جی این این سوشل

کھیل

ڈومیسٹک کرکٹرز کی میچ فیس اور ماہانہ وظیفے کی رقم میں اضافہ

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نےڈومیسٹک کرکٹرز کی میچ فیس اور ماہانہ وظیفے کی رقم میں اضافہ کر دیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ڈومیسٹک کرکٹرز کی میچ فیس اور ماہانہ وظیفے کی رقم میں اضافہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

پی سی بی کی جانب سے میچ فیس اور وظیفے کی رقم میں اضافے کا اعلان بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اعلان کردہ نیا ڈومیسٹک کنٹریکٹ ستمبر 2022 سے اگست 2023 تک لاگو ہو گا۔

قائداعظم ٹرافی کھیلنے والے کھلاڑیوں کی میچ فیس 60 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے جبکہ پاکستان کپ اور نیشنل ٹی 20 کی میچ فیس 40 ہزار اور 60 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

ڈومیسٹک ٹیموں میں شامل نان پلیئنگ ممبرز کی ریڈ بال کی میچ فیس 40 ہزار روپے اور وائٹ بال کرکٹ میچز میں شریک ڈومیسٹک ٹیموں کے نان پلیئنگ ممبرز کی فیس 4 ہزار مقرر کی گئی ہے۔

نان پلیئنگ ممبرز کی میچ فیس 4 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

ریڈ اور وائیٹ بال کھیلنے والے نان پلیئنگ ممبرز کو بالترتیب 10 اور 15 ہزار روپے ملیں گے جبکہ ڈومیسٹک کنٹریکٹ کی اے پلس کٹیگری میں شامل کھلاڑی کو مجموعی طور پر 61 لاکھ روپے ملیں گے۔

ڈی کٹیگری میں شامل کھلاڑی کو 43 لاکھ روپے کا معاوضہ ملے گا۔ اس رقم میں پی سی بی کے کسی بھی ایونٹ کی انعامی رقم شامل نہیں ہے۔

پاکستان

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سےترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف ج متین گورک کی ملاقات

ملاقات میں باہمی اور پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور سمیت، دفاعی تعاون، فوجی تربیت اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سےترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف ج متین گورک کی ملاقات

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل متین گورک نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ۔

ملاقات میں باہمی اور پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور سمیت، دفاعی تعاون، فوجی تربیت اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل متین گورک نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں جانب سے مضبوط باہمی تعلقات کو سراہتے ہوئے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم کا اعادہ کیا گیا۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مسلح افواج کے درمیان موجودہ فوجی تعاون کو مزید وسعت کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل متین گورک نے علاقائی امن و استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں پاک فوج کے کردار کو سراہا۔

قبل ازیں جی ایچ کیو پہنچنے پر ترک فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے یادگار شہدا پر پھول رکھے اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا، پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مل کر آگے چلیں گے تو جمہوریت مضبوط ہو گی، صدر مملکت

سیاسی اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کرکے آگے بڑھا جا سکتا ہے، آصف علی زرداری

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مل کر آگے چلیں گے تو جمہوریت مضبوط ہو گی، صدر مملکت

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مل کر آگے چلیں گے تو جمہوریت مضبوط ہو گی، ہمیں سب کو آگے لے کر چلنا ہے،سیاسی اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کرکے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ خطاب میں آصف زرداری نے پارلیمانی سال کےآغازپرتمام ممبران کومبارکباد دی۔

آصف زرداری نے کہا کہ دوسری بارصدربنانےپرتمام ممبران کامشکورہوں، تمام وزراءوممبران کوذمہ داریاں اٹھانےپرمبارکباددیتاہوں، ماضی میں میرےفیصلوں نےتاریخ رقم کی ہے ۔ مستقبل کیلئےاپنےوژن کومختصربیان کروں گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ اختلاف کو مل بیٹھ کر حل کرنا ہے ، جو مشکلات ہیں ان میں ہم اختلافات کو لے کر نہیں چل سکتے، ہمیں ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے،، سیاسی قیادت اپنی ترجیحات کو واضح کریں۔

