Advertisement
پاکستان

بین الاقوامی برادری نے دیر کی تو بہت بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے : وزیراعظم 

نیویارک : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دنیا کے امیرممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کو قرضوں میں ریلیف دیں ،وزیر اعظم   کاکہنا ہے  کہ اگر بین الاقوامی برادری نے دیر کی تو بہت بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Sep 23rd 2022, 8:45 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بین الاقوامی برادری نے دیر کی تو بہت بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے : وزیراعظم 

تفصیلات کے مطابق  ’’بلومبرگ‘‘ کوانٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت انہیں اپنے ملک میں ہونا چاہئے تھا کیونکہ پاکستان میں سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں، انہیں ریلیف کی ضرورت ہے لیکن میں دنیا کو صورتحال سے آگاہ کرنے کےلئے آیا ہوں،  پاکستان کوموسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بدترین سیلاب کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والے عوامل میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے 33ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں،400بچوں سمیت 1500 افراد سیلاب کی نذر ہوگئے، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں،10 لاکھ گھرمکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ جزوی طور پر متاثر ہونے والے گھروں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت عالمی رہنمائوں کو اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ پاکستان تنہا اس صورتحال سے نہیں نمٹ سکتا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود پاکستان کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اورکہا کہ انہوں نے ایسی تباہی پہلے نہیں دیکھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا  کہ ترک صدر رجب طیب اردوان ،امریکی صدر جو بائیڈن اورفرانس کے صدر ایمانویل ماکروں سمیت عالمی رہنمائوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ میں اپنی تقاریر میں بھی اظہارخیال کیا ہے اورزور دیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بڑی مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے ہماری جو مدد کی اس پر شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن ہمیں اس سے کہیں زیادہ اور فوری مدد کی ضرورت ہے ، لاکھوں بچے بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں، کھڑے پانی سے وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں، متاثرہ علاقوں میں کمبل ، خوراک بالخصوص بچوں کی غذا کی ضرورت ہے ، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30ارب ڈالر لگایا گیا ہے ، ہمیں لوگوں کی بحالی اورتعمیر نو کےلئے مددکی ضرورت ہے، متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کرنا ہے اور زراعت اورصنعت کو بحال کرنا ہے۔ ایسی صورتحال میں دنیا ہمیں نظرانداز نہیں کرسکتی۔ 

وزیراعظم نے دنیا کے خوشحال ملکوں ، آئی ایم ایف اورعالمی بینک سے اپیل کی کہ پاکستان کوقرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دیا جائے کیونکہ آئندہ دو ماہ کے دوران پاکستان پر قرضوں کی ادائیگی کی بھاری ذمہ داری ہے،  حال ہی میں آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر معاہدہ ہوا ہے ہر ماہ بجلی اور پٹرولیم پر ٹیکس لگانا پڑ رہا ہے، پاکستان کےلئے یہ بہت مشکل صورتحال ہے بالخصوص ایسے میں جبکہ سیلاب متاثرین کی بحالی اورتعمیرنو کا چیلنج درپیش ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں غیرمتوقع طور پر بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں ، سردیوں کےلئے گیس کی قلت ہے ، ترقی یافتہ اقوام اور ممالک کوہم سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے موجودہ صورتحال پر ہماری مدد کرنا ہوگی۔

 وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ روس کےصدر نے ملاقات میں گیس کی فراہمی کے حوالےسے جائزہ لینے کا یقین دلایا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوئی ، پاکستان روس سے گندم کی خریداری کا بھی خواہاں ہے کیونکہ سیلاب کے باعث زمین گندم کی بوائی کےلئے تیار نہیں ہوسکتی۔ 

پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اتحاد، یکجہتی ، مصالحت اور امن کی ضرورت ہے، موجودہ صورتحال ہم سے اخوت اورایک دوسرےکا ہاتھ تھامنے کا تقاضہ کرتی ہے ، یہ وقت باہمی اختلافات اور سیاست کا نہیں، انسانیت کی خدمت اورمتاثرین کی مدد کےلئے مل کر کام کرنے کا ہے، سیلاب متاثرین کوکمبل،ادویات، خیموں، خوراک کی ضرورت ہے، ہمیں ذاتی پسند اورنا پسند ہوکرآگے بڑھنا ہوگا۔

۔بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اوربھارت ہمسایہ ممالک ہیں اور ہمیں پرامن ہمسائیوں کے طور پر رہنا ہے ، امن کا قیام واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے عوام کی زندگی کو بہتر بناسکتے ہیں، پاکستان اوربھارت بات چیت کےذریعے اپنے باہمی تنازعات طے کرسکتے ہیں۔

Advertisement
حزب اللہ کے راکٹ حملوں کا خوف،نیتن یاہو نے مذہبی تقریب منسوخ کر دی

حزب اللہ کے راکٹ حملوں کا خوف،نیتن یاہو نے مذہبی تقریب منسوخ کر دی

  • 12 hours ago
اسحاق ڈار کا برطانوی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں پائیدار امن کیلئے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

اسحاق ڈار کا برطانوی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں پائیدار امن کیلئے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

  • 8 hours ago
شہباز شریف کی وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت

شہباز شریف کی وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت

  • 11 hours ago
شائقینِ کرکٹ کو پی ایس ایل کے پلے آف میچز اسٹیڈیم میں دیکھنے کی اجازت مل گئی

شائقینِ کرکٹ کو پی ایس ایل کے پلے آف میچز اسٹیڈیم میں دیکھنے کی اجازت مل گئی

  • 9 hours ago
 روس ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، پیوٹن کی عراقچی سے ملاقات

 روس ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، پیوٹن کی عراقچی سے ملاقات

  • 7 hours ago
پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا،مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوئی ہے ، عباس عراقچی

پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا،مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوئی ہے ، عباس عراقچی

  • 13 hours ago
جنوبی سوڈان میں طیارہ گر کر تباہ،پائلٹ سمیت تمام 14 افراد جانبحق 

جنوبی سوڈان میں طیارہ گر کر تباہ،پائلٹ سمیت تمام 14 افراد جانبحق 

  • 8 hours ago
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،جنوبی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،جنوبی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام

  • 13 hours ago
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈاضافہ ،فی تولہ کتنےکا ہو گیا؟

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈاضافہ ،فی تولہ کتنےکا ہو گیا؟

  • 13 hours ago
اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ، شرح سود میں 1 فیصد اضافہ

اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ، شرح سود میں 1 فیصد اضافہ

  • 12 hours ago
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار، ریگولیٹری فریم ورک آخری مرحلے میں داخل 

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار، ریگولیٹری فریم ورک آخری مرحلے میں داخل 

  • 13 hours ago
’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘، حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا

’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘، حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا

  • 11 hours ago
Advertisement