پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی لیک ہونے والی کال کئی حوالوں سے تشویش ناک ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’100 گھنٹے سے زیادہ کی وزیراعظم کے دفتر کی گفتگو ویب سائٹ پر اگست ستمبر سے برائے فروخت ہے۔‘
فواد چوہدری نے شام اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’خاندانی کاروبار کے تحفظ کے لیے قوانین کو بالائے پشت رکھنا تو شریف فیملی کا پرانا وطیرہ ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’لیکن ایکسپریس اور جیو کے نیوز لیڈز کی شہباز شریف اور حکومتی مشورہ سازی میں کردار میڈیا پر ایک اور کلنک کا ٹیکہ ہے۔‘
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کال وائرل ہوئی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف کی آواز ہے جس میں وہ کسی شخص کے ساتھ مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد راحیل کے لیے انڈیا سے ایک پاور پلانٹ منگوانے کی بات کر رہے ہیں۔
اس آڈیو میں ایک پرائیویٹ نیوز چینل کے عہدے دار کا ذکر بھی ہے۔
فواد چوہدری نے اتوار کو اپنی ایک اور ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ’100 گھنٹے سے زیادہ کی وزیراعظم کے دفتر کی گفتگو ویب سائٹ پر اگست ستمبر سے برائے فروخت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہماری ایجنسیز کو سیاسی ٹاسک سے فرصت ملتی تو وہ حساس معاملات پر نظر ڈالتے۔ سوال یہ ہے اتنے بڑے واقعے پر حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟‘
’فون ہر گیمز کھیلنے سے فرصت مل جائے تو مؤقف بھی دے دیں۔‘
سو گھنٹے سے زیادہ کی وزیر اعظم کے دفتر کی گفتگو ویب سائٹ پر اگست-ستمبر سے برائے فروخت ہے ہماری ایجنسیز کو سیاسی ٹاسک سے فرصت ملتی تو وہ حساس معاملات پر نظر ڈالتے، سوال یہ ہے اتنے بڑے واقعہ پر حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ فون ہر گیمز کھیلنے سے فرصت مل جائے تو مؤقف بھی دے دیں
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 25, 2022
سوشل میڈیا پر کئی گھنٹوں سے ’آڈیو لیک‘ ٹاپ ٹرینڈ پر ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور حکومت کے مخالفین مبینہ آڈیو کی بنیاد پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ نواز کی قیادت کی جانب سے ابھی تک اس آڈیو کے حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر اس وقت ایک زائد آڈیوز وائرل ہیں جن میں مبینہ طور پر مریم نواز اور وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی اعلیٰ قیادت کی نجی گفتگو لیک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 11 hours ago

شہبازشریف کا لبنانی وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ ،اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور لبنان سے اظہارِ یکجہتی
- 5 hours ago

سیز فائر کی خلاف ورزی : پاکستان کا عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
- 11 hours ago

پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم
- 11 hours ago

وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، سیاسی و عسکری قیادت کا مذاکرات کامیاب بنانے کا عزم
- 10 hours ago

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش
- 11 hours ago

جنگ بندی مذاکرات:امریکی نائب صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے
- 11 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
وزیر اعظم سےایمانوئل میکرون کا رابطہ،مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اورثالثی پر پاکستان کی تعریف
- 9 hours ago

وزیر اعظم سے فیلڈ مارشل کی ملاقات،ایران و امریکا ثالثی کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 6 hours ago

بیروت: سیز فائر کے باوجود بھی اسرائیلی حملے، 254 افراد شہید، عالمی رہنماؤں کی جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل
- 9 hours ago

شہر قائد میں منکی پاکس وائرس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا
- 8 hours ago

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کا خیرمقدم
- 11 hours ago