آصف زرداری نے کہا کہ مل کر آگے بڑھیں گے تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی، ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے، ملک کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہمارے ایجنڈے میں شامل ہونی چاہیے۔ ملک میں دانش مندی اورپختگی کی ضرورت ہے، امیدہےکہ اراکین دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے۔

آصف زرداری نے اس بار پر زور دیا کہ معیشت کی بہتری کیلئے سب کو اپناحصہ ڈالناہوگا، انھوں نے کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاری لاناہمارابنیادی مقصدہوناچاہئے وسائل بروئےکارلاتےہوئےجامع ترقی کی راہیں کھولناہوں گی، اپنےلوگوں پرسرمایہ کاری،عوام پرتوجہ مرکوزکرناہوگا۔

صدر زرداری نے کہا ملک میں دہشت گردی بڑا خطرہ ہے، ملک دشمنوں کو سی پیک کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، بے نظیر بھٹو پر بھی دو بار دہشت گرد حملے ہوئے، معیشت کی بہتری میں دوست ملکوں کی مدد کے شکر گزار ہیں۔

صدر آصف زرداری نےمزید کہا کہ آئینی فرم ورک کےتحت وفاق اورصوبوں میں ہم آہنگی ناگزیرہے، اپنےلوگوں پرسرمایہ کاری اورعوام پرتوجہ مرکوزکرناہوگی۔ معیشت کی بہتری کیلئے سب کو اپناحصہ ڈالناہوگا، غیرملکی سرمایہ کاری لاناہمارابنیادی مقصدہوناچاہئے۔ حکومت کاروباری ماحول سازگارکرنےکیلئےاقدامات کرے سرمایہ کاروں کیلئےپیچیدہ قوانین کوآسان بناناہوگا، اور ہمیں عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی قدربڑھاناہوگی۔ جبکہ نئی منڈیوں کی تلاش کیلئےکوششیں تیزکرناہوں گی۔

آصف زرداری نے کہا کہ تسلیم کرناہوگاکہ بچوں کی بڑی تعداداسکولوں سےباہرہے، ملک میں اسکول نہ جانے والےبچوں کی تعدادبڑھ رہی ہے، پرائمری وسیکنڈری تعلیم کاحصول بنیادی حق ہے، شعبہ تعلیم پرتمام حکومتوں کوسنجیدگی کامظاہرہ کرناہوگا ۔  تمام صوبوں کے لیے قوانین یکساں ہونے چاہیئں۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ شعبہ صحت میں بھی بڑےپیمانےپرتوسیع کی ضرورت ہے، پرائمری اورسیکنڈری صحت پرسرمایہ کاری کرناہوگی تمام شہریوں کوصحت کی بنیادی خدمات تک رسائی یقینی بنانا حکومت کی زمے دار ہے۔

صدر زرداری کے خطاب کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی، وزیراعظم شہباز شریف ، آصفہ بھٹو زرداری ، بلاول بھٹو زردرای بھی ایوان میں نظر آئے۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک کے سفیر بھی گیلریز میں موجود تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کیلئے امداد کی اپیل

تباہ ہونے والے ہسپتالوں، پانی، نکاسی کی سہولیات، گھروں، سڑکوں اور سکولوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں کوئی واحد یونیورسٹی کی عمارت بھی سلامت نہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کیلئے امداد کی اپیل

اقوام متحدہ نے 30 لاکھ محصور فلسطینیوں کی مدد کیلئے دو ارب ڈالر سے زائد امداد کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق غزہ کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے دفتر اور ویسٹ بینک کے سربراہ این اینڈی اے ڈومینیکو  نے نیویارک میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ غزہ میں انسانی امداد کی بحالی کیلئے بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہے لیکن یہ کام فوجی آپریشن کے دوران ممکن نہیں۔انہوں نے تباہ ہونے والے ہسپتالوں، پانی، نکاسی کی سہولیات، گھروں، سڑکوں اور سکولوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں کوئی واحد یونیورسٹی کی عمارت بھی سلامت نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll