پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 22 ستمبر کو خطاب کیا۔


اقوام متحدہ: 27ستمبر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ،جس میں پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سمیت دنیا بھر سے تقریباً 88 سربراہان مملکت، 42 سربراہان حکومت اور 650 سے زائد وزرا نے شرکت کی ۔اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز کو اجاگر کیا گیا۔
عالمی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ادارہ جاتی چیلنجز کے باوجود اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش چیلنجز کا اجتماعی حل تیار کرنے کے لئے سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 22 ستمبر کو خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کلید قراردیا اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر بارے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
نگران وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں عالمی برادری پر واضح کیا کہ بھارت نے جموں و کشمیر بارے سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد سے گریز کیا ہے جن میں جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کے ذریعے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نگران وزیر اعظم انوا رالحق کاکڑ نے اپنےخطاب میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے پر موجود دیگر موضوعات پر پاکستان کا موقف وضاحت سے پیش کیا۔جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے اپنے اختتامی خطاب میں دنیا بھر کے لوگوں کو امن، خوشحالی، ترقی اور پائیداری فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے غیر متزلزل عزم پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک خوش آئند یاد دہانی ہے کہ اقوام متحدہ کی توجہ ہمارے وقت کے اجتماعی چیلنجز پر مرکوز ہے۔ فرانسیسی صدر نے تنازعات میں ملوث اقوام اور گروہوں کے درمیان امن اور دوستی کے لئے مکالمے کو آسان بنانے میں اپنی طرف سے مدد کی پیشکش کی۔
اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہےلیکن یہی وہ وجہ ہے جس کے لئے ہم پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔اجلاس میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے آئے رہنمائوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو ہزار سے زیادہ دو طرفہ میٹنگز میں شرکت کی۔

شائقینِ کرکٹ کو پی ایس ایل کے پلے آف میچز اسٹیڈیم میں دیکھنے کی اجازت مل گئی
- 6 hours ago

جنوبی سوڈان میں طیارہ گر کر تباہ،پائلٹ سمیت تمام 14 افراد جانبحق
- 5 hours ago

شہباز شریف کی وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت
- 7 hours ago

اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ، شرح سود میں 1 فیصد اضافہ
- 9 hours ago

’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘، حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا
- 7 hours ago

پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا،مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوئی ہے ، عباس عراقچی
- 9 hours ago

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار، ریگولیٹری فریم ورک آخری مرحلے میں داخل
- 9 hours ago

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،جنوبی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام
- 9 hours ago

حزب اللہ کے راکٹ حملوں کا خوف،نیتن یاہو نے مذہبی تقریب منسوخ کر دی
- 8 hours ago

روس ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، پیوٹن کی عراقچی سے ملاقات
- 4 hours ago

اسحاق ڈار کا برطانوی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں پائیدار امن کیلئے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
- 5 hours ago

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈاضافہ ،فی تولہ کتنےکا ہو گیا؟
- 9 hours ago









