نیویارک : وزیراعظم محمد شہباز شریف آج جمعہ کو اقوام متحد کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں وہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائیں گے اور سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی امداد کی اپیل بھی کریں گے۔


تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے چوتھے روز اعلیٰ سطح کے مباحثہ میں 12ویں سپیکر ہوں گے ۔ 193 ممبر اسمبلی میں اب تک 140 عالمی رہنما حصہ لے چکے ہیں ۔ کوویڈ 19 کے بعد جنرل اسمبلی کا یہ پہلا اجلاس ہے جس میں عالمی لیڈر بنفس نفیس شریک ہو رہے ہیں۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف ممالک کے لیڈروں سے ملاقات کی اور انہیں سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالہ سے آگاہ کیا جس سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا ، انسانی جانوں، انفرسٹرکچر، لائیو سٹاک اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے ایک جاری ویڈیو بیان میں کہاکہ پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور سیلاب سے ہونے والی تباہی دنیا کے سامنے واضح ہے، اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ کچھ عالمی رہنمائوں نے ہنگامی بنیادوں پر عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کی اپیل کی ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کو جنرل اسمبلی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے عالمی رہنمائوں کو بتایا کہ پاکستان نہ صرف سیلابی پانی میں ڈوب رہا ہے بلکہ وہ قرضوں میں بھی ڈوب رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی رہنمائوں کے ساتھ ملاقات میں بتایا کہ ہم سب نے پاکستان میں انتہائی خوفناک تصویر دیکھی ہے۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ابھی بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، اسے مدد کی ضرورت ہے ۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی برادری سے پاکستان کے عوام کی مدد کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک انتہائی تکلیف دہ وقت سے گزر رہا ہے۔
گوتریس کے دورہ پاکستان کے بعد اقوام متحدہ نے پاکستان کو سیلاب سے نمٹنے کیلئے 160 ملین ڈالر کی فلیش اپیل جاری کی تاہم ابھی تک پاکستان کو مکمل طور پر یہ فنڈ نہیں دیا گیا۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی سے خطاب میں سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں سب سے پرانے آئٹمز میں سے ایک تنازعہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیں گے اور اس تنازعہ پر پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحرانوں کے پس منظر میں منعقد ہو رہی ہے۔ تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور کوووڈ -19 نے پوری کرہ ارض میں خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور آبادیوں میں عدم مساوات، غربت اور بھوک کو بڑھا دیا ہے۔

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 11 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 14 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 14 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 7 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 12 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 13 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 7 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 12 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 13 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 7 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 13 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 7 hours ago









