جی این این سوشل

پاکستان

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے : وزیراعظم

اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف  نے انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام  دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان سے کرپشن کے ناسور کے خاتمے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے : وزیراعظم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف نے انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان سے کرپشن کے ناسور کے خاتمے کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے ، کرپشن کسی بھی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے اسکی معاشی و انتظامی تباہی کا باعث بنتی ہے اور معاشرتی اقدار کا زوال کسی بھی معاشرے میں کرپشن کی شرح بڑھاتا ہے۔

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پراپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انسدادِ کرپشن کے عالمی دن پر کرپشن کو کسی بھی ملک کی سلامتی، امن اور ترقی سے براہِ راست تعلق کو اجاگر کیا جا رہا ہے ،  کرپشن سے ملک و قوم کا قیمتی پیسہ نہ صرف شرپسند عناصر کے ہاتھوں میں جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے ملک کا امن تباہ ہوتا ہے بلکہ اس سے ادارے کمزور اور لوگوں کا گورننس سے اعتبار اٹھ جاتا ہے ،  آج کا دن اس عہد کی تجدید کا بھی دن ہے کہ ہم سب پاکستانی مل کر کرپشن سےجنگ میں سرخرو ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ، 2013 سے 2018 ، مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں نا صرف ملک میں کرپشن کی شرح نیچے آئی ، جس کے گواہ بین الاقوامی ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے انڈیکس ہیں، بلکہ وفاقی اور صوبہ پنجاب کی سطح پر اربوں ڈالر کے سی پیک اور دوسرے ترقیاتی منصوبے شروع کرکے پایہ تکمیل تک پہنچائے مگر کوئی بھی ان میں ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ کر سکا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کے  دن پر میں اس بات پر بھی زور دونگا کہ پاکستان کی سیاست میں کرپشن کو انتقام کا ذریعہ بنانے کے رواج کو ختم کرنا ہوگا ،  گزشتہ دور میں جس طریقے سے کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر سیاسی حریفوں کو جیلوں میں بند کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کو ذاتی انتقام کی بھینٹ چڑھانے کیلئے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا. اس روایت کو ختم ہونا چاہئیے تاکہ اداروں کو محض کرپشن کے نام پر استعمال کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اداروں کو مضبوط کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن ایک بہت بڑا قومی مسئلہ ہے، ہمیں اپنی سیاسی گفتگو میں بھی اس بات کا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کو سیاسی نعرے بازی اور پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کی بجائے سنجیدگی سے اس کے ملک سے سد باب کے اقدامات پر مل کر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے تمام سیاسی حلقوں کو مل کر ایک واضح روڈ میپ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی بیان بازی کی بجائے اسکا مو ¿ثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

تفریح

راکھی ساونت اور عادل خان نے راہیں جُداکرلیں

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ راکھی ساونت اور عادل خان کی راہیں جُداہوگئیں ، اداکارہ نے اس کی تصدیق کردی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

راکھی ساونت اور عادل خان نے راہیں جُداکرلیں

تفصیلات کےمطابق راکھی ساونت نے بتایا  ان کے شوہر عادل خان درانی اور انہوں نے راہیں جدُا کر لی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی اداکارہ راکھی ساونت نے انکشاف کیا ہے کہ شوہر عادل خان نے ان سے علیحدگی کر لی ہے اور اب وہ عادل خان کے ساتھ نہیں ہیں۔

 سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں راکھی ساونت میڈیاکو بتا رہی ہیں کہ ان کے شوہر کسی اور لڑکی کے ساتھ تعلقات میں ہیں اور اس ہی لئے وہ مجھ سے الگ ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ راکھی نے گزشتہ ماہ میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے عادل خان درانی سے 7 ماہ پہلے شادی کر لی تھی تاہم اس کے کچھ دنوں بعد سے ہی ان دونوں کی علیحدگی کی افواہیں بھی پھیل گئی ہیں جن کی راکھی نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by India Forums (@indiaforums)

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہم نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، آئیں جیل بھریں،شروعات زمان پارک سے کریں، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز نے چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے جیل بھرو تحریک کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتظار کر رہے ہیں یہ جیل بھریں اور شروعات زمان پارک سے کریں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہم نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، آئیں جیل بھریں،شروعات زمان پارک سے کریں، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نظریں بچھائے بیٹھے ہیں، آئیں جیل بھریں اور شروعات زمان پارک سے کریں ،  انہوں نے فرنٹ لائن پرخواتین کو  رکھا ہوا ہے، خود سامنے آئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک مشکلات کاشکار ہے۔عوام کو پتہ ہے کہ ملک کو ان حالات تک کون لایا۔آنے والے الیکشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔

2017میں نوازشریف کو اقامے پر نکالا گیا۔نوازشریف کو بیٹے سے تنخوانہ نہ لینے پرنکالا گیا۔دوسری طرف سنگین جرائم دنیا کے سامنے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ جنہوں نے جرم کیا انہیں اس کی سزاملنی چاہیے۔میں دودفعہ قید میں رہی ہوں۔نوازشریف ایک سال جیل میں رہے۔شہباز شریف نے کینسرکے باوجود جیل کاٹی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک انتقام ہوتا ہے اور ایک اپنے جرائم کاحساب دینا ہوتا ہے۔جس نے جرائم کیے اسے حساب تو دینا پڑے گا۔ان کامشکل وقت ابھی نہیں آیا ابھی تو انصاف ہونا ہے۔

انہیں ابھی کسی نے انگلی نہیں لگائی۔یہ  دو دن کی قید میں گلے لگ کر رونے لگ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف پروگرام کو خداحافظ کہہ دیا تھا۔

گزشتہ حکومت نے دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ پاکستان حکومت نہیں آئی ایم ایف چلا رہا ہے۔ اب ہم عوام کو ریلیف دینا چاہے بھی تو نہیں دے سکتے۔آنے والا وقت بہتر ہوگا۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ ملک کو بیرونی کوئی خطرہ نہیں، ملک میں جب تک استحکام نہیں آئے گا، ترقی نہیں آئے گی، ساری جماعتیں ایک صفحے پر ہیں۔ان کی نااہلی اتنی شدید تھی کہ ترقی کرتے پاکستان کو تباہ کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کے پی سانحے کے بعد شہباز شریف نے صوبائی حکومت سے سوال پوچھے تو غصہ ہو گئے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرایا گیا، خطرناک دہشت گروں کو انہوں نے چھوڑا تو یہ صورتِ حال ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذڈرامہ الیکشن کے دن تک تھا۔ہم عوام سے نہ تو کوئی جھوٹا وعدہ کریں گے اور نہ ہی کوئی ڈرامہ کریں گے۔جنوبی پنجاب کی عوام کو جھوٹی تسلی نہیں دیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

بھارت میں کم عمر لڑکیوں سے شادی کے جرم میں ڈھائی ہزار افراد گرفتار

انڈیا کی ریاست آسام میں پولیس نے ایسے ڈھائی ہزار مردوں اور ان کے رشتے داروں کو گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے گزشتہ دو برس کے دوران 18 برس سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کی ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارت میں کم عمر لڑکیوں سے شادی کے جرم میں ڈھائی ہزار افراد گرفتار

برطانوی نشریاتی ادارے کے رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں نابالغ لڑکیوں کے شوہر، ان کے رشتے دار، شادی کرانے والے قاضی، پنڈت اور ان کے معاونین شامل ہیں۔

یاد رہے کہ انڈیا میں شادی کے لیے قانونی طور پر لڑکی کی عمر 18 اور لڑکے کی 21 برس ہونا لازمی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ نابالغ بچوں اور بچیوں کی شادی کے خلاف یہ مہم جاری رہے گی۔

ریاستی حکومت نے دو برس کے دوران ہونے والی شادیوں اور حاملہ عورتوں کے اعداد وشمار جمع کرنے کے بعد یہ مہم شروع کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں 4 ہزار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پولیس نے گزشتہ جمعہ سے پیر کی دوپہر تک ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیا تھا۔

ریاستی حکومت نے آسام میں سنہ 2022 کے دوران حاملہ خواتین کے اعداد شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق جنوری سے دسبمر 2022 تک ریاست میں 6 لاکھ 20 ہزار خواتین حاملہ ہوئیں۔ ان میں 1 لاکھ 4 ہزار خواتین یعنی تقریبآ 17 فیصد خواتین ایسی تھیں جن کی عمر 19 برس سے کم تھی۔

ریاست کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نابالغ بچوں کی شادی روکنے کا قانون پارلیمنٹ میں 2006 میں منظور ہوا لیکن اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جن ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے ان میں بیشتر مسلمان ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ یہ ایک غیر جانبدار ایکشن ہے۔ اس میں کسی مخصوص برادری کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll