جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان کو کسی کرمنل کیس ، 9 مئی کے بعد درج مقدمات ، ایم پی او وغیرہ میں پیر تک گرفتار نہ کیا جائے:عدالت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو کسی کرمنل کیس ، 9 مئی کے بعد درج مقدمات ، ایم پی او وغیرہ میں پیر تک گرفتار نہ کیا جائے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان کو کسی کرمنل کیس ، 9 مئی کے بعد درج مقدمات ، ایم پی او وغیرہ میں پیر تک گرفتار نہ کیا جائے:عدالت
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ایم پی او کے تحت گرفتاری بھی پیر تک روک دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو کسی اور کرمنل کیس میں بھی پیر تک گرفتار نہ کیا جائے۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ کسی کرمنل کیس ، 9 مئی کے بعد درج مقدمات ، ایم پی او وغیرہ میں پیر تک گرفتار نہ کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانتوں کے تحریری احکامات جاری کردیے اور عمران خان کے وکلا کو ہائیکورٹ کا تحریری آرڈر مل گیا۔

پاکستان

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔ 

پیکا ایکٹ کے ملزمان کا تحت ٹرائل کے معاملے پر بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی روف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے نئی قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔

عدالتوں کی تشکیل کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔دوسری جانب وزارت قانون نے وضاحت کی ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حکم کی روشنی میں پیکا ایکٹ ملزمان کے ٹرائل کیلئے عدالتیں تشکیل دی گئیں ہیں، جسٹس بابر ستار نے 6 جون 2024 کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نےقیمتیں مقرر کرنے کا حکومتی اختیارختم کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق قیمتیں بڑھانے کےنتیجے میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے،قیمتیں کم ہونے کی صورت میں حکومت کو مطلوبہ عوامی ستائش نہیں ملتی۔جس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مرحلہ وار قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کی تیاری کرلی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر پیٹرولیم نے اہم اجلاس کل طلب کرلیا۔چئیرمین اوگرا کو قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کے اثرات اور لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا حتمی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قمتیں مقرر کرنے کااختیار دینے کی مخالفت کی تھی۔ ان کاکہناہے کہ کھلا اختیار ملنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب ناجائز منافع خوری کا خدشہ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 5 جولائی کا چیف کمشنر کا این او سی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلہ ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر سماعتوں کے بعد سنایا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے پانچ صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں عدالت نے 5 جولائی کا چیف کمشنر کا این او سی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی جلسہ کے این او سی کی درخواست اسلام آباد انتظامیہ کے سامنے زیر التوا تصور ہوگی، اسلام آباد انتظامیہ قانون کے مطابق اور وجوہات کے ساتھ درخواست پر فیصلہ کرے.

5 جولائی کے آرڈر کے مطابق محرم میں لا اینڈ آرڈر صورت کی وجہ سے این او سی واپس لیا گیا، این او سی واپس لینے سے پہلے چیف کمشنر نے پی ٹی آئی کے کسی نمائندے کو آگاہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll