جی این این سوشل

پاکستان

اکتوبر، نومبر کے مہینے خطرناک ہیں، منظور وسان کا دعویٰ

کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال اکتوبر اور نومبر کے مہینے بڑے خطرناک ہیں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اکتوبر، نومبر کے مہینے خطرناک ہیں، منظور وسان کا دعویٰ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

منظور وساں جو اپنے خواب دیکھنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ انہوں نے اکتوبر اور نومبر کے حوالے سے ایک اور دعویٰ کر دیا۔

پیپلز پارٹی رہنما منظور وسان نے کہا کہ ملک میں نئے انتخابات 2023 میں ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انتخابات ایک سال کے لیے بڑھا دیئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پرانے چہرے تھوڑا آرام کریں گے اور نئے چہرے جیلوں میں جائیں گے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں متحرک ہوں گی۔

منظور وسان نے کہا کہ ملک میں اب بہت سارے راز بھی فاش ہوں گے اور رواں سال اکتوبر، نومبر کے مہینے بڑے خطرناک ہیں۔

 
 

پاکستان

برطانوی ہائی کمشنررکشے میں میچ دیکھنے پہنچ گئے ، ویڈیووائرل 

راولپنڈی : پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر رکشے میں بیٹھ  کر انگلینڈ اور پاکستان کا پہلا ٹیسٹ میچ دیکھنے پہنچ گئے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

برطانوی ہائی کمشنررکشے میں میچ دیکھنے پہنچ گئے ،  ویڈیووائرل 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ویڈیو پیغام میں  برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے کہا کہ انگلینڈ اور پاکستان نے کرکٹ کی دنیا میں دھوم مچا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونےوالی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل بھی یادگار تھا۔

کرسچین ٹرنر کا کہنا ہے کہ دونوں بار انگلینڈ کی ٹیم بازی لے گئی اور اب سب کی نظریں ٹیسٹ سیریز پر ہیں۔

ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے نظر آئے  کہ  یکم سے 21 دسمبر تک جیت اسی کی ہوگی جو گرم جوشی کا مظاہرہ کرے گا، لڑکوں جم کر کھیلنا کیونکہ ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار۔

اس کے بعد برطانوی ہائی کمشنر نے رکشہ ڈرائیور کو پوٹھوہاری  زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  ’ راجا جی پنڈی جلساں تے میچ تکساں‘۔ برطانوی ہائی کمشنر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنالوجی

گوگل ایپس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا ، پاکستان ادائیگیوں پر رضامند

صارفین کیلئے خوشخبری آگئی ، گوگل کوادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہوں گی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گوگل ایپس بند ہونے کا خطرہ  ٹل گیا ،    پاکستان ادائیگیوں پر رضامند

حکومت پاکستان نے اس حوالہ سے کریڈ ٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے بجائے ایپس  کےتحت ادائیگیوں کی اجازت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

وزارت خزانہ نے وزیر آئی ٹی سید امین الحق کی تجویز مانتے ہوئے گوگل کو ادائیگیوں کے حوالے سے رضا مندی ظاہر کردی ۔ 

وزارت آئی ٹی کی طرف سے آج (جمعرات) کو جاری کردہ اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر انفارمیشن وٹیکنالوجیز سید امین الحق نے کہا ہے کہ گوگل کوادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہوں گی۔

اس حوالے سےوزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق سے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ نے رابطہ کیا اور بتایا کہ سٹیٹ بینک کو اس حوالے سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

امین الحق نے کہا کہ فی الحال ایک ماہ تک پالیسی پر عملدرآمد مؤخر کردیا گیا ہے ۔ ٹیلی کام آپریٹرز کو ادائیگیوں کے طریقہ کار پر عملدرآمد کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیاہے۔

ایک ماہ کے اندر وزارت آئی ٹی، خزانہ اور سٹیٹ بینک باہمی مشاورت سے مستقل لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

انہوں نے کہ ٹیلی کام آپریٹرز نے وزارت آئی ٹی سے معاملے پر معاونت کی اپیل کی تھی جس کے پیش نظروزیرخزانہ اسحاق ڈار کو ادائیگیاں کرنے اور ٹائم فریم دینے کیلئے مراسلہ لکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بروقت فیصلے پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ کے شکر گزار ہیں۔

گزشتہ ماہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو خط لکھ کر اسٹیٹ بینک کی جانب سے گوگل کو ادائیگی روکنے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سروس فراہم کرنے والوں کو 34 ملین ڈالر کی ادائیگی منسوخ کرنے کے بعد موبائل صارفین یکم دسمبر 2022 سے پاکستان میں گوگل پلے اسٹور کی سروسز ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 

وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔

اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll