وزیرخارجہ کا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کامطالبہ
نیویارک : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کامطالبہ کیا ہے۔


نیو یارک میں خارجہ تعلقات کی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی انصاف چاہتا ہے کیونکہ دنیا میں کاربن کے کل اخراج میں پاکستان کاحصہ اعشاریہ آٹھ فیصد ہے ، سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے ، یہ تباہی سندھ کے دادو، بلوچستان کے نصیرآباد، جنوبی پنجاب کے ڈیرہ غازی خان اور خیبرپختونخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان کے بسنے والوں کی غلطی کی وجہ سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے ہوئی ۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات نے ہر بحران کی طرح درحقیقت ایک موقع بھی پیش کیا ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی کر کے اپنے آپ کو ان بڑھتی ہوئی موسمیاتی تباہیوں کے مطابق ڈھال سکیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اچانک کرہ ارض پر موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ شکار 10 ممالک میں 8 ویں نمبر پر ہے، اگست کے آخر سے شروع ہونے والی بارشوں سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ سیلاب میں ڈوب گیا، اس سے 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے جبکہ اب کھڑے پانی کی وجہ سے ملیریا سمیت پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، اس سے نمٹنے کیلئے عالمی ادارہ صحت سمیت عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔
وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان کو معاشی اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے، سیلاب کے دوران 40 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، ہمیں خدشہ ہے کہ دو ماہ بعد گندم کی فصل کی بوائی ممکن نہیں ہوگی۔
وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ بہت مشکل مذاکرات میں تھے اور ابھی اس کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا، اس معاشی ریلیف سے فائدہ اٹھانےکی امید تھی لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کئے گئے تمام معاشی اعدادوشمار اور تخمینے بھی سیلاب میں بہہ گئے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصانات کی لاگت 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے قدرتی آفات کے بعد پاکستان کی مدد کرنے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، دیگر اداروں اور امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لوگوں کی زندگی اور معاش کو منصفانہ طریقے سے دوبارہ بحال کیا جائے، ہر بحران درحقیقت زندگی میں ایک موقع بھی پیش کرتا ہے، ہمیں اپنی زندگیاں، اپنی آبپاشی اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرنو کرنا ہوگی اور اس سے بہتر طریقے سے سرسبز اور موسمیاتی اعتبار سے لچکدار طریقے سے کرنا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان منصوبہ بندی کر سکتا ہے، اپنے آپ کو ان بڑھتی ہوئی موسمیاتی تباہیوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے پاکستان آگے بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد: امام بارگاہ کے باہر خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید، 169 زخمی،وزیراعظم، صدر اظہارافسوس
- 2 گھنٹے قبل

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں پیشرفت، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے نجی شعبہ معاہدوں پر عملدرآمد اہم قرار
- 2 گھنٹے قبل

بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاںاثرات، بدنام زمانہ دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال دئیے
- ایک گھنٹہ قبل

امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث بمبار کی شناخت ہو گئی،ذرائع
- ایک گھنٹہ قبل

آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے کمنڑی پینل کا اعلان کر دیا،پاکستان سے 4 نام شامل
- 6 گھنٹے قبل

کور کمانڈر ملتان کی غازی یونیورسٹی،ڈی جی خان میڈیکل کالج اور میر چاکر یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
- 7 گھنٹے قبل

وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بسنت پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا
- 2 منٹ قبل

لاہور:دودہائیوں بعد بسنت کی واپسی،ہر طرف بو کاٹا کی صدائیں،مریم نواز کی ایس اوپیز پر عمل کرنے کی ہدایات
- 8 گھنٹے قبل

ضلعی انتظامیہ نے 7 فروری کو ایک اور تعطیل کا اعلان کر دیا
- 8 گھنٹے قبل

امریکا، برطانیہ، ایران اور آسٹریلیا کی اسلام آباد میں خودکش دھماکے کی مذمت
- ایک گھنٹہ قبل

بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے پیش نظر کا ایران کا طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ
- 8 گھنٹے قبل

پرائیڈ آف پرفارمنس آرٹسٹ عماد صمدانی لاہور میں انتقال کرگئے
- 2 گھنٹے قبل






