جوہری طاقت سے چلنے والا ایک فلائنگ ہوٹل جو کبھی بھی لینڈ نہیں کریگا ،


جی ہاں یہ ہوٹل جس کا نام 'اسکائی کروز' رکھاگیا ہے ۔ یہ 5000 سے زیادہ مہمانوں کو پرواز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ فلائنگ ہوٹل کا ڈیمو ورژن وائرل ہو گیا، جس کو دیکھ کر دنیا بھر میں لوگ حیران ہوگئے گئے۔ یہ دنیا میں اس طرح کا پہلا تصور ہے۔
اڑنے والے ہوٹل میں جوہری توانائی سے چلنے والے 20 انجن ہوں گے اور یہ طے شدہ سفر کے دوران ہمیشہ ہوا میں رہے گا۔ جمبو طیارے میں ایک والٹ ہوگا جو مہمانوں کو آسمان کا 360 ڈگری منظر پیش کرے گا۔ اس میں ایک پرتعیش تفریحی ڈیک بھی شامل ہو گا جو تفریحی سرگرمیوں کے لیے تمام سہولیات فراہم کرے گا۔
اے آئی پائلٹ والے طیارے میں 5000 سے زیادہ مہمانوں کو لے جانے کی صلاحیت ہوگی۔ اسے یمنی پروڈیوسر ہاشم الغیلی نے ڈیزائن کیا ہے۔ فلائنگ ہوٹل کے آغاز کی تاریخ کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔
فلائینگ ہوٹل کے دس اہم حقائق
1. اسکائی کروز ایک مستقبل کا اسکائی ہوٹل ہے جس کا مقصد اپنے مہمانوں کو سفر کا حتمی تجربہ فراہم کرنا ہے۔
2. جوہری توانائی سے چلنے والا ہوٹل بادلوں کے اوپر معلق رہے گا اور اپنے کروز شیڈول کے دوران کبھی نہیں اترے گا، حتیٰ کہ مرمت بھی پرواز کے اندر ہی کی جائے گی۔
3. فلائنگ ہوٹل اتنا بڑا ہے کہ 5000 سے زیادہ مہمانوں کو ٹھہرا سکتے ہیں۔
4. اس کا ڈیزائن تجارتی طیارے کی خصوصیات کو یکجا کرکے بنایا گیا ہے جبکہ یہ مہمانوں کے عیش و آرام کا مظہر ہے۔
5. اس میں ایک بڑا ہال ہے جو مہمانوں کو آسمان کا 360 ڈگری منظر پیش کرے گا۔
6. اس میں ایک لفٹ بھی شامل ہے جو پینورامک ہال کو مرکزی تفریحی ڈیک سے جوڑتی ہے۔
7. مرکزی تفریحی ڈیک میں شاپنگ مالز، اسپورٹس سینٹر، سوئمنگ پول، ریستوراں، بچوں کے لیے کھیل کے میدان، تھیٹر اور سینما شامل ہیں۔
8. اس میں تقریبات اور کاروباری میٹنگز کے انعقاد کے لیے ایک الگ سیکشن بھی ہے۔
9. اس میں ایک شادی ہال بھی شامل ہے جو شادی کی میزبانی کر سکتا ہے۔
10. اڑنے والے ہوٹل کے 20 الیکٹرک انجن صرف صاف جوہری توانائی سے چلتے ہیں۔
اہمیت
فلائنگ ہوٹل ہوائی سفر میں ایک بڑا سنگ میل ہوگا اور افسانے کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش ہے۔ اس کی باضابطہ لانچ کی تاریخ کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 3 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 9 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 7 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 9 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 9 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 8 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 3 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 9 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 8 hours ago

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 7 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 3 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 3 hours ago









