نیویارک : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دنیا کے امیرممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کو قرضوں میں ریلیف دیں ،وزیر اعظم کاکہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے دیر کی تو بہت بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔


تفصیلات کے مطابق ’’بلومبرگ‘‘ کوانٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت انہیں اپنے ملک میں ہونا چاہئے تھا کیونکہ پاکستان میں سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں، انہیں ریلیف کی ضرورت ہے لیکن میں دنیا کو صورتحال سے آگاہ کرنے کےلئے آیا ہوں، پاکستان کوموسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بدترین سیلاب کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والے عوامل میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے 33ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں،400بچوں سمیت 1500 افراد سیلاب کی نذر ہوگئے، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں،10 لاکھ گھرمکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ جزوی طور پر متاثر ہونے والے گھروں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت عالمی رہنمائوں کو اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ پاکستان تنہا اس صورتحال سے نہیں نمٹ سکتا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود پاکستان کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اورکہا کہ انہوں نے ایسی تباہی پہلے نہیں دیکھی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان ،امریکی صدر جو بائیڈن اورفرانس کے صدر ایمانویل ماکروں سمیت عالمی رہنمائوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ میں اپنی تقاریر میں بھی اظہارخیال کیا ہے اورزور دیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بڑی مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے ہماری جو مدد کی اس پر شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن ہمیں اس سے کہیں زیادہ اور فوری مدد کی ضرورت ہے ، لاکھوں بچے بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں، کھڑے پانی سے وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں، متاثرہ علاقوں میں کمبل ، خوراک بالخصوص بچوں کی غذا کی ضرورت ہے ، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30ارب ڈالر لگایا گیا ہے ، ہمیں لوگوں کی بحالی اورتعمیر نو کےلئے مددکی ضرورت ہے، متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کرنا ہے اور زراعت اورصنعت کو بحال کرنا ہے۔ ایسی صورتحال میں دنیا ہمیں نظرانداز نہیں کرسکتی۔
وزیراعظم نے دنیا کے خوشحال ملکوں ، آئی ایم ایف اورعالمی بینک سے اپیل کی کہ پاکستان کوقرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دیا جائے کیونکہ آئندہ دو ماہ کے دوران پاکستان پر قرضوں کی ادائیگی کی بھاری ذمہ داری ہے، حال ہی میں آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر معاہدہ ہوا ہے ہر ماہ بجلی اور پٹرولیم پر ٹیکس لگانا پڑ رہا ہے، پاکستان کےلئے یہ بہت مشکل صورتحال ہے بالخصوص ایسے میں جبکہ سیلاب متاثرین کی بحالی اورتعمیرنو کا چیلنج درپیش ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں غیرمتوقع طور پر بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں ، سردیوں کےلئے گیس کی قلت ہے ، ترقی یافتہ اقوام اور ممالک کوہم سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے موجودہ صورتحال پر ہماری مدد کرنا ہوگی۔
وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ روس کےصدر نے ملاقات میں گیس کی فراہمی کے حوالےسے جائزہ لینے کا یقین دلایا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوئی ، پاکستان روس سے گندم کی خریداری کا بھی خواہاں ہے کیونکہ سیلاب کے باعث زمین گندم کی بوائی کےلئے تیار نہیں ہوسکتی۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اتحاد، یکجہتی ، مصالحت اور امن کی ضرورت ہے، موجودہ صورتحال ہم سے اخوت اورایک دوسرےکا ہاتھ تھامنے کا تقاضہ کرتی ہے ، یہ وقت باہمی اختلافات اور سیاست کا نہیں، انسانیت کی خدمت اورمتاثرین کی مدد کےلئے مل کر کام کرنے کا ہے، سیلاب متاثرین کوکمبل،ادویات، خیموں، خوراک کی ضرورت ہے، ہمیں ذاتی پسند اورنا پسند ہوکرآگے بڑھنا ہوگا۔
۔بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اوربھارت ہمسایہ ممالک ہیں اور ہمیں پرامن ہمسائیوں کے طور پر رہنا ہے ، امن کا قیام واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے عوام کی زندگی کو بہتر بناسکتے ہیں، پاکستان اوربھارت بات چیت کےذریعے اپنے باہمی تنازعات طے کرسکتے ہیں۔

اوپن اے آئی کی جانب سے اے آئی پر مبنی ائیر بڈز متعارف کرانے کی تیاری،رپورٹ
- 11 hours ago

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی
- 15 hours ago

ملتان سلطانز 2 ارب 45 کروڑ میں نیلام ،فرنچائز کا نیا نام راولپنڈی ہوگا
- 10 hours ago
لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اورکشتی ڈوب گئی، دو بچوں سمیت 53 افراد لاپتا
- 13 hours ago

انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دے گا، وزیر اعظم
- 12 hours ago

بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہےاس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے،خواجہ آصف
- 15 hours ago

پنجاب حکومت کی کاوشوں سے لاہور کی خوشیاں دوبارہ لوٹ آئیں،گلوکارہ میگھا
- 15 hours ago

دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی اور جنریشن زی کا جنون
- 9 hours ago

بھارت براہ راست جنگ کی جرات نہیں کر سکتا، افغانستان کے ذریعے پراکسی وار لڑ رہا ہے، وزیر دفاع
- 9 hours ago

وزیراعظم سے سری لنکن صدر کا رابطہ، ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کی درخواست
- 9 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف کا موڈیز کی جانب سے بینکنگ شعبے کی ریٹنگ مستحکم قرار دیے جانے پر اطمینان کا اظہار
- 9 hours ago

بھارتی کوسٹ گارڈ نے اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو تحویل میں لے لیا
- 12 hours ago




.jpg&w=3840&q=75)




.jpg&w=3840&q=75)
