جی این این سوشل

پاکستان

قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات اسلاموفوبیا کا مظہر ہیں، او آئی سی

او آئی سی اجلاس، سویڈن اور نیدرلینڈز میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی شدید مذمت

پر شائع ہوا

کی طرف سے

قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات اسلاموفوبیا کا مظہر ہیں، او آئی سی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اقوام متحدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک نے سویڈن اور نیدرلینڈز میں قرآن پاک کے بے حرمتی کے گھنائونے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات اسلاموفوبیا کا مظہر ہیں۔ پاکستان اس وقت اسلامک کانفرنس آف فارن منسٹرز (آئی سی ایف ایم) کا چیئرمین ہے۔

 اجلاس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور کردہ تاریخی قرارداد کے مطابق اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کو منانے کے لیے نیویارک میں اقوام متحدہ میں خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے اس اجلاس کے ذریعے ہم مسلم مخالف بیان بازی اور نسل پرستی امتیازی سلوک، منفی دقیانوسی تصورات اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے طریقوں کا مقابلہ کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی یکجہتی اور تعاون کا مطالبہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد پر پیش رفت کے طور پر او آئی سی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دے گی کہ وہ او آئی سی ممالک کے ساتھ مل کر اسلامو فوبیا کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لیے ایکشن پلان تشکیل دیں۔پاکستانی مندوب نے او آئی سی کے اجلاس کو بتایا کہ 8مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نیویارک میں اسلام میں خواتین کے موضوع پر ایک اعلی سطحی کانفرنس کی میزبانی اور صدارت کریں گے۔

اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک نے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اس کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مبصر ریاض منصور نے او آئی سی کے اجلاس کومسجد االاقصی کے تقدس کی خلاف ورزیوں سمیت فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے اشتعال انگیز اقدامات بارے آگاہ کیا۔

 

دنیا

روس یوکرین جنگ میں امن عمل کے لیے کئی مشکل سمجھوتے کرنا ہوں گے،سعودی عرب

یوکرین کی جنگ میں قابل اعتبار امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے روس کی شرکت ضروری ہوگی، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

روس یوکرین جنگ  میں امن عمل کے لیے کئی مشکل سمجھوتے کرنا ہوں گے،سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ یوکرین امن عمل میں کئی مشکل سمجھوتے کرنے والی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئٹزر لینڈ میں ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا  یوکرین کی جنگ میں قابل اعتبار امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے روس کی شرکت ضروری ہوگی۔ اس عمل میں کئی مشکل سمجھوتے بھی کرنا ہوں گے۔ تاہم مملکت اس جنگ کے خاتمے لیے میں مدد کرنے کے لیے اپنی غیر معمولی کمٹمنٹ کا اعادہ کرتی ہے۔

 سعودی وزیر خارجہ نے کہا  یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اس مقصد کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ سنجیدہ مذاکرات ممکن ہو سکیں۔ مگر سنجیدہ مذاکرات کے لیے کئی اہم سمجھوتے کرنا پڑیں گے۔ تبھی امن کے لیے ایک ' روڈ میپ ' کی تیاری ممکن ہو سکے گی۔

واضح رہے فروری 2022 سے جاری اس روس یوکرین جنگ میں سعودی عرب کو ایک اہم اور قائدانہ حیثیت کے حامل کے طور پر سوئٹزرلیینڈ کی اس کانفرنس میں ویک اینڈ پر موجود ہوگا۔ کانفرنس میں کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت ہو گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

منڈی بہاؤالدین کے علاقے شانہ لوک سے لڑکی اور لڑکے کی لاش برآمد

پولیس حکام کے مطابق لڑکے کو گولی مار کر اور لڑکی مبینہ طور پر پانی میں گرا کر قتل کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

منڈی بہاؤالدین کے علاقے شانہ لوک سے لڑکی اور لڑکے کی لاش برآمد

منڈی بہاؤالدین کے علاقے شانہ لوک سے لڑکی اور لڑکے کی لاش برآمد کی گئی ہے ۔ 

پولیس حکام کے مطابق لڑکے کو گولی مار کر اور لڑکی مبینہ طور پر پانی میں گرا کر قتل کیا گیا ۔ 

پولیس نے  جائے وقوعہ سے لاشیں قبضے میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

غزہ میں جنگ بندی کیلئے مصر اور قطر جلد دوبارہ کوشش کریں گے، امریکہ

ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلے کے حل کے کیے ہر وقت راستہ اور امکان رہتا ہے، سلیوان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

غزہ میں جنگ بندی کیلئے  مصر اور قطر جلد دوبارہ کوشش کریں گے، امریکہ

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ مصر اور قطر جلد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کوشش کو دوبارہ شروع کریں گے تاکہ صدر جوبائیڈن کے منصوبے کے تحت معاہدہ ممکن ہو سکے۔

جیک سلیوان نے امن کانفرنس کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور قطر سے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

امریکی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ ایک ایسی جنگ بندی تجویز کی گئی ہے جس کی مدت کم از کم چھ ہفتے ہو گی ۔ قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے اتوار کے روز دوبارہ بات چیت ہو گی۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے صدر جوبائیڈن کی طرف سے سامنے لائے گئے امن منصوبے کا ابتدائی طور پر خیر مقدم کیا ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے اور اسرائیلی فوج کا انخلا کیا جانا چاہیے۔

سلیوان نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلے کے حل کے کیے ہر وقت راستہ اور امکان رہتا ہے۔ اس لیے اب اگلا قدم قطر اور مصر کے حکام کی طرف سے مذاکرات کی نئی کوشش ہو گی۔ جہاں تک حماس کے نکات کا تعلق ہے ہم اسرائیل کے ساتھ بھی مشورہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خیال رہے غزہ جنگ سات اکتوبر 2023 سے جاری ہے اور اسرائیلی یرغمالی بھی اسی روز سے غزہ میں قید ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll