Advertisement
پاکستان

9مئی کو فوج کے خلاف سنگین واقعات ہوئے فوج کی تعریف کرتا ہوں کہ فوج نے شہریوں پر گولیاں نہیں چلائیں ،چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Aug 3rd 2023, 11:53 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
9مئی کو فوج کے خلاف سنگین واقعات ہوئے فوج کی تعریف کرتا ہوں کہ فوج نے شہریوں پر گولیاں نہیں چلائیں ،چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر بیرسٹر اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گئے، انہوں نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں صرف عدالت کی نظر 4 لائنیں کرنا چاہتا ہوں ، پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لا محدود اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں۔

عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایمارکس دیے کہ دوہفتوں تک فواجی عدالتوں میں لگے ہوئے کیسوں کی سماعت ممکن نہیں ہے فوج کوسکی بھی غیر آئینی اقدام سے روکیں گے جس کا کیس آئین اور قانون کے مطابق ہوگا اس کے حق میں فیصلہ کریں گے۔

فوج کی کا وشوں کو سراہتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ 9مئی کو سنگین واقعات ہوئے لیکن فوج نے شہریوں پر گولی نہیں چلائیں،میانوالی میں دیوار توڑ کر فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا لیکن پاک آرمی نے تحمل کا مظاہرہ کیا اٹارنی جنرل نے بہترین دلائل دیے۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

 

Advertisement
Advertisement