لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کہ عوام مہنگائی میں پسے ہوئے ہیں، بیروزگاری ہے ، ہم نے پیٹرول سے متعلق فیصلہ دل پر پتھر رکھ کرکیا۔


تفصیلات کے مطابق لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور کاروبار ، نوکریاں نہیں ہیں ، غریب خاندان رُ ل گئے ہیں ، ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں اور ان کے پاس دوائی اور علاج کرانے کے پیسے نہیں ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ قومی خزانے سے ماہانہ اٹھائیس ارب خرچ کر کے کروڑوں خاندانوں کو سبسڈی دی ہے، سوا کروڑ مستحق خاندانوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے پٹرول پر سبسڈی دی جائے گی ۔
یوم تکبیر کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت نواز شریف نے کسی کو دھمکیاں نہیں دی تھیں اور نہ ہی بڑے ممالک کے سربراہوں سے تلخ لہجے میں بات کی تھی ، امریکی صدر سے نواز شریف نے بڑے اچھے انداز میں بات کی تھی، انہوں نے کہا تھا آپ کے 5 ارب ڈالر کی پیشکش کا بہت شکریہ۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کہا تھا ان شا اللّٰہ ہم زندہ رہیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا تھا مجھے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
دوسری جانب منی لانڈرنگ کی کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ میں صوبے کا خادم رہا ہوں ، سرکاری خزانے سےتنخواہ لی نہ کبھی ٹی اے ڈی اے لیا، پیٹرول بھی خود ڈلواتا تھا جب کہ تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے کی رقم 7، 8 کروڑ بنتی تھی جو میرا قانونی حق تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نےتو شوگرملزکو سبسڈی نہیں دی، جس سے میرے خاندان کو 2 ارب کا نقصان ہوا، اس کیس میں مجھ پر 25 ،25 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام لگائے گئے، ایک طرف تو میں اربوں روپے کا اپنے خاندان کی ملوں کو نقصان پہنچاؤں؟ کیا دوسری جانب میں 25 ،25 لاکھ روپے حرام کھاؤں گا؟
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت سے واپسی کی اجازت طلب کی جس پر عدالت نے انہیں اور حمزہ شہباز کو جانے کی اجازت دے دی ۔ عدالت کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 4 جون تک توسیع کردی ، عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔
منی لانڈرنگ کیس
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، کرپشن کی روک تھام ایکٹ اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو شوگر اسکینڈل میں منی لانڈرنگ کے کیس کا سامنا ہے۔
شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو ان کی آمدنی کے نامعلوم ذرائع سے مال جمع کرنے میں مدد دی۔
ایف آئی اے نے 13 دسمبر 2021 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کے خلاف 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ عدالت میں جمع کروایا تھا اور دنوں کو مرکزی ملزم نامزد کر دیا تھا۔
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 2 گھنٹے قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 3 گھنٹے قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 3 گھنٹے قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 3 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 3 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 3 دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 3 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 2 دن قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 2 گھنٹے قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 3 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 3 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 3 دن قبل


