جی این این سوشل

پاکستان

ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں سوال جواب کا کسی کو حق نہیں،شاہ محمود قریشی

ایٹمی اثاثوں اور پروگرام پر قومی اتفاق رائے ہے،وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں  سوال جواب کا کسی کو حق نہیں،شاہ محمود قریشی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں ہم سے سوال جواب کرے۔ ایٹمی اثاثوں اور پروگرام پر قومی اتفاق رائے ہے۔ 

وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی  کہنا تھا کہ سینیٹ کے فلور سے ایک بیان داغہ گیا۔ اسحاق ڈار نے یہ بیان سینیٹ کے فلور پر کیوں دیا۔ اس کی شدت اتنی تھی کہ ترجمان دفتر خارجہ کو وضاحت کرنا پڑی۔ ممتاز زہرہ نے کہا ہمارا نیوکلیئر پروگرام کسی ایجنڈے پر نہیں۔ انہوں نے فرمایا کسی فنانشل انسٹیٹیوشن کے ایجنڈے پر بھی نہیں اور نہ ہی کسی انٹرنیشنل فورم پر یہ زیربحث ہے۔ 

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار حکمران خاندان کے سمدھی ہیں۔ فلور آف داہاؤس پر جب ایک منسٹر بیان دیتا ہے تو اسے ذاتی بیان نہیں کہا جائے گا۔ اسحاق ڈار وزیرخزانہ ہیں اور بات ایٹمی پروگرام پر کررہے ہیں۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ کیا آپ سے اس قسم کا مطالبہ کیا گیا؟ اگر نہیں کیا گیا تو آپ نے اتنا بڑا بیان کیوں دیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کبھی کہا جاتا ہے ہمارا سیکیورٹی سسٹم مناسب نہیں جو کہنا غلط ہے۔ ہمارا سسٹم ناصرف سیکیور بلکہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے معیار سے مطابقت رکھتا ہے۔ رضاربانی نے بھی کہا کہ اس بیان کے بعد لازم ہے کہ عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ جو قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں، عوام کو بتایا جائے کہ حقیقت کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جوائنٹ سینیٹ کے سیشن کا مطالبہ ن لیگ اور پی پی کے سینیٹرز کررہے ہیں۔ اس جوائنٹ سیشن میں وزیراعظم پاکستان پالیسی بیان دیں۔ اگر سمجھتے ہیں کہ حساس باتیں ہیں تو ان کیمرہ سیشن لیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے سینیٹر وزیراعظم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وضاحت کریں۔ 

انہوں نے سوال کیا کہ آئی ایم ایف کے تمام مطالبات ماننے کے باوجود وہ معاہدہ کیوں نہیں کرپا رہے۔ سٹاف لیول ایگریمنٹ منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچ رہا۔ وزیراعظم عوام کو بتائیں کہ بڑھتی دہشتگردی پر اعتماد میں کیوں نہیں لیا جارہا۔ کے پی اور بلوچستان میں واقعات آپ کے سامنے ہورہے ہیں۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ جوہمارا آزمایا ہوا دوست ہے۔ اس نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔ بھارت کے وزیراعظم پاکستان عوام سے مخاطب ہورہے ہیں۔ بھارت اور آرایس ایس کی سوچ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ 

پاکستان

تجارتی معاہدوں پر پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، ایرانی صدر کا دورہ پاکستان پر امریکہ کا ردعمل

تجارتی معاہدوں پر ممکنہ پابندیوں کا فوری جائزہ نہیں لے رہے، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تجارتی معاہدوں پر پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، ایرانی صدر کا دورہ پاکستان پر امریکہ کا ردعمل

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پاک ایران تجارتی معاہدوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر پابندیوں کا خطرہ ہو سکتا ہے، تجارت معاہدوں پر غور کرنے والوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معاہدوں پر ممکنہ پابندیوں کا فوری جائزہ نہیں لے رہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا، پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور اس کے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا 20 برس سے پاکستان میں ایک بڑا سرمایہ کار بھی ہیں، پاکستان کی اقتصادی کامیابی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، ہم اپنی شراکت کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔

میتھیو ملر نے کہا کہ اسرائیل کو آگاہ کر دیا کہ امریکا بے گھر فلسطینیوں کی واپسی چاہتا ہے، رفاہ میں پناہ گزین فلسطینیوں کی تعداد 14 لاکھ سے بڑھ گئی، کوئی جواز نہیں کہ رفاہ میں اسرائیل فوجی آپریشن کرے۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی پاکستان کا 3 روزہ دورہ کررہے ہیں۔ گزشتہ روز دورے کے پہلے دن پاکستان اور ایران کے درمیان 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے، وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت معیشت کو مستحکم کرنےکیلئے کوشاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے، ترقی کے مواقع کو فروغ دینے، مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے ،غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کو اسلام آباد بزنس سمٹ 2024 میں  ترقی کے لئے تعاون کے موضوع پر خطاب کرتےہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔زراعت اور صنعت کی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی ڈی پی میں مالی سال 2024 میں 2.6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ افراط زر کی شرح 24 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جو کہ مالی سال 2023 میں 29.2 فیصد سے کم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ پائیدار حدوں میں رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم فصلوں کی پیداوار غیر معمولی ہے۔

جولائی تا فروری 2024 کے دوران زرعی قرضوں کی تقسیم میں 33.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بہتر فصلوں کی وجہ سے صنعتی شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کئے ہیں۔ سی پی آئی افراط زر مارچ 2024 میں 20.7 فیصد سالانہ پر پہنچ گیا جو پچھلے سال کے اسی مہینے 35.4فیصد تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا مارچ 2024 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا۔ایف بی آر نے 6707 بلین روپے کے مقررہ ہدف سے زیادہ جمع کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2024 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال 3.9 بلین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں 74 فیصد کم ہو کر 1.0 بلین ڈالر رہ گیا۔جولائی تا مارچ مالی سال 2024 کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال 22.7 بلین ڈالر کے مقابلے میں 24.9 فیصد کم ہو کر 17.0 بلین ڈالر رہ گیا۔

حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ کو مناسب حدود میں رکھنے کا اہداف رکھا ہے۔ حکومت کے فعال اقدامات اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے معاشی نقطہ نظر مثبت ہے۔

وزارت خزانہ،ایف بی آر اور وزارت قانون کے تعاون کے ساتھ مل کر محصولات کے اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ریاست کے ملکیتی ادارے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ 

پی آئی اے کی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ حکومت پرائیویٹائیزیشن کے اقدامات کو بھی تیزی سے آگے لے کر چل رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

ایران کا یورپی یونین کی جانب سےغیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر اظہار افسوس

یورپی یونین ایران کے بجائے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے، ایرانی وزیر خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایران کا یورپی یونین کی جانب سےغیر قانونی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر اظہار  افسوس

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے یورپی یونین کی جانب سے اسرائیل کے حملے کے پیش نظر اپنے "دفاع کے حق" کو استعمال کرنے کے لیے ایران پر مزید "غیر قانونی" پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پر رد عمل دیتے ہوئے امیر عبداللہیان نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اس کے ملک کے بجائے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے گذشتہ ہفتے لکسمبرگ میں ملاقات کے دوران تہران کے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کے تناظر میں اس کے خلاف پابندیوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

گذشتہ جمعے کو وسطی ایران کے شہر اصفہان میں دھماکے ہوئے تھے اور ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف عبدالرحیم موسوی نے کہا تھا کہ وہ فضائی دفاع کی وجہ سے متعدد "اڑنے والی اشیاء" کو تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اصفہان میں فضائی دفاع کو فعال کیا گیا تھا۔

یہ تازہ ترین پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا تھا، جب کہ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ایران نے رد عمل دیا۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایرانی میزائل اور ڈرون بنانے والوں کے خلاف پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کے لیے ایک سیاسی سمجھوتہ کیا ہے۔ یہ بات یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے لکسمبرگ میں یورپی یونین کونسل کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

بوریل نے پیر کو کہا کہ "ہم ایرانی ڈرون اور میزائل بنانے والے اداروں اور روس کو ممکنہ میزائل سپلائی کے خلاف پابندیوں کے نظام کو وسعت دینے کے لیے ایک سیاسی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

 بوریل نے مزید کہا کہ "نظام ایک ہی ہے۔ میزائل بنانے والوں کے خلاف پابندیاں عاید کی جائیں گی۔ روس اس کے پراسکیوں اور ایران کی پراسکیوں پر پابندیوں کا دائرہ بڑھایا جائےگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll