اسلام آباد: اسلام آباد کی عدالت نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں چیئرمین تحریک انصاف ، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ضمانت منظور کر لی۔


تفصیلات کے مطابق دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان عبوری ضمانت کے لیے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوئے ۔
ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے بابر اعوان کو وقت پر عدالت آنے پر سراہا اور کہا کہ اچھا لگا وقت پر آئے، نوجوانوں کو بھی یہی پیغام دینا چاہیے۔ فاضل جج کے ریمارکس پر بابر اعوان نے ساتھی وکلاء کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں سنو، وقت کی پابندی کرو۔
عدالت نے پولیس کو عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا ۔
عمران خان جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری کی عدالت پہنچے تاہم پولیس نے خاتون جج کا کمرہ بند کر دیا اور انہیں بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں۔ عمران خان نے ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے معافی مانگنے آیا ہوں ، ریڈر آپ گواہ رہنا، میں معافی مانگنے آیا تھا ۔
یاد رہے کہ 22 ستمبر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنے بیان پر معافی مانگ لی تھی جس کے بعد عدالت نے عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی موخر کردی تھی ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے 3 اکتوبر تک سماعت ملتوی کر دی۔
اس سے قبل عدالت نے عمران خان کی جانب سے دو مرتبہ جمع کرائے گئے جوابات کو مسترد کرتے ہوئے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ خاتون جج کو دھمکیوں سے متعلق توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئر مین پی ٹی آئی کو غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے دو مواقع فراہم کیے تھے تاہم عمران خان نے غیر مشروط معافی مانگنے کے بجائے اپنے الفاظ واپس لینے اور آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنے کا جواب عدالت میں جمع کرایا۔
خیال رہے کہ 8 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- 15 گھنٹے قبل
پاکستانی قیادت کی امن کوششوں سے عالمی جنگ بندی ممکن ہوئی، طاہر اشرفی
- 6 گھنٹے قبل
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- 13 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- ایک دن قبل

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- 2 دن قبل
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل، بعد ازاں دہلی واپس روانہ
- 6 گھنٹے قبل

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- 14 گھنٹے قبل

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- 14 گھنٹے قبل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- ایک دن قبل
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- 10 گھنٹے قبل

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- 2 دن قبل
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- 16 گھنٹے قبل


.webp&w=3840&q=75)




