آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت زراعت اور ریئل سٹیٹ پر کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس نہیں لگے گے،اسحاق ڈار


وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی دستاویزات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں جبکہ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت زراعت اور ریئل سٹیٹ پر کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس کی تردید کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق آئندہ دو سال میں افراط زر شرح 7 فیصد تک آ جائے گی جو ملک کے لئے ایک اچھی خبر ہے، ہمیں سیاست کو ایک طرف رکھ کر میثاق معیشت کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈآر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر بطور وزیر خزانہ میں اور گورنر سٹیٹ بینک اس پر دستخط کریں گے اور اس کی کاپی اس ہائوس کو فراہم کریں گے، یہ کام شفافیت کے لئے ضروری ہے، اس طرح کی جو بھی پیش رفت ہو اس سے اس ایوان کے معزز ممبران کو آگاہ کرنا ضروری ہے، ماضی میں بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے، 1999 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد 8 ماہ آئی ایم ایف کا پروگرام معطل ہونے کے بعد بحال ہوا تو اس کی تفصیلات ویب سائٹ پر ڈال دی تھیں۔ انہوں نے لیٹر آف انٹینٹ، میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانسل پالیسیز اور ٹیکنیکل میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ کی کاپیاں لائبریری میں رکھنے کے لئے پیش کیں تاکہ کوئی بھی اس کو دیکھ سکے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نواں جائزہ نومبر 2022 میں ہونا تھا جبکہ دسواں جائزہ فروری 2023 اور گیارہواں جائزہ مئی 2023 ہونا تھا، ان تینوں کی مالیت 2.5 ارب ڈالر تھی، یہ پروگرام 2019 میں شروع ہوا تھا، 2022 میں یہ ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن پروگرام معطل ہوئے۔ بجٹ کے دنوں میں اس حوالے سے سوال بھی پوچھے گئے، ہماری اس حوالے سے تیاریاں مکمل تھیں، ہم نے کوششیں کیں کہ دسویں اور گیارہویں جائزے کے 1.4 ارب ڈالر لیپس ہونے سے بچ جائیں، ہم نے اس کا سائز اڑھائی ارب ڈالر کی بجائے ساڑھے تین ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کی، 3 ارب ڈالر پر ہماری مفاہمت ہو گئی جس کی مدت 9 ماہ رکھی گئی ہے تاکہ نئی حکومت کے آنے تک یہ پروگرام ختم ہو چکا ہو اور حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد ملکی مفاد میں اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے بتایا کہ 215 ارب کے مالیاتی اقدامات اٹھائے، ہم نے اپنے اخراجات کم کئے، اس کے نتیجے میں بجٹ کی منظوری کے بعد سٹاف لیول معاہدہ ہوا، 30 جون کو سٹاف لیول معاہدے کے بعد 12 جولائی تک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے وعدے کے مطابق ہمیں امداد فراہم کی، 12 جولائی کو بورڈ کی سطح پر معاہدے کی منظوری ہوئی جس کے بعد ایک ارب 19 کروڑ ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے، اس سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ہمارے ذخائر کی مینجمنٹ میں مدد ملی، نئی حکومت کے آنے پر سٹیٹ بینک کے پاس 9.6 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب ڈالر تھے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر کے قریب تھے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام ساورنٹ ادائیگیاں وقت پر کرنی ہیں اور اس پر کوئی تاخیر یا ڈیفالٹ نہیں کرنا، اس وجہ سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ایک وقت میں 8 ارب ڈالر تک آ گئے، ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے ذخائر اسی سطح پر چھوڑ کر جائیں جتنے آتے وقت تھے، ہم نے بروقت ادائیگیاں بھی کیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف معاہدے کی زراعت اور تعمیرات پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے اخبارات میں خبریں چھپیں، ہم اس کی تردید کرتے ہیں کہ زراعت اور ریئل اسٹیٹ پر کوئی ایک بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، ہم نے جتنی تکلیف کاٹنی تھی وہ کاٹ چکے ہیں، ان خبروں کے چھپنے سے دیہی علاقوں کے زراعت سے وابستہ افراد میں تشویش پیدا ہوئی، ہم نے معاہدے کی کاپیاں فراہم کر دی ہیں، اس میں مستقبل کے تمام وعدے شامل ہیں، وزارت خزانہ کو واضح ہدایات دی ہیں کہ رات 12 بجے سے پہلے یہ تینوں دستاویز ویب سائٹ پر ڈال دی جائیں تاکہ ان تک ہر کسی کو رسائی حاصل ہو۔

ملیک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر ہزاروں روپے کا اضافہ
- 3 دن قبل
پاکستان کسان اتحاد کےخالد کھوکھر نے گورننس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی
- 2 دن قبل
گوجرانوالہ میں یومِ دفاع و شہداء کی پروقار تقریب
- 19 گھنٹے قبل

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون نئے مرحلے میں داخل ہو گیا: طاہر اشرفی
- 3 دن قبل
بہاولپور: یومِ دفاع و شہداء کی موقع پر پروقار تقریب منعقد کی گئی
- 19 گھنٹے قبل
نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے کوئی نہیں روک سکتا: محسن نقوی
- 2 دن قبل
پولیسں نے کراچی ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان پر تشدد کرنیوالا مرکزی ملزم گرفتار کر لیا
- 2 دن قبل

ملک میں سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟
- 2 دن قبل
میجر جنرل فیصل نصیر نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کا قومی کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا
- 3 دن قبل
ملتان میں یومِ دفاع و شہداء کی پروقار تقریب کا انعقاد
- 19 گھنٹے قبل
ملک میں پاسپورٹ ڈیلیوری اب ہو گئی اورآسان، جانیےکیسے؟
- 2 دن قبل
ایتھنز: ائیرشو کے دوران جنگی طیارہ گرکر تباہ
- 2 دن قبل





