Advertisement

3سالہ بیٹے کو مارنے والا درندہ صفت سوتیلا باپ گرفتار

بخارکی حالت میں بیٹے پر تشدد کرکے مارنے والادرندہ صفت باپ پولیس نے گرفتار کرلیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jul 29th 2023, 1:53 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
3سالہ بیٹے کو مارنے والا درندہ صفت سوتیلا باپ گرفتار

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق پاکتپن کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں نے خاوند کے فوت ہوجانے  پر ملزم سے دوسری شادی کی تھی اور لاہور کے علاقے شیرا کوٹ میں رہنے لگے تھے 

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ نکاح کے اگلے ہی دن  ملزم نے تینوں بچوں پر تشددد کرنا  شروع کردیا تھا ۔ 24 جولائی کو ماں نے اپنے سابقہ مرحوم شوہر کے بھائی ہدایت اللہ کو فون پر کہا تھا کہ ان کا تین سالہ بیٹا چاند علی بیماری کے باعث  فوت ہوگیا ہے  لہٰذا وہ اس کی تدفین لاہور میں ہی کرنے لگے ہیں۔ جواباَ انہیں کہا گیا وہ اپنے بھتیجے کو خود دفنائیں گے  لہٰذا وہ لاش پاکپتن لے آئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق اس پر خاتون نے فون بند کر دیا اور شام کو بچے کی لاش اور اپنی دو بچیوں کے ساتھ مرحوم خاوند کے گھر جانے کی بجائے اپنے والدین کے گھر چلی گئیں۔

رات گئے  کسی محلے دارکی اطلاع کے مطابق  وہ قریبی قبرستان پہنچے اور دیکھا کہ  خانون  اکیلے ہی بچے کو دفن کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایس پی آپریشنز اقبال ٹاؤن عثمان ٹیپو کے مطابق پولیس ہیلپ لائن 15 پر ایک کال موصول ہوئی کہ ایک خاتون بچے کو دفن کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور شکوک و شبہات ہیں کہ  بچے کو قتل کیا گیا ہے۔

پولیس نے پاکپتن جا کرتحقیق کی تو  کال کرنے والے عطا اللہ کا پتہ چل گیا۔

ایس پی آپریشنز کے مطابق عطا اللہ نے پولیس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی موت طبعی  نہیں بلکہ اسے سوتیلے باپ نے مبینہ طور پر تشدد کر کے قتل کیا۔

ہدایت اللہ کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی بھتیجی سے پتہ چلا کہ عثمان نے ان کی ماں سے شادی کے اگلے  ہی دن  تشدد شروع کر دیا تھا۔

ایس پی پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں سےپوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ ملزم نے تین سالہ معصوم بچے کو بستر پر پیشاب کرنے کی وجہ سے  تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

’اس دن  تین سالہ بچہ بخارمیں بھی مبتلا تھا۔ معصوم بچہ تشدد برداشت نہ کرسکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے رونے اور چلانے کے بعد دم توڑ گیا

بہنیں یہ دل دہلا دینے والا منظر خوف سے دیکھتی رہیں اور درندہ صفت باپ سے خوفزدہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے کی ماں جرم پر خاموش ہی نہیں رہیں بلکہ لاش کو رات کے اندھیرے میں دفنانے کی کوشش بھی کرتیں رہیں۔

Advertisement
Advertisement