلمان ممالک کو درپیش مشکلات اور تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ یمن سے شام اور شام سے ساحل تک دنیا کے 60فیصد تنازعات اس مسلمان ممالک میں ہیں جبکہ دنیا کے دو تہائی مہاجرین پانچ ممالک افغانستان، شام، جنوبی سوڈان، میانمار اور صومالیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے مسلمان ممالک کو بیرونی مداخلت سے پاک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی چیلنجز کا حل صرف ہم خود نکال سکتے ہیں اور ان تنازعات کا خاتمہ مسلمان ممالک میں جامع تعاون اور روابط کے ذریعے ممکن ہے۔
وزیر خارجہ نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے مصائب و آلام کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان تنازعات کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔
او آئی سی کی لائیو کوریج دیکھنے کے لیے کلک کریں :

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 14 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 13 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 7 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 8 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 8 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 7 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 12 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 14 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 12 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 13 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 13 hours ago

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 11 hours ago









