جی این این سوشل

تجارت

بینکوں کی جانب سے قرضہ لینے اوردینے پرعائد شرح منافع میں اضافہ

اپریل میں آوٹ سٹینڈنگ ڈیپازٹس کیلئے لینڈنگ ریٹس کی شرح 17.57 فیصد ریکارڈکی گئی،اسٹیٹ بینک

پر شائع ہوا

کی طرف سے

بینکوں کی جانب سے قرضہ لینے اوردینے پرعائد شرح منافع  میں اضافہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

بینکوں کی جانب سے قرضہ لینے اوردینے پرعائد شرح منافع (سپریڈ) میں اپریل کے دوران سالانہ بنیادوں پراضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق اپریل میں آوٹ سٹینڈنگ ڈیپازٹس کیلئے لینڈنگ ریٹس کی شرح 17.57 فیصد ریکارڈکی گئی جوگزشتہ سال اپریل میں 10.26 فیصد تھی، ایک سال کی مدت میں آوٹ سٹینڈنگ ڈیپازٹس کیلئے لینڈنگ ریٹس کی شرح میں 721 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہواہے،

 آئوٹ سٹینڈنگ ڈپپازٹس کیلئے ڈیپازٹس کی شرح 9.69 فیصدریکارڈکی گئی جو گزشتہ سال اپریل میں 5.24 فیصدتھی، ایک سال میں آئوٹ سٹینڈنگ ڈپپازٹس کیلئے ڈیپازٹس کی شرح میں 445 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہواہے، اپریل میں لینڈنگ ریٹس پرسپریڈ کی اوسط شرح 7.88 فیصد ریکارڈکی گئی جوگزشتہ سال اپریل میں 5.02 فیصدتھی۔اعدادوشمارکے مطابق نئے کھاتوں (فریش ڈیپازٹس) کیلئے لینڈنگ کی شرح اپریل میں 21 فیصد ریکارڈکی گئی جو گزشتہ سال اپریل میں 11.78 فیصد تھی، ایک سال کی مدت میں لینڈنگ کی شرح میں 913 بیسس پوائنٹس کااضافہ ریکارڈکیاگیاہے،

فریش ڈیپازٹس پرڈیپازٹ کی شرح اپرئل میں 10.96 فیصد ریکارڈکی گئی جو گزشتہ سال اپریل میں 5.78 فیصدتھی، ایک سال کی مدت میں ڈیپازٹ کی شرح میں 517 بیسس پوائنٹس کااضافہ ہوا۔فریش ڈیپازٹس کیلئے اپریل میں اوسط سپریڈ کی شرح 10.04 فیصد ریکارڈکی گئی جو گزشتہ سال اپریل میں 6.09 فیصدتھی

پاکستان

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کیلئے کیسز کو آہستہ چلایا جا رہا ہے، علی امین گنڈاپور

ہمارے قائد عمران خان کو جعلی کیسز میں سے جیل میں رکھا گیا ہے، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کیلئے کیسز کو آہستہ چلایا جا رہا ہے، علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے قائد عمران خان کو جعلی کیسز میں سے جیل میں رکھا گیا ہے، جعلی کیسز کو آہستہ آہستہ چلایا جارہا ہے تاکہ انہیں لمبے عرصے تک جیل میں رکھا جاسکے،  مینڈیٹ چور حکومت ایک نحوست ہے اور جس نے اسے مسلط کیا اس پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے تمام اہل اسلام کو عید قرباں کی مبارکباد، جو صاحب استطاعت لوگ قربانی کر رہے ہیں ان سے اپیل ہے کہ وہ اپنے اردگرد مستحق لوگوں کا خاص خیال رکھیں۔میں آج پوری پاکستانی قوم سے مخاطب ہوں اور کچھ ضروری باتیں کرنا چاہتا ہوں، 

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو لمبے عرصے تک جیل میں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے نظریے اور تحریک سے پیچھے ہٹ جائے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا، عمران خان نے قوم کو جگانے کی تحریک شروع کر رکھی ہے، عدلیہ سے اپیل ہے کہ ان جعلی کیسز کو جلد سے جلد ختم کیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا ک  وفاق میں فارم 47 والی حکومت عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بیٹھی ہوئی ہے، عوام کا مینڈیٹ چوری کروانے والوں کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک کو چلانے کا آپ کا طریقہ کار درست نہیں، عمران خان کی حکومت کو ایک سازش کے تحت ہٹا کر پی ڈی ایم کی ڈمی حکومت بٹھائی گئی، پی ڈی ایم کی حکومت نے اس وقت ملک کا جو حال کیا ہے وہ قوم کے سامنے ہے، ملک میں عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کرکے آئین کو توڑا گیا، اس کے بعد ملک میں فسطائیت کا ایک دور شروع کیا گیا تاکہ تحریک انصاف کو ختم کیا جائے، وہ دور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا بدترین دور تھا۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ جو مینڈیٹ چور حکومت مسلط کی گئی ہے یہ ایک نحوست ہے، جنہوں نے اس حکومت کو مسلط کیا ہے ان پر بھی اس نحوست کے اثرات پڑ رہے ہیں، قوم ان لوگوں کو یکسر مسترد کرچکی ہے اور ان اداروں سے شکوہ کر رہی ہے جو ان لوگوں کو لے آئے ہیں، یہ سب جانتے ہوئے بھی ان لوگوں کو مسلط کیا گیا کہ ان لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت یا عوام کا عزم کمزور ہوگا تو یہ ان کی بھول ہے، ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں، یہ حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے اور بار بار کر رہی ہے، ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنا حق لینے تک لڑتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں قوم کے ساتھ مذاق کیا گیا، یہ جھوٹا اور فراڈ بجٹ ہے، جس طرح یہ خود جھوٹے ہیں اسی طرح جھوٹے اعداد و شمار پر مبنی بجٹ پیش کیا ہے، ہم نے اعلان کیا تھا کہ ملازمین کی تنخواہیں وفاقی حکومت کے حساب سے بڑھائی جائیں گی، ایک دفعہ پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ صوبے کے واجبات اور ضم اضلاع کے فنڈز ہمیں ادا کئے جائیں، صوبے میں امن و امان اور بے روزگاری کے مسائل درپیش ہیں، ہم نے لوگوں کو روزگار دینے کے لئے ایک فلاحی بجٹ دیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے صوبے کی معیشت تباہ ہوئی ہے، صوبے کے نقصانات کا ازالہ ہونا چاہیے، ہمیں ہماری واجبات ملنے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ٹرولنگ کے ذریعے عمران خان اور پارٹی قائدین کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں اس کا فائدہ ہوگا، میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، آپ اپنی فیملی اور بچوں سے پوچھیں وہ بھی آپ کی اس پالیسی کو مسترد کرتے ہیں، جن لوگوں نے ملک کو بار بار لوٹا ہے ان لوگوں کو حکومت میں بٹھا کر بڑا جرم کیا گیا، اس جرم کا ایک ہی ازالہ ہے کہ اللہ تعالٰی اور قوم سے معافی مانگی جائے اور اپنی اصلاح کی جائے، اگر اصلاح نہیں کی جائے گی تو قوم اپنے حق کے لئے نکلے گی، اس وقت مایوسی کا عالم ہے اور قوم اداروں سے مایوس دکھائی دے رہی ہے، قوم اب عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ عدلیہ کب انصاف کرے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جن لوگوں نے توشہ خانہ سے ممنوعہ چیزیں لی ہوئی ہیں وہ آج ملک کے صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں، جن پارٹیوں نے منی لانڈرنگ کی جس کے ثبوت خود اداروں نے دیے وہ پارٹیاں آج حکومت میں بیٹھی ہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قوم یہ سب کچھ برداشت کرلے گی تو یہ غلط فہمی ہے، قوم جلد فیصلہ کرنے لگی ہے کہ اگر اصلاح احوال نہ ہوا تو قوم حقیقی آزادی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی، ہم اپنے حقوق کے لئے نکلیں گے تو کشتیاں جلا کر نکلیں گے، ایسے میں نقصان ان عناصر کا ہوگا جو قوم کو غلام بنانا چاہتے ہیں، بہتر ہے اس نقصان سے بچا جائے اور قوم کو بھی بچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک بھی ہمارا ہے اور ادارے بھی ہمارے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ان کاموں پر توجہ دیں جن کے لئے انہیں بنایا گیا ہے اور ایسے کاموں سے گریز کیا جائے جو ادارے کے ساتھ ساتھ ملک کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہوں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

لسبیلہ: پولیس موبائل کی گاڑی کو حادثہ، 5 اہلکار جاں بحق

لاشوں اور زخمی ہونے والوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال اوتھل منتقل کر دیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لسبیلہ: پولیس موبائل کی گاڑی کو حادثہ، 5 اہلکار جاں بحق

لسبیلہ میں پولیس موبائل کو حادثہ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔

ذرائعکے مطابق پولیس موبائل کو افسوسناک حادثہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں دبئی مسجد کے قریب پیش آیا جہاں معمول کی گشت پر موجود پولیس موبائل کا ٹائر اچانک پھٹ گیا جس کی وجہ سے گاڑی الٹ گئی، حادثے کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 2 زخمی ہوئے۔

حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی نفری اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے، لاشوں اور زخمی ہونے والوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال اوتھل منتقل کر دیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، مرنے والے اہلکاروں کا تعلق بیلہ اور اوتھل سے ہے، پولیس موبائل دریجی سے اوتھل جا رہی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

نیتن یاہو نے 6 رکنی جنگی کابینہ تحلیل کر دی

نیتن یاہو ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ غزہ جنگ کے بارے میں مشاورت کریں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیتن یاہو نے 6 رکنی  جنگی کابینہ تحلیل کر دی

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کر دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے 6 رکنی جنگی کابینہ کو تحلیل کر دیا ہے، مرکزپسند سابق جنرل بینی گانٹرز کے استعفے کے بعد اس اقدام کی توقع کی جا رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی رہنما نے اس فیصلے کا اعلان گزشتہ شام سیاسی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کیا تھا، اب نتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی شراکت دار ایک نئی جنگی کابینہ کے قیام کے لیے زور دے رہے ہیں۔نیتن یاہو اب جنگی کابینہ میں رہنے والے وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر سمیت وزرا کے ایک چھوٹے گروپ سے غزہ جنگ کے بارے میں مشاورت کیا کریں گے۔

نیتن یاہو کو وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر جیسے قوم پرست مذہبی شراکت داروں کی جانب سے جنگی کابینہ میں شمولیت کے مطالبے کا سامنا تھا، یہ ایسا اقدام ہے جس سے امریکا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تناؤ مزید بڑھ جائے گا۔

مذکورہ جنگی کابینہ گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ کے آغاز پر تشکیل دی گئی تھی، جب بینی گانٹز نیتن یاہو کے قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہوئے، کابینہ میں گانٹز کے ساتھی گاڈی آئزن کوٹ اور مذہبی جماعت شاس کے سربراہ آریہ دیری کو بطور مبصر شامل کیا گیا تھا۔ بینی گانٹز اور آئزن کوٹ دونوں نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو حکومت کو اس اعتراض کے ساتھ چھوڑ دیا، کہ وزیر اعظم غزہ جنگ کے لیے کوئی حکمت عملی بنانے میں ناکام ہو گئے ہیں، ان کا مطالبہ تھا کہ امریکی اور اتحادیوں کے مطالبات کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھی جائے، تاہم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر انھیں مسترد کر دیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll