Advertisement

پاکستان کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کا خدشہ،کمپنیوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور: ملک میں کورونا کی بدترین صورتحال کی وجہ سے آکسیجن کا استعمال بڑھ گیا،جبکہ آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے حکومت کو خبردار کر دیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 25th 2021, 3:59 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطا بق ایک ہفتے کے دوران شہر کے 8 سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن کے استعمال میں 35 فیصد اضافہ ہوا ۔میو اسپتال میں آکسیجن کے استعمال میں یومیہ 66 فیصد اضافہ ، جناح اسپتال میں آکسیجن کا استعمال مزید 60 فیصد بڑھ گیا ، اسپتال انتظامیہ سروسز اسپتال میں 55 ،جنرل اسپتال میں آکسیجن ے استعمال میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف اسپتال یکی گیٹ میں آکسیجن کے استعمال میں 47 فیصد اضافہ ہوا ،  گنگارام اسپتال 333 فیصد کوٹ خواجہ سعید اسپتال میں24 پی کے ایل آئی میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر کی سپلائی کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں، اسپتالوں میں بروقت آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بناتے ہیں،جبکہ ایک ہفتے کے دوران آکسیجن کے استعمال میں دگنا اضافہ ہوا پے ۔

فیصل آباد میں بھی کورونا کے باعث اسپتالوں میں آکسیجن کے استعمال میں  اضافہ ہونے لگا۔اسپتالوں میں  آکسیجن سیلنڈرز کی ڈیمانڈ چار فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

فیکڑی مینجر کے مطابق ایک اسپتال کو روزانہ کی بیناد 50 سیلنڈز فراہم کر رہے تھے ،اب ایک اسپتال کو روزانہ کی بیناد پر 300 سیلنڈز فراہم کر رہے ہیں۔آکسیجن سیلنڈرز کی سپلائی کمرشل صارفین کو بند کر دی ہے ،اسپتالوں میں  آکسیجن سیلنڈرز کی ڈیمانڈ میں 500  فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے حکومت کو اگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبےکو فراہمی نہ روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہے۔

حکام نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی نا ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں پانچ کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

Advertisement