جی این این سوشل

پاکستان

گلگت بلتستان میں سیلاب سے 7 ہزار ملین سے زائد کا نقصان

گلگت بلتستان میں سیلاب سے اب تک 7406 ملین کے نقصانات ہوئے چکے ہیں جبکہ مختلف واقعات میں 17 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

گلگت بلتستان میں سیلاب سے 7 ہزار ملین سے زائد  کا نقصان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب تک سیلاب سے مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اتھارٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے 22 پاور ہاؤسز کو نقصان پہنچا جس میں سے 19 عارضی طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔

جاری اعداد و شمار کے مطابق 49 سڑکوں کو نقصان پہنچا جن میں سے 41 عارضی طور پر بحال کردی گئیں، پینے کے پانی کی 78 سپلائیز کو نقصان پہنچا جن میں سے 65 عارضی طور پر بحال کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ 500 آب پاشی کے چینلز اور 56 پلوں کو نقصان پہنچا جن میں سے اکثر کو عارضی طور پر بحال کیا جا چکا ہے، سیلاب سے مجموعی طور پر 7406 ملین کے نقصانات ہوئے ہیں۔

پاکستان

پاک انگلینڈ کرکٹ میچ:پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

راولپنڈی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچز سے متعلق ٹریفک اور پارکنگ پلان جاری کردیا گیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاک انگلینڈ کرکٹ میچ:پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

ٹریفک پولیس کے مطابق میچز کے دوران ٹریفک پولیس کے 432 اہلکار تعینات ہوں گے۔

ٹریفک پولیس کے جاری کیے گئے پلان کے مطابق پہلی پارکنگ سی اے اے گراﺅنڈ اور دوسری گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز ففتھ روڈ پر ہوگی۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ کو پارکنگ اسٹینڈ سے اسٹیڈیم تک شٹل سروس مہیا کی جائے گی۔

کرکٹ ٹیموں کی آمد اور روانگی پر فیض آباد سے ڈبل روڈ تک مری روڈ بند ہوگا جبکہ دوران میچ اسٹیڈیم روڈ کو دونوں اطراف سے مکمل بند رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ راولپنڈی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے یکم دسمبر کی تاریخ طے ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 میں کرانے کا فیصلہ

پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی معیاد یکم جنوری 2022 کو ختم ہو چکی ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی اجلاس میں بریفنگ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 میں کرانے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 کے آخری ہفتے میں کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اجلاس میں بریفنگ دی،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی معیاد یکم جنوری 2022 کو ختم ہو چکی ہے۔ 

الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے دو بار حلقہ بندیوں کا کام کرنا پڑا،دو بار بلدیاتی قوانین کو تبدیل کیا گیا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 کے آخری ہفتے میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سماعت ہوئی،اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن اور چیف سیکرٹری پنجاب الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

اسپیشل سیکرٹری نے بتایا کہ پنجاب میں دو بار حلقہ بندیاں کیں،اب تیسری بار کرنا ہوں گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب میں تیسری بار بلدیاتی حلقہ بندیاں کرانا مذاق نہیں،پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن ہو سکتے ہیں تو شیڈول جاری کریں،کوئی حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی۔ چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری الیکشن کمیش کو ہدایت کی کہ آپ دوبارہ سپریم کورٹ کو خط لکھیں،اب الیکشن کمیشن چیف سیکرٹری کو ہدایت کرے گا اور آرڈر پاس کریں گے۔ 

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی نے نیا بل منظور کر لیا۔نئے قانون کے مطابق چلیں ہم ٹائم لائن کو فالو کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے الیکشن ای وی ایم پر ہو سکتے ہیں؟آپ جان بوجھ کر ای وی ایم ڈال رہے ہیں کہ مسئلہ بنے۔آپ نے قانون میں رکاوٹ ڈالی لیکن ہمیں پتا ہے اسے کیسے کھولنا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سود کا کاروبار کرنے والے اداروں کا بائیکاٹ کریں، مفتی تقی عثمانی

کراچی: مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ عوام سود کا کاروبار کرنے والے اداروں کا بائیکاٹ کریں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سود کا کاروبار کرنے والے اداروں کا بائیکاٹ کریں، مفتی تقی عثمانی

 

مفتی تقی عثمانی نے سود کے خاتمے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سود کے خاتمے سے متعلق عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور سفارشی کمیشن کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارشات پر عمل درآمد کے لیے بااختیار ٹاسک فورس کی ضرورت ہے اور عوام سود کا کاروبار کرنے والے اداروں کا بائیکاٹ کریں۔ نظریاتی اختلافات کا دائرہ علمی حلقوں تک محدود ہونا چاہیے۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سود کو ختم کرنے کے لیے متفقہ آواز اٹھانی ہے جبکہ حکومت کو سود کے خاتمے کے لیے عملی کوششیں کرنی چاہیئیں اور بلاسود بینکاری کو عملی طور پر لاگو کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فورم سود کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے اور سود کے خاتمے کے خلاف اپیلیں واپس نہ لینے والے بینکوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ملک کی 3عدالتیں سود کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ وزارت خزانہ میں غیر سودی نظام کے لیے ڈویژن قائم کیا جائے اور وزارت خزانہ میں سود کے خاتمے کے لیے ٹاسک فورس بنائی جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll