جی این این سوشل

پاکستان

آرمی چیف کا کثیرالملکی سپیشل فورسز کی مشترکہ مشق اٹرنل برادرہوڈ-ٹو کی تقریب سے خطاب

بروتھا گیریژن کے دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مشقوں کے شرکاء سے خطاب کیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آرمی چیف کا کثیرالملکی سپیشل فورسز کی مشترکہ مشق اٹرنل برادرہوڈ-ٹو کی تقریب سے خطاب
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

راولپنڈی: ملٹی نیشنل اسپیشل فورسز کی مشق  ( ایٹرنل برادرہڈ ) کی افتتاحی تقریب منگل کو بروتھا میں منعقد ہوئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق دو ہفتے تک جاری رہنے والی مشق میں پاکستان، قازقستان، قطر، ترکی اور ازبکستان کے خصوصی دستے حصہ لے رہے ہیں۔

بروتھا گیریژن کے دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مشقوں کے شرکاء سے خطاب کیا۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ سپیشل سروس گروپ نے فوج کے اعلیٰ جنرل کو مشق کے دائرہ کار کے بارے میں بریفنگ دی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر  نے کہا کہ مشق کا مقصد دوست ممالک کے درمیان تاریخی فوجی تعلقات کو مزید تقویت دینا ہے، جس میں مشترکہ روزگار کے تصور کو فروغ دینا، مستقبل میں فوجی تعاون کے لیے باہمی دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے ۔

دنیا

نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے، حریت کانفرنس

مقبوضہ جموںوکشمیر کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت پر دبائو ڈالے، ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے، حریت کانفرنس

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال کا نوٹس لے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت حق خوداردیت کے مطالبے پر کشمیریوں کے خلاف کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے میں محاصروں اور تلاشی کی پر تشدد کارروائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں اور جو کوئی بھارتی جبر کےخلاف آواز آٹھانے کی کوشش کر تا ہے اسے کالے قوانین کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری سرکاری ملامین کو نوکریوں سے برطرف اور معطل کر رہی ہے جس کا واحد مقصد ان کی جگہ بھارتی ہندو ملازمین کو رکھ کر ہندو توا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے جیلوں میں برسہابرس سے غیر قانونی طور پر نظر بند کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں اور کارکنوں کے عزم وہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نظربندوں کی عظیم قربانی ہرگز فراموش نہیں کریں گے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں مستقل امن و ترقی کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ، مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ایک بہترین حل موجود ہے لہذا عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اس تنازعے کو عالمی ادارے کی ان قراردادوں کے مطابق حل کرانے کےلئے کردار ادا کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں، درخواست

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے  ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

بانی چیئرمین اور تحریک انصاف کے سپریم کورٹ میں مقدمات کے معاملے میں عمران خان نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کمیٹی میں درخواست دائر کردی۔

عمران خان نے درخواست میں موقف اپنایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرا، تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل یا پی ٹی آئی اراکین کا مقدمہ نہ سنیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 2019 میں قانونی ماہرین کے مشورے پر قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی، میری آئینی ذمہ داری کو معزز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ذاتی حملہ تصور کیا، غلط تاثر کی بنیاد پر سرینا عیسیٰ نے میرے خلاف عوام میں زہر اگلا۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے اقدامات سے اتفاق کیا، درخواست گزار سمجھتا تھا کہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ ماضی کو بھلا دیں گے تاہم چیف جسٹس کے کنڈکٹ سے بالکل واضح ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹراکورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جبکہ سابق وزیراعظم نے تحریری جواب میں اپیلیں خارج کرنے سمیت چیف جسٹس پاکستان پر اعتراض اٹھاتے ہوے کیس سے الگ ہونے کی بھی استدعا کی۔

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی دفعہ چیف جسٹس کو بولا کہ وہ ہمارے کیسز سے خود کو الگ کر دیں، ہمیں یقین ہے نہ عامر فاروق سے اور نہ قاضی فائز عیسیٰ سے انصاف ملے گا، دونوں کا رویہ بھی ایک جیسا ہے۔

رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلی دفعہ تحریری طور پر لکھا ہے، بانی چیئرمین کے خط میں جسٹس گلزار کے فیصلے کا ریفرنس بھی دیا ہے، چیف جسٹس پرعدم اعتماد کی بہت ساری وجوہات ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے انصاف نہ ملنے پر جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

تمام ممبرز خود کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں ورنہ پیچھے رہ جائیں گے، جسٹس عامر فاروق

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کا کہنا ہے کہ ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، تمام ممبرز خود کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں ورنہ پیچھے رہ جائیں گے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل ابھی ہیں ختم نہیں ہوئے اور رہیں گے، 2023سے اب تک مدعی اور جوڈیشری کیلئے بہت ساری سہولیات فراہم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے پروفیشنز کی طرح ہمارا بھی بدل رہا ہے، ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے، سب کیلئے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی میں خود کو بہترین بنانا ہے، ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب نوٹسزای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونگے، وکلا کو ایس ایم ایس کے ذریعے بتایا جارہا ہے کہ آپکا کیس کل کس عدالت میں ہے، ای نوٹس مدعی کیلئے بہت بڑی سہولت ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں اس ای نوٹس کو شروع کیا ہے، آن لائن پروسیڈنگز بھی چل رہی ہیں، آٹو میشن کے حوالے سے آج کچھ چیزوں کا افتتاح کیا ہے، سمن یا نوٹس کی تعمیل کیلئے پیادہ جاتا تھا وقت ضائع ہوتا تھا، ہمارے زمانے میں نوٹسز کو ڈھونڈنا پڑتا تھا، ایسے وکلا ،سائلین کو میسج کے ذریعے کیس سے متعلق معلوم ہوجاتا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ نوٹس ٹریکنگ سسٹم کو بھی جلد عدلیہ میں لارہے ہیں، عدلیہ میں مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم بھی آن لائن دستیاب ہے، انفارمیشن مشین کی رونمائی بھی کردی ہے، انفارمیشن مشین سے سائلین کو کیس کی تفصیلات معلوم ہوجائیں گی، پیپر فری ہونا ضروری ہے اب ای فائلنگ کی طرف جانا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اسلام آباد میں نئے ججز کی تعیناتی کا معاملہ ابھی زیر التوا ہے،جلد مکمل کرلیں گے، نئے وکلا کا ٹریننگ پروگرام ایک خوش آئند اقدام ہے، آج ینگ وکلا کی ڈویلپمنٹ کیلئے کچھ نہ کیا تو وہ ہمیں معاف نہیں کریں گے۔

ان کامزید کہنا تھا کہ کتاب اور قانون سے رشتہ نہ توڑیں، اگر وہ رشتہ کسی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے اس کو قائم کریں، ہم نے جو انصاف دینا ہے وہ قانون کے مطابق دینا ہے، ہم سب کیلئے قانون سے شناسائی ضروری ہے، ہم نے قانون کے بغیر یا ضمیر کے مطابق انصاف نہیں کرنا۔
 
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے مل کر مسائل کو حل کرنا ہے، ہمارا تعلق بھی بار سے ہے کوئی علیحدہ نہیں ہیں، بار ہمارا گھر ہے ہم مسائل حل کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll