بلیغ الرحمن اسپیکر کی طرف سے اعتماد کے ووٹ کی رپورٹ موصول ہو گئی،اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم میرا آئینی حق تھا، آئین کے آرٹیکل 103 سیون کے تحت اعتماد کا ووٹ لے لیا گیا۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمن


گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کو تسلیم کر لیا۔بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ اسپیکر کی طرف سے اعتماد کے ووٹ کی رپورٹ موصول ہو گئی۔
اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم لینا میرا آئینی حق تھا۔اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم میرا آئینی حق تھا۔آئین کے آرٹیکل 103 سیون کے تحت اعتماد کا ووٹ لے لیا گیا۔
خیال رہے کہ وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔
گورنر کے وکیل نے بتایا کہ گورنر پنجاب سے رابطہ ہو گیا،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کر دی ہے،گورنر بلیغ الرحمان نے وزیراعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دئیے کہ گورنر نے نوٹیفیکشن واپس لے لیا ہے تو معاملہ ہی ختم ہو گیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الٰہی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا،
وزیراعلٰی پنجاب نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیا کہ اعتماد کے ووٹ کا نتجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے،گورنر کے وکیل نے بیان عدالت میں دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کر دیا اور چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست نمٹا دی۔
قبل ازیں دوران سماعت وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے وکیل نے اعتماد کے ووٹ کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اعتماد کا ووٹ لے کر سیاسی بحران ختم کردیا، وزیراعلی کو 186 ممبران نے اعتماد کا ووٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر کا دوسرا نوٹیفکیشن وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا تھا جسے کالعدم ہونا چاہیے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ اگر گورنرپنجاب کا نوٹیفکیشن کالعدم ہوا تو اعتماد کا ووٹ بھی کالعدم ہوجائے گا۔
جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے عدالت کو مطمئن کرنے کے لیے ووٹ نہیں بلکہ آرٹیکل 137 کے تحت ووٹ لیا ہے۔
جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ اگر گورنر کل دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ دیں تو پھر کیا ہوگا؟ اب بھی اگر گورنر کوئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں تو صورت حال کیا ہوگی؟
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ہٹائے جانے کا اقدام تو غیر قانونی تھا جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیا کہ عدالت اتفاق رائے سے ایک فیصلہ کر دے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت اس پر اپنی فائنڈنگ دی۔
نواب شاہ کے رہائشی مریض میں منکی پاکس کی تصدیق
- 2 دن قبل

ٹرمپ کا سابق امریکی میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم
- 2 دن قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب تین پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے
- 21 گھنٹے قبل

سابق خطیب داتا دربار پر مالی بدعنوانی کے الزامات ثابت، لاکھوں روپے کی ریکوری کا حکم
- ایک دن قبل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عالمی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
- 18 گھنٹے قبل

پاکستان کے ثقافتی اور میوزک کے رنگ اب سعودی عرب میں سجیں گے
- 2 دن قبل

سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریزکیلئے صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر، ون ڈے ٹرائی سیریزمیں شاہین آفریدی کپتان برقرار
- 3 دن قبل

پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح 4‘ کروز میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ
- 2 دن قبل

اہلیہ پرتشدد کے الزام میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے شوہرگرفتار کر لیا گیا
- 3 دن قبل
فٹبال لیجینڈ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیربادکہہ دیا
- 18 گھنٹے قبل

نائب وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، فلسطین، کشمیر و علاقائی امور پر گفتگو
- 2 دن قبل

لاہور: آوارہ کتے کے حملے میں ڈاکٹر زخمی
- ایک دن قبل





