سپریم کورٹ میں انتخابات ملتوی کرنےکےخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت ہوئی۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے اختلافی نوٹ پر قائم ہوں، انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس مسترد کردیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خدشات سے متعلق رپورٹس دی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ 20 سال سے ہے، اس کے باوجود انتخابات ہوتے رہے ہیں، جس ضلع میں زیادہ مسئلہ ہے وہاں الیکشن مؤخر ہوسکتے ہیں، 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا، 8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے التواء سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز ہوگیا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل پیش کئے گئے، کہا کہ الیکشن کمیشن کی 8 اکتوبر کی تاریخ عارضی نہیں ہے، کچھ علاقوں میں الیکشن کرائیں تو ایجنسیوں کے مطابق وہاں دہشتگردی کے حملے ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے، صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کےلیے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے، ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کےلیے وسیع اختیارات ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،انتخابی شیڈول پر عمل شروع ہوگیا تھا،اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آجاتے،الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ الیکشنز 6 ماہ آگے کیوں کردئیے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پورے کریگا، کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، صرف پولنگ کا دن نہیں، پورا الیکشن پروگرام موخر کیا ہے۔
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن پروگرام تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- 12 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلئے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان
- 12 hours ago

بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے آئندہ ہفتوں کیلئے مزید پٹرولیم کارگو کے انتظامات کر لیےہیں،وزیرخزانہ
- 7 hours ago

خیالِ نو کے وفد کا خانہ فرہنگ ایران کا دورہ، شہید آیت اللہ کے سانحۂ ارتحال پر تعزیت کا اظہار
- 7 hours ago

لاہور:اللہ والے فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 6ویں سالانہ افطار، نماز و دعا کی روح پرور تقریب کا انعقاد
- 10 hours ago

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 11 hours ago

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پیشِ نظر حکومت نے تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا
- 10 hours ago

سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی، وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کی منظوری دیدی
- 9 hours ago

کفایت شعاری پالیسی کے حوالے سے خصوصی اجلاس ،وفاقی کابینہ کا 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ
- 13 hours ago

مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر مقرر،ایران کے اسرائیل پر بھرپور میزائل حملے
- 12 hours ago

پاکستان نیوی نےخطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر آپریشن “محافظ البحر” شروع کر دیا
- 9 hours ago

ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹرین کی تنخواہ میں 25 فیصد کٹوتی ، وزیر اعظم کاخطاب
- 7 hours ago












