اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خشک سالی سے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے پانی محفوظ کرنے کے ذرائع میں اضافہ کرکے نمٹا جاسکتا ہے ۔


صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صحرا اور خشک سالی سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان خشک سالی سے نمٹنے کیلئے متعدد اقدامات کر رہاہے ، ہمیں اپنے تحفظ خوراک کو یقینی بنانے کے لئے پوری دنیا بالخصوص علاقائی ممالک کے ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
صدر نے کہا کہ رواں سال صحرا اور خشک سالی کےدن کا موضوع قحط سے مل کرنمٹنا ہے ۔ اس سے خشک سالی کے شکار ممالک کومتحد ہونے کے لیے ایک مضبوط پیغام ملےگا، یہ گھرانوں، برادریوں، نجی شعبے اور ممالک کو خشک سالی کے فوری اثرات سے نمٹنے اور طویل مدتی ہمت پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنے کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں، زمینی انحطاط، جنگلات کی کٹائی، اور کھیتوں اور گھاس کے میدانوں کے زیادہ استحصال کی وجہ سے وقفے وقفے سے کم اور غیر متوقع بارشوں کا سامنا کر رہے ہیں جو فصلوں میں کمی، پانی کے دباؤ، زمینی انحطاط اورکم شرح نمو کی وجہ ہے۔
صدرمملکت نے کہا کہ خشک سالی کے اثرات کو پانی کے وسائل میں اضافہ کر کے کم کیا جا سکتا ہے جیسے چھوٹے ڈیم، تالاب اور کنوئیں، پانی کی مناسب تقسیم، چراگاہوں کی بحالی ، شجرکاری کے ذریعے مٹی کے پانی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بحال کرنا، دریا کے کناروں کی حفاظت، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کی طرف منتقل ہونا اورکمزور چراگاہوں سے ریوڑ کی نقل مکانی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں وفاقی اور صوبائی سطح پر خشک سالی سے نمٹنے کے لئے مضبوط پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے ، خشک سالی سے نمٹنے کیلئے منظم و مربوط ایکشن پلان شروع کرنا ہوگا ، خشک سالی سے نمٹنے کی جامع حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا، زمینی پانی میں دوبارہ اضافہ کے ذریعے پانی کی حفاظت کو بہتر بنانا ہوگا ، پانی کے مزید ذخائر بنانا ہوں گے، پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اور ملک بھر میں جنگلات کے رقبے کو بڑھانا ہوگا۔
صدرمملکت نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بہت سے شعبوں میں کام کر رہا ہے جس میں صحرائی اور خشک سالی کے شکار علاقوں میں 10 لاکھ ہیکٹر رقبے پر 3.29 ارب پودے لگانے کے قومی سطح کے پروگرام کا نفاذ شامل ہے ۔ قدرتی نباتات اور حیوانات کے تحفظ کے لیے محفوظ علاقہ اقدام اور 2030 تک رضاکارانہ لینڈ ڈیگریڈیشن نیوٹرلٹی (ایل ڈی این) کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا تحفظ خوراک یقینی بنانے ، دنیا کو خشک سالی سے بچانے کے لیے علاقائی ممالک بالخصوص اور باقی دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

گوگل نےپرسنلائزڈ انٹیلی جنس فیچر کو گوگل سرچ کے آئی موڈ کا حصہ بنا دیا
- 19 گھنٹے قبل

مری میں برفباری ، اب تک ڈیڑھ فٹ برف ریکارڈ،محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیشگوئی
- 19 گھنٹے قبل

محسن نقوی سے صومالی وزیر داخلہ کی ملاقات، دہشت گردی ،انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
- 18 گھنٹے قبل

پاک فوج کی برف باری کے دوران کالام، مہمند اور تیراہ میں پھنسے شہریوں اور سیاحوں کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری
- 16 گھنٹے قبل

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد سمیت متعدد اہم بلز منظور،اپوزیشن کا شورشرابہ
- 16 گھنٹے قبل

مراد علی شاہ کاہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دینے اورپلازہ کی تعمیر کا اعلان
- 18 گھنٹے قبل

چترال: گھر پر برفانی تودہ گرنے سےایک خاندان کے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
- 16 گھنٹے قبل

بسنت کو محفوظ بنانے کے لیےپنجاب حکومت کا مانیٹرینگ سمیت ہر لحاظ سے جامع پلان تیار
- 16 گھنٹے قبل

اہم پی ٹی آئی رہنما کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان
- 13 گھنٹے قبل

متنازعہ ٹویٹ کیس :پولیس نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی گرفتار کر لیا
- 19 گھنٹے قبل

پاکستان کا شام کی وحدت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کا مطالبہ
- 19 گھنٹے قبل

تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی مشاورت سے ہورہا ہے، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ
- 13 گھنٹے قبل







.jpg&w=3840&q=75)