Advertisement

سوڈان میں متحارب فریقین مذاکرات کے لیے تیار

مذاکرات کے لیے نمائندے نامزد کیے ہیں جو سعودی عرب کے شہر جدہ یا جنوبی سوڈان کے شہرجبہ میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کریں گے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Apr 30th 2023, 5:06 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سوڈان میں متحارب فریقین مذاکرات کے لیے  تیار

اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا ہے کہ سوڈان میں متحارب فریقین مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے ہیں اور انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ دو ہفتے قبل شروع ہونے والا تنازع تادیرجاری نہیں رہ سکتا۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ وولکر پرتھیس نے کہا ہے کہ فریقین نے مذاکرات کے لیے نمائندے نامزد کیے ہیں جو سعودی عرب کے شہر جدہ یا جنوبی سوڈان کے شہرجبہ میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق عملی سوال یہ ہے کہ کیا وہ 'واقعی ایک ساتھ بیٹھنے' کے لیے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

 
انھوں نے کہاکہ مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی ہے۔دونوں فریقوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے امکانات اب تک بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔جمعہ کے روز فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے ایک انٹرویو میں جنرل محمد حمدان دقلو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آر ایس ایف کے 'باغی' رہنما کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھیں گے۔

سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اقتدار کی طویل کشمکش کے بعد 15 اپریل کولڑائی چھڑ گئی تھی۔اس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم متحارب فورسز کے درمیان لڑائی نے بجلی، پانی اور ٹیلی کمیونی کیشن کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، اور لوٹ مار نے کاروبار اور گھروں کو تباہ کردیا ہے۔ دسیوں ہزار سوڈانی لڑائی میں یا تو دوسرے قصبوں کارُخ کررہے ہیں یا ہمسایہ ممالک کی طرف راہ فراراختیار کرگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان سے اب تک 45 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ لڑائی جاری رہی تو 2 لاکھ 70 ہزار افراد ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

Advertisement