Advertisement

الاسکا مذاکرات ، چین اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

الاسکا : جو بائیڈن انتظامیہ اور چین کے درمیان پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی مذاکرات ہو رہے ہیں جس دونوں ممالک کے اعلی ٰ حکام کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 20th 2021, 2:30 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

غیر ملکی خبررساں ادار ےکے مطابق الاسکا میں ہونے والے ان مذاکرات میں چینی حکام نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ دیگر ممالک کو ’چین پر حملہ کرنے کے لیے‘ اُکسا رہا ہے جبکہ امریکہ نے اس کے جواب میں  کہا کہ چین ’دکھاوے کے لیے ذہن بنا کر‘ آیا تھا۔  امریکی عہدیداروں نے چین کو اہم امور پر توجہ نہ دینے کا بھی  الزام عائد کیا ہے۔ دونوں سپرپاورز کے درمیان تعلقات کئی برس کی کشیدہ ترین سطح پر ہیں۔

اس سخت تناؤ بھرے ماحول میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ کی جانب سے وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان شریک تھے جبکہ چین کی نمائندگی وہاں کے سب سے سینیئر خارجہ پالیسی اہلکار یینگ جیچی اور وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کی۔ اجلاس میں لنکن نے سخت ابتدائی بیان میں کہا کہ امریکہ چین سے سنکیانگ، ہانگ کانگ، تائیوان میں اس کے اقدامات، امریکہ پر سائبر حملوں اور ہمارے اتحادیوں پر اقتصادی دباؤ کے حوالے سے گہرے خدشات پر بحث کرے گا۔ اُن کاکہنا تھا  کہ ’ان میں سے ہر ایک اقدام عالمی استحکام برقرار رکھنے والے ضابطہ نظام کے لیے خطرہ ہے۔

اس کے جواب میں چینی عہدیداروں  نے واشنگٹن پر دوسرے ممالک کو دبانے کے لیے اپنی مالیاتی برتری اور فوجی طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا۔ مسٹر یینگ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہے اور سیاہ فام امریکیوں کو ’ذبح‘ کیا جا رہا ہے۔

چین ٹرمپ کے دورحکومت میں دو طرفہ تعلقات میں شدید ترین خرابی کے بعد اب تعلقات میں  بحالی کی خواہش رکھتا ہے ۔

Advertisement