پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان کی طرف سے گراؤنڈ میں نماز ادا کرنے پر انڈین وکیل کی آئی سی سی کو شکایت
محمد رضوان کا کرکٹ گراؤنڈ میں نماز پڑھنا کھیل کی روح اور آئی سی سی کے ضوابط کے منافی ہے، انڈین وکیل ونیت جندل


انڈین وکیل نے پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان ہونے والے ورلڈ کپ کے میچ میں گراؤنڈ کے اندر نماز ادا کرنے پر پاکستانی کھلاڑی محمد رضوان کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو شکایت درک کروا دی۔
انڈین وکیل ونیت جندل کی درخواست میں لکھا ہے کہ محمد رضوان کا کرکٹ گراؤنڈ میں نماز پڑھنا کھیل کی روح اور آئی سی سی کے ضوابط کے منافی ہے۔محمد رضوان نے نماز ادا کرکے ظاہر کیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں جس سے کھیل کی روح کو شکست ہوئی ہے۔ محمد رضوان نے اس وقت نماز ادا کی جب ٹیم کے دوسرے کھلاڑی وقفے کے دوران پانی کا انتظار کر رہے تھے۔
وکیل کے مطابق اس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس اپنی جیت کو غزہ کے لوگوں کے نام کیا جس سے ان کا مذہب اور نظریات ظاہر ہوتے ہیں۔
’آئی سی سی نے سری لنکا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد محمد رضوان کی طرف سے اس فتح کو غزہ کے لوگوں کے نام کرنے پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ آئی سی سی نے کہا کہ یہ انفرادی عمل ہے اور اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
what about @iMRizwanPak when he do “Namaz” during on going Cricket match? That is against ICC rules. & against the spirit of Cricket.
— Adv.Vineet Jindal (@vineetJindal19) October 14, 2023
Now complaint has been filed by @vineetJindal19 with ICC & BCCI seeking strict action on Rizwan. #MohammadRizwan #Zainababbas #Vineetjindal… https://t.co/XCP73lflKy
درخواست میں مزید لکھا گیا کہ اس سے قبل 2021 میں محمد رضوان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد گراؤنڈ میں نماز ادا کی جس پر سابق پاکستانی کرکٹر وقار یونس نے کہا کہ مجھے بہت اچھا لگا کہ محمد رضوان نے ہندوؤں کے سامنے نماز پڑھی، کوئی بھی ایسا عمل جس سے کھیل کی روح کو نقصان پہنچے، متعلقہ حکام کی طرف سے اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
انڈین وکیل نے آئی سی سی کو درخواست میں لکھا کہ لہذا، پاکستان وکٹ کیپر اور بیٹر محمد رضوان کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسی انڈین وکیل نے انڈیا میں کوریج کے لیے جانے والی آئی سی سی پینل کی پاکستانی سپورٹس پریزینٹر زینب عباس کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا اور اسے اپنی فتح قرار دیا تھا۔
بھارتی وکیل نے الزام لگایا تھا کہ زینب نے ہندو مذہب اور انڈیا کے خلاف سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کیے ہیں اور سوشل میڈیا تبصروں کو زینب عباس سے منسوب کرکے ان کا تبصرہ قرار دیا تھا۔

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 4 دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 2 دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 3 دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 2 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 4 دن قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- ایک دن قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 2 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 2 دن قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 4 دن قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 2 دن قبل

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 2 دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 2 دن قبل



