جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے

عمران خان کی معافی اور جج کی عدالت میں پیشی سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے، شوکاز نوٹس واپس لے کر کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں 16صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا۔ اے آروائی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں 16صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا۔ 

جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس بابرستار نے فیصلے میں اضافی نوٹس تحریر کیئے۔ سابق وزیراعظم اور سیاسی لیڈر سے ایسی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عمران خان کے الفاظ اور لہجہ مناسب نہیں تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کے رویے ، معافی اور جج کی عدالت میں پیشی سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے۔ عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے۔ عمران خان سے شوکاز نوٹس واپس لے کر کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

یاد رہے 24 نومبر2022ء کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں حکومتی جواب الجواب عدالت عظمی میں بھی جمع کروا دیا ہے۔ جمع کروائے گئے جواب میں عمران خان کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری پہلے ہی اپنے جواب میں مجھے اطلاع کرنے کے حوالے سے معذوری ظاہر کرچکے ہیں،کیس کے اندر واحد نقطہ یہی ہے کیا مجھے عدالتی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں، بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی مجھ سے ملاقات کروانے کے عدالتی احکامات کی انتظامیہ نے واضح طور پر خلاف ورزی کی گی،چوبیس مئی سے پنجاب اور اسلام آباد میں ہونے والے تشدد کی وجہ سے شدید دباو میں تھے،

جمیرز کی وجہ سے رابطہ نہ ہونے کا ابھی تک دعوی نہیں کیا،پہلے جواب میں جیمرز کی موجودگی میں رابطہ کے عمل کو غیر حقیقی لکھا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر میری سیاسی سرگرمیوں میں پابندی کے باعث سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا،سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جہگوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں،مجھے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے میرے اور سپورٹرز کے اجتماع کے آئینی حق کو تسلیم کرلیاہے،

ڈی چوک جانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا تھا، ڈی چوک پر جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ فیصلے سے پہلے کر چکا تھا، وزیراعلی خیبر پختونخواہ کاروان کے ہمراہ جیمرز چلانے کی دستاویزات عدالت میں جمع کروانیکی اجازت چاہتا ہوں، میرے جواب اور دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

تفریح

''دھوکہ ملا ہے پیار میں راجہ''جنت مرزانے عمر بٹ سے رشتہ توڑ دیا

معروف ٹک ٹاکر جنت مرزا اور عمر بٹ نے راہیں جدا کرلیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

''دھوکہ ملا ہے پیار میں راجہ''جنت مرزانے عمر بٹ سے رشتہ توڑ دیا

لاہور: معروف ٹک ٹاکر جنت مرزا اور عمر بٹ نے راہیں جدا کرلیں۔
جنت مرزا اور عمر بٹ ایک دوسرے کی مختلف ویڈیوز میں دکھائی دے رہے تھے اور ان کی منگنی اور شادی کے حوالے سے بھی کئی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بن چکی تھیں۔
عمر بٹ اور جنت مرزا دونوں کی جانب سے رشتہ ختم ہونے کی تصدیق چکی ہے۔
عمر بٹ انسٹاگرام 
 میرے خیال سے اب آپ سب کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ میں اور جنت اب مزید ایک ساتھ نہیں ہیں، یہ ہم دونوں کا مشترکہ فیصلہ ہے'۔

جنت مرزا انسٹاگرام 
میں نے یہ ماننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ کبھی جھوٹ بولے گا یا مجھے دھوکا دے گا لیکن آخر میں مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اپنے ضمیر کی آواز نہیں سنی'۔

ساتھ ہی انہوں نے مداحوں سے گزارش کی کہ ہماری پرائیویسی کا خیال رکھیں، باقی جو جس کے حق میں بہتر ہوگا اللہ اسے نصیب کرے'۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے رویے میں تبدیلی دیکھی لیکن میں نے ان کو نظر اندازکیا کیونکہ میں نے یہ ماننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ کبھی جھوٹ بولے گا یا مجھے دھوکا دے گا لیکن آخر میں مجھے  افسوس ہوا کہ میں نے اپنے ضمیر کی آواز نہیں سنی'۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

امریکا میں شرح سود 4.75 تک جاپہنچی

رواں سال شرح سود بلند سطح پر ہی رہے گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امریکا میں شرح سود 4.75 تک جاپہنچی

امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) نے شرح سود میں0.25. فیصد اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 4.50 سے تجاوزکرکے 4.75 ہوگئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا ہے، امریکا میں شرح سود میں مسلسل دوسرے ماہ 75 بیسز پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، امریکا میں رواں سال شرح سود بلند سطح پر ہی رہے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جو بھی الیکشن کو 90 دن سے آگے لے کر جائے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا:عمران خان

لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی الیکشن کو 90 دن سے آگے لے کر جائے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جو بھی الیکشن کو 90 دن سے آگے لے کر جائے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا:عمران خان

انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی آڑلے کر الیکشن میں تاخیرکرنا ملک کے ساتھ زیادتی ہو گی، گورنر کے خط سے خدشات بڑھ گئے ہیں، دہشت گردی پی ٹی آئی کے خلاف ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فواد چودھری کو گرفتار کر کے پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، نگراں حکومت ہم پر تشدد کرنے کیلئے لائی گئی ہے، کل پرویز الٰہی کے گھر پولیس بھجوا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر حملے کی جے آئی ٹی کا سارا ریکارڈ سیل کر دیا گیا، ان سب کے پیچھے کون ہے جو اتنا طاقتور ہے؟ جے آئی ٹی کی 16 دسمبر کی فرانزک رپورٹ میں 2 شوٹرز کا ذکر ہے، 3 جنوری کی فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے 3 شوٹرز تھے، نگراں حکومت جے آئی ٹی کے معاملات میں مداخلت کررہی ہے، ان افسران کو لگایا جا رہا ہے جو اینٹی پی ٹی آئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میرا نام ای سی ایل پر ڈال دیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، مصدقہ اطلاعات ہیں جو افسران زرداری کے ساتھ ملے ہیں ان کے نام بھی معلوم ہیں، ایف آئی آر کروانا میرا حق ہے، مجھے دہشت گردی کے ذریعے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ قیامت کی نشانی ہے کہ آصف زرداری نے مجھ پر ہتک عزت کا کیس کر دیا، عدالت آصف زرداری سے پوچھے کہ آپ کی کوئی ساکھ ہے جو متاثر ہوئی ہے؟ ساری دنیا میں آصف زرداری مسٹر 10 پرسنٹ کے نام سے مشہور ہیں، چاہتا ہوں میرے خلاف آصف زرداری ضرورعدالت جائیں، عدالت میں میرے پاس آصف زرداری کے خلاف پوری کتاب ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مشرف نے انہیں این آراو ون اور جنرل باجوہ نے این آراوٹو دیا، حکومت میں آکرانہوں نے اپنے کرپشن کے کیسزختم کیے، اپنے 1100 ارب روپے کے کیسز معاف کروائے، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے عوام مسائل کا شکار ہو گئے ہیں، ابھی ملک میں مزیدمہنگائی آنی ہے، آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے، ہم 16 ارب ڈالرز کے ذخائر چھوڑ کر گئے تھے آج 3 ارب ڈالرز رہ گئے ہیں، ابھی پیٹرول اور ڈیزل مزید بڑھے گا، گیس اور بجلی کی قیمتیں اور اوپر جائیں گی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے افغانستان کیلئے جنگ لڑی، 30 سال پہلے قبائلی علاقوں پر ایک کتاب لکھی، پروپیگنڈے کے ذریعے کسی کی جنگ کو اپنی جنگ بنایا گیا، یہ جنگ ہماری نہیں تھی، ہم نے اس کیلئے ڈالرز لیے، 2001 میں امریکہ افغانستان میں گیا تو سب کو پتہ تھا اس کا ردعمل آئے گا، قبائلی علاقہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بہت پرامن تھا، قبائلی علاقے میں فوج بھیجنا بہت بڑی غلطی تھی،  میں نے اسمبلی میں کہا کہ قبائلی علاقے کی تاریخ پڑھ لیں، میری جماعت اور ایم ایم اے نے امریکی مداخلت کی بہت مخالفت کی تھی، 2002 میں پشتونوں نے ایم ایم اے کو ووٹ دیا اور بتا دیا کہ وہ امریکہ کے خلاف ہیں، ہم امریکہ کی جنگ میں پڑتے گئے تو ردعمل آتا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلی بار ٹی ٹی پی کا نام سنا، مجھے طالبان خان کہا گیا، اس کے بعد ڈرون حملے شروع ہوئے جو آہستہ آہستہ بڑھتے گئے، قبائلی علاقے میں ڈرون حملوں میں بے گناہ لوگ مارے جاتے تھے، ہماری حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا، ہماری حکومت آئی تو افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں معاونت کی، ہمارا مؤقف تھا افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا، ہم نے پوری کوشش کی کہ بات چیت ہو لیکن فیل ہو گئے، اشرف غنی صدر تھے تو میں خود بھی کابل گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll