23 جنوری کو ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بدترین بریک ڈاؤن کی انکوائری مکمل
پن بجلی والے منصوبے ٹرپنگ کے فوری بعد بجلی پیداوار میں ناکام رہے


23 جنوری کو ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بدترین بریک ڈاؤن کی انکوائری رپورٹ تیار کر کے ذمہ داروں کا تعین بھی کر لیا گیا ہے۔انکوائری رپورٹ میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے افسران، پاور کنٹرول مینجمنٹ اور شفٹ انچارج کو بجلی بریک ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پن بجلی والے منصوبے ٹرپنگ کے فوری بعد بجلی پیداوار میں ناکام رہے لہذا این ٹی ڈی سی، واپڈا، آئی پی پیز بجلی بحالی کا باقاعدہ نظام مرتب کریں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے پاور پلانٹس کے میرٹ آرڈر پر سختی سے عمل کیا جائے، پن بجلی منصوبوں میں ٹرپنگ کے بعد جلد از جلد بحالی کی صلاحیت کی تحقیقات کی جائیں۔
انکوائری کمیٹی کی جانب سے یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سالانہ بنیادوں پر بلیک آؤٹ کی صورت حال سے نمٹنے کا پری ٹیسٹ کیا جائے اور پاور سسٹم کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بنیاد پر چلایا جائے۔

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد بسوں کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ
- 8 hours ago

ایران کی جوابی کارروائیاں جاری: حیفہ میں آئل ریفائنری کے قریب راکٹوں سے حملوں میں 6 افراد زخمی
- 8 hours ago

لاہور،فیصل آباد، پشاور، اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں زلزلےکے جھٹکے
- 2 hours ago

پاکستان کا متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنے کا فیصلہ
- 4 hours ago

مشرق وسطیٰ کشیدگی:قوام متحدہ کا خلیجی ممالک کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان
- 5 hours ago

امریکی فوج میں ہلچل: آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا
- 5 hours ago

عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی،ٹرمپ کا ایران کےپُلوں اور بجلی گھر وں کو تباہ کرنے کی دھمکی
- 8 hours ago

شہریوں کیلئے بڑا ریلیف : حکومت کا ٹرین کے کرایوں میں مجوزہ اضافہ روکنے کا فیصلہ
- 8 hours ago

وزیر اعظم نے ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ معطل کر دیا
- 7 hours ago

ایران کا دوسرا امریکی ایف-35 لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ، پائلٹ کی تلاش جاری
- 3 hours ago

وزیراعلیٰ سندھ کا رجسٹرڈموٹرسائیکل سواروں کوڈیجیٹل وائلٹس کے ذریعے ہر ماہ 2 ہزار دینے کا اعلان
- 6 hours ago

گلوکارعلی ظفر کا ہتک عزت کیس کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا
- 5 hours ago







