پی ڈی ایم کے سربراہ کو کسی ایک جماعت کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے ، بلاول بھٹو
خیر پور: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ کو کسی ایک جماعت کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے ، بطورپی ڈی ایم سربراہ مولانافضل الرحمٰن کی ذمہ داری ہےتمام جماعتوں کومتحدرکھیں۔ اپوزیشن آپس میں لڑنے کے بجائے حکومت کا مقابلہ کرے۔

خیر پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن آپس میں لڑنے کے بجائے حکومت کا مقابلہ کرے۔ اپوزیشن جماعتیں اپوزیشن ، اپوزیشن سے اپوزیشن کر رہی ہیں ، صرف پیپلزپارٹی اپوزیشن کر رہی ہے۔ ہم کسی سے لڑائی نہیں کرنا چاہتےہیں، ہم آج بھی چاہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں ملکر کام کریں۔
پی پی رہنما بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ڈیل کی سیاست نہیں کرتی ہے ، جواب دینا چاہیں تو ہر بات کا اچھے سے جواب دے سکتے ہیں، ڈیل کے الزامات دوسروں پر نہیں لگانا چاہتا۔ہم الزامات کی بات کرتے ہیں تو اس سے اختلافات میں اضافہ ہوگا ۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نیا شفاف الیکشن چاہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں دھاندلی نہ ہو شفاف الیکشن ہوں ،سمجھتا نہیں ہوں کہ کسی کو منانے کی ضرورت ہے ، پی ڈی ایم کے سربراہ کو کسی ایک جماعت کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے ، بطورپی ڈی ایم سربراہ مولانافضل الرحمٰن کی ذمہ داری ہےتمام جماعتوں کومتحدرکھیں، اختلافات ایک طرف رکھ کر حکومت کیخلاف متحد ہوں ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سیاست کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سے رابطہ رکھنا پڑے گا ، چھوٹے ایشوز کی بجائے حکومت مخالف تحریک پر توجہ دینا ہوگی۔
چیئرمین پی پی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ن لیگ کو بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے، ہم ن لیگ کی کامیابی پر خوش ہوتےہیں توانہیں بھی ہماری کامیابی پر خوش ہونا چاہیے،مسلم لیگ ن کو بھی وہی تجویز ہے کہ حوصلے کی سیاست کریں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے،گزشتہ3سال سے حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ناکامی کاسامنا ہے، حکومت کے پاس عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے،پاکستان اپنی معاشی خودمختاری کھو رہا ہے ،ملک بھر میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی رکی ہوئی ہے ، اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہیں ،آرڈیننس کے مطابق اسٹیٹ بینک پاکستان کی پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہے ، اگر ادارہ منتخب اداروں کو جواب دہ نہیں ہوگا تو ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔
چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کبھی کشمیر کے وکیل بنتے ہیں اور کبھی کلبھوشن کے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بھی تبدیل کر دی،کہتا ہے میں کیا کروں ، عوام نےکسی دورحکومت میں اتنی مشکلوں کا سامنا نہیں کیا ، بھارت سے تعلقات کا معاملہ کبھی پارلیمنٹ میں لایا ہی نہیں گیا۔انہوں نےکہا کہ کسی ایک پاکستانی کو نہیں پتا کہ وزیراعظم کی پالیسی کیا ہے،ہائی کورٹ میں کلبھوشن کا وکیل بننے کی درخواست دی جاتی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا
- 2 دن قبل
امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان
- 2 دن قبل
لارڈز ٹیسٹ کا دوسرا روز: انگلینڈ کے خلاف پاکستان ٹیم 110 رنز پر ڈھیر
- 3 دن قبل
ناروے کے بادشاہ کا 89 سال کی عمر میں انتقال
- 3 دن قبل

ملک میں سونا اچانک سستا، قیمت میں بڑی کمی
- 2 دن قبل
انسپکٹر جمشید پر بننے والی فلم کا پہلا ٹریلر جاری
- 3 دن قبل
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس سکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات
- 3 دن قبل
ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
- 3 دن قبل

پی کے 404: 37 سال سے لاپتہ طیارے کا راز برقرار
- 2 دن قبل

پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادکو معطل کردیا، فوجداری کارروائی کی ہدایت
- 2 دن قبل

وزیراعظم کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور
- 3 دن قبل
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی
- 19 گھنٹے قبل


