جی این این سوشل

پاکستان

ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے ،فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم ناقابل قبول ہے:چودھری شجاعت

لاہور:سربراہ مسلم لیگ ق چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے لیکن فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے ،فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم ناقابل قبول  ہے:چودھری شجاعت
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اپنے ایک بیان میں چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پاک فوج نےہرآفت،مصیبت اور مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی، امن وامان کی بحالی،دہشتگردی کے خاتمے میں فوج نے اہم کردارادا کیا، قربانیاں دیں،

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے اہلخانہ کے غم اور دکھ میں پوری قوم برابر کی شریک ہے، سیاستدان مصلحتوں کو نظر انداز کر کے فوج کےساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے لیکن فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے، سیاستدان سیاسی معاملات، مصلحتیں پس پشت رکھ کر پروپیگنڈا مہم ناکام بنائیں، اور فوج کی مکمل سپورٹ کریں۔

پاکستان

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

حکومتی اراکین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران بائیکاٹ کر دیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت عارف علوی کا خطاب جاری تھا کہ اس دوران حکومتی اراکین نے شور شرابا کیا، بعدازاں واک آؤٹ کر گئے۔ صدر کے خطاب کے دوران حکومتی بنچز تقریباً خالی ہوگئے۔

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

اس دوران ایوان میں پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایم این اے یا سینیٹر موجود نہیں تھا تاہم پی ٹی آئی کے چند منحرف اراکین ایوان میں موجود تھے۔

ارکان پارلیمنٹ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کو نہیں مانتے اس لیے بائیکاٹ کیا، مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی کر رہےہیں،انہیں بھی نہیں مانتے.

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ن بھی صدر مملکت کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یہ وہ صدر ہیں جنہوں نے آئین توڑا، عارف علوی نے اس اسمبلی کو بھی تحلیل کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں : وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر سازش کا تانا بانا ہم سے ملے تو ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ عمران نیازی پاکستان کا سب سے جھوٹا وزیر اعظم ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں : وزیر اعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں اور اگر آڈیو لیک کرنی ہوتی تو ہم اپنی کیوں کراتے ؟

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر دیا تھا اور صدر نے 20 منٹ میں اسمبلی توڑنے کی سمری منظور کی۔ ہماری سمریاں صدر مملکت کے پاس مہینوں پڑی رہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے گئے جس کا کوئی سر تھا نہ پیر اور عمران خان نے ملک کے ساتھ سازش کی۔ آڈیو لیک میں عمران خان نے کہا کہ ہم نے کھیلنا ہے امریکہ کا نام نہیں لینا۔ انہوں نے قوم کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سازش کا تانا بانا ہم سے ملے تو ہم سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں لیکن آج اس سازش کاتانا بانا عمران خان کے ساتھ مل چکا ہے۔ سازشی ٹولے نے کہا کہ سائفر کے منٹس ہم اپنی مرضی سے بنائیں گے جبکہ عمران خان اور اس کے حواریوں نے ملک کا وقت برباد کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کے اعتماد کے ساتھ کھیلا گیا اور اتحادی حکومت پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ سائفر کے معاملے پر قوم اور ملک کے ساتھ بدترین بددیانتی کی گئی اور ملکی سالمیت کے ساتھ کھیلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سازشی ٹولہ کہہ رہا ہے کہ منٹس ہم بنائیں گے۔ سنگین واردات کی گئی اور کھیل کھیلا گیا لیکن اس سازش کا دور دور تک اس سائفر سے تعلق نہیں۔ یہ بھیانک واقعہ جو پاکستان کے ساتھ پیش آیا جس کی ذمہ داری عمران ٹولہ پر ہو گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ تقریبا 100 ارب روپیہ وفاقی خزانہ سیلاب متاثرین پر خرچ کر چکا ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وفاقی حکومت 70 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ مخیر حضرات کو بھی سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے اور سب اپنے اختلافات بھلا کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔

انہوں نے عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پتھر دل انسان ہے اور انسانوں کے لیے اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے جس طرح سیلاب متاثرین کا مقدمہ لڑا میں نہیں لڑ سکتا۔ امریکہ اور چین نے بھی سیلاب متاثرین کے لیے امداد دی لیکن عمران خان نے خارجہ امور میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے، عمران خان سر سے پاؤں تک فراڈیہ ہے اور عمران خان قوم کو تنہائی میں لے کر گیا جبکہ عمران خان نے فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جبکہ پاک فوج نے دہشت گری کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں۔ عمران خان نے پاک فوج کے لیے نیوٹرل، چوکیدار اور کیا کیا الفاظ استعمال نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ سائفر ڈی کوڈ نہیں ہو سکتا، اگر ہوتا تو دوست ممالک سے رابطوں کی دستاویز لیک ہو جائیں۔ وزیراعظم کی سائفر کاپی غائب کر دی گئی اور آڈیو ہر چیز بتا رہی ہے اس کے بعد اور کیا ثبوت چاہیئیں۔ مریم نواز کو عدالت عالیہ نے کلین چٹ دی ہے جبکہ مریم نواز اپنے والد کے ساتھ نیب عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 4 سال سے بتا رہا تھا کہ عمران خان جھوٹا ترین شخص ہے اور عمران خان کو اپنا چہرہ شیشوں میں دیکھنا چاہیئے۔ کیا ان کی ہمشیرہ کو این آر او میں نے دیا تھا؟ ان کی اپنی حکومت کے دوران ایف بی آر نے علیمہ خان کو این آر او دیا تھا۔ علیمہ خان کے نیویارک اور دبئی میں اثاثے تھے جو ڈیکلیئر نہیں تھے اور چینی کے اسکینڈل میں این آر او تو میں نے نہیں دیا جبکہ چینی اسکینڈل تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے جس میں 50 ارب روپے کا ڈاکا ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے کیس کا نیب ترمیم سے کوئی تعلق نہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کا تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکا عمران خان نے ڈالا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا کیس میں تسلیم کیا گیا غلطی ہوئی، نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں، چیف جسٹس

 

وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے دلائل دئیے کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے، اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔

وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے، امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے جواب دیا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے دلائل دئیے کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر نااہل قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ جھوٹا حلف نامہ جمع کراوانے کے مرتکب ہوئے۔ فیصل واوڈا سنہ 2018 کا الیکشن لڑنے کے وقت اہلیت نہیں رکھتے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll