غیر قانونی طور پربڑی بلیوں سمیت دیگرجانوروں کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے،سینیٹر شیری رحمن
فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی محکموں میں تقرریوں پر پابندی عائد ہے


اسلام آباد: وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے بڑی بلیوں سمیت دیگرایسے جانور جن کی پرورش پاکستان میں نہیں ہوسکتی کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
ملک میں 44نیشنل پارکس کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کے پی سی ون کےلئے صوبوں نے بھی فنڈز دینے ہیں ان کا انتظار کیا جارہا ہے، فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی محکموں میں تقرریوں پر پابندی عائد ہے۔
جمعہ کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سیمی ایزدی کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ ملک بھرمیں 44 محفوظ علاقے قرار دیئے گئے ہیں جن میں گلگت بلتستان میں 23، بلوچستان ایک اورسندھ میں 2 شامل ہیں۔
اس کے پی سی ون صوبوں سے آنے ہیں ان کا انتظارکیا جارہا ہے۔ ہماری تیاری مکمل ہے ، پارکس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈزکی کمی کی وجہ سے یہاں تقرریاں بھی نہیں کی جارہیں۔
یہ ہمارے قدرتی وسائل ہیں، گرین کلائیمیٹ فنڈ سے پاکستان کو کم پیسے ملتے ہیں اس کےلئے ہم نے مستقل کیس لڑا ہے، ان نیشنل پارکس کی دیکھ بھال صوبوں نے کرنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ زیادہ تر گرانٹس قرض کی مد میں دی جارہی ہیں ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ گرانٹ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہنٹنگ سب سے زیادہ بلوچستان میں ہورہی ہے، ہم نے باہر سے بڑی بلیوں سمیت دیگرایسے جانور جن کی پرورش پاکستان میں نہیں ہوسکتی کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے۔
اسلام آباد سے ایک بنگال ٹائیگر برآمد ہواجو غیرقانونی طور پر یہاں لایا گیا ،یہاں موافق آب ہوا نہ ہونے کی وجہ سے ہلکان ہے، اس کوافریقہ یا کسی مناسب ملک میں بھجوائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ اصول بنایا ہے کہ جو پرندہ باہر سے کسی جہاز میں کوئی لائے گا وہ وہی واپس لے جاسکے گا،اس کےلئے چپ دکھانا لازمی ہوگی۔وزارت ماحولیاتی تبدیلی کا بجٹ سیلاب کے بعد زندگی بچانے والے منصوبوں کےلئے مختص کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں پلاسٹک کے استعمال پر ہمارے مطالبے پر سینیٹ نے پابندی لگائی ، اس پر چیئرمین سینٹ کے شکرگزار ہیں، ملک میں پلاسٹک کا فضلہ جمع کریں تو 2 کے ٹو پہاڑ بن جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی مینوفیچرنگ کمپنی نہیں ہے، ہمیں الیکٹرک وہیکل پالیسی کا نچلی سطح سے آغاز کرنا ہوگا۔

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 15 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 8 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 14 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 13 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 14 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 8 hours ago

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 12 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 14 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 12 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 8 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 8 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 15 hours ago













