لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ سناتے ہوئے شہبازشریف کو میڈیکل چیک اپ کیلئے باہر جانے کی اجازت دے دی ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے شہباز شریف کی درخواست پر اعتراض اٹھایا کہ شہباز شریف نے درخواست میں لکھاکہ ایمرجنسی میں جانا ہے۔ کہتے ہیں کہ 20 مئی کو ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ قطر میں 10 دن قرنطینہ کریں؟ قرنطینہ کم سے کم 14 دن کے لیے ہوتا ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ میں ہے یا نہیں؟ ایک ایسا شخص جس کی ضمانت ہو چکی ہے اور ای سی ایل میں نام بھی نہیں ہے۔ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور پہلے دو مرتبہ جا کر واپس آچکے ہیں۔دورانِ سماعت شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ میں کینسر کا مریض رہا ہوں، مجھے سال میں 2 مرتبہ چیک اپ کرانا پڑتا ہے، امریکی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ لندن میں اس کا علاج کرایا جائےانہوں نے کہا کہ میں گزشتہ 15 سال سے علاج کرا رہا ہوں، جیل میں عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، میڈیکل رپورٹ میں نئے طبی مسائل تشخیص ہوئے۔لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ علاج میں کتنا وقت لگے گاشہباز شریف نے جواب دیا کہ میں پہلے بھی دو بار باہر جا کر خود واپس آیا۔ عدالت نے کہا کہ آپ کے ریکارڈ سے ثابت ہے کہ آپ واپس آئے، اب یہ بتائیں کہ اب واپس کب آئیں گے؟ شہباز شریف نے سوال کیا کہ کیا میں دہشت گرد ہوں کہ میرا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ۔
مسلم لیگ ن رہنما نے کہاکہ میں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، میں نے اس قوم کی اربوں روپے کی نقد رقم بچائی، باقی باتیں آپ کو کسی اور دن سنائوں گا، مجھے 8 ہفتے دیے جائیں تو میں واپس آجاؤں گا، میں کبھی بھی عدالت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ ان کاکہنا تھا کہ ْکورونا کی وجہ سے آخری فلائٹ سے میں فورا واپس آگیا۔میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں اور بس میں ملک کی خدمت کے لیے صحت مند رہنا چاہتا ہوں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان میں عید کرنا چاہیں گے؟ جس پر شہبازشریف نے کہا کہ علاج کا معاملہ نہ ہو تو پاکستان میں عید کر نے کو ترجیح دیتا ۔اس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز شہباز شریف نےاپنا نام بلیک لسٹ سےنکلوانےکیلئےلاہور ہائیکورٹ سےرجوع کیا تھا ، شہباز شریف کی جانب سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ جس میں استدعا کی گئی گئی ہے کہ ان کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے ۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ سے آشیانہ اقبال ریفرنس اور رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ضمانت ملی، بیرون ملک گیا اور پھر وطن واپس بھی آگیا،وفاقی حکومت کی جانب درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گرکر تباہ، دونوں پائلٹ شہید
- 2 hours ago

اداکارہ نیلم منیر نے نومولود بیٹے کے ساتھ تصویر شیئر کردی
- 2 hours ago

پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری
- 2 days ago

وزیراعظم کی ذیابیطس کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت
- 2 days ago

ٹانک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، ڈی جی الیکشن کمیشن شمشاد اخترہلاک
- 2 days ago
بلوچستان: سی ٹی ڈی کی کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک
- 2 days ago

ایوان صدر میں اجلاس، وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر 'اتفاق'
- 2 days ago

جنوبی افریقہ کی نوی پلے کو امن کا نوبیل انعام دے دیا گیا
- 2 days ago
کرکٹ لیجینڈ وسیم اکرم نےاپنے پسندیدہ بھارتی گلوکار کا نام بتا دیا
- 3 days ago

پہلا ٹی 20: پاکستان نے سری لنکا کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی
- 3 days ago

پاکستان کا اقوام متحدہ میں یوکرین تنازع میں فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ
- 2 days ago

پاکستان، ایران اور امریکہ تنازع کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 3 days ago




