جی این این سوشل

پاکستان

پاکستان فلسطین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے ،طاہر اشرفی

طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کی اور اُن سے یکجہتی کا اظہار کیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان فلسطین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے ،طاہر اشرفی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

مذہبی ہم آہنگی کے بارے میں معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فلسطین سے متعلق پاکستان کی پالیسی تبدیل نہیں ہو سکتی۔

آج(پیر) اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان نے ہمیشہ مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کی اور اُن سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا اسرائیل کی حالیہ بربریت کے تناظر میں فلسطینیوں کیلئے امدادی اشیاء کی دوکھیپ بھجوائی جا چکی ہیں۔ حکومت اور فوجی قیادت نے امداد دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

مولانا طاہر اشرفی نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔

پاکستان

لگتا ہے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو مزید وقت جیل میں گزارنا پڑے گا، رؤف حسن

توشہ خانہ کے اوپر ایک اور مقدمہ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لگتا ہے بانی  چیئرمین پی ٹی آئی کو مزید وقت جیل میں گزارنا پڑے گا، رؤف حسن

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا ہے کہ لگتا ہے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو مزید وقت جیل میں گزارنا پڑے گا،توشہ خانہ کے اوپر ایک اور مقدمہ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

رؤف حسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ پر چوتھا مقدمہ بنانے کی کی کوشش کی جا رہی ہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی پر بے بنیاد مقدمات بنائے گئے ہیں اور پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ مقدمات کے فیصلے نہ ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کیسز میں کہیں انصاف نظر نہیں آرہا ، ایسا لگتا ہے سابق انہیں مزید وقت جیل میں گزارنا پڑے گا جبکہ شاہ محمود قریشی کیخلاف بھی 8،9مقدمے بنائے گئے ہیں۔

توشہ خانہ کیس میں آج جو تماشہ ہوا وہ سب نے دیکھ لیا ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف عدت اور سائفر کے مقدمے ختم ہوچکے ہیں، سائفر کا مقدمہ بھی کرش کرچکا اور توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہوچکی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل سے باہر آنا چاہئے تھا، ہمیں خوف ہے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور مقدمات بنائے جائیں گے،جب تک یہ ہوتا رہے گا نہ انصاف ملے گا اور نہ آزادی ملےگی۔

انہوں نے کہا کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں فوج کیخلاف کوئی بات نہیں کی گئی، رپورٹ میں فوج کے بہادری سےلڑنے کا ذکر ہے، ہماری فوج سے کوئی لڑائی نہیں ہے ۔

رؤف حسن کا مزید کہنا تھا کہ القادر کیس میں ثبوت نہیں مل رہا تو ملک ریاض پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، جب تک آئین اور قانون بحال نہیں ہوگا یہ لڑائی ہم لڑتے رہیں گے۔ ابھی بھی سابق چیئرمین پی ٹی آئی پر 200اور مقدمات چل رہے ہیں۔ پچھلے 2سال سے پاکستان میں آئین و قانون کا فقدان نظر آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاعر احمد فرہاد کا کیس بھی آپ کے سامنے ہے اور اتنے دن حبس بے جا میں رکھنے کے بعد پہلے آزاد کشمیر باغ کے کسی پولیس اسٹیشن میں اس کو لایا گیا اور پھر مظفرآباد میں کوئی کیس درج ہے تو وہاں بھیجا گیا، حقائق پر مبنی ایک نظم لکھنے کی پاداش میں ایک انسان کے پچھلے ایک یا سوا مہینے میں کیا ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ تحریک انصاف کے بیانیے کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کیا جا رہی ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کونسی طاقتیں کارفرما ہیں، 1971 کے سانحے کے حوالے سے غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، حمودالرحمٰن کمیشن میں کہیں بھی فوج کے بارے کوئی غلط بات نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پنجاب اسمبلی کے سامنے اساتذہ و ملازمین کا شدید احتجاج

اساتذہ نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کی پیف کو حوالگی کا عمل نہ روکا تو پنجاب بھرمیں احتجاج کیا جائے گا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب اسمبلی کے سامنے  اساتذہ و ملازمین کا شدید احتجاج

 

لاہور : پنجاب اسمبلی لاہور کے سامنے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پاکستان کے مرکزی صدرکی  قیادت میں سینکڑوں اساتذہ و ملازمین نے تعلیمی اداروں کی پیف و این جی اوز کو حوالگی کے خلاف ، تنخواہوں والاونسز میں 100 فیصد اضافہ ، زیر التواء نیشنل ہیلتھ ملازمین کی آپ گریڈیشن اور حسب وعدہ لیو انکیشمنٹ نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنے پر پر امن احتجاج کیا ۔

اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کرتے رہے اور سیکرٹری سکول پنجاب دفتر 11 - لارنس روڈ تک احتجاجی ریلی نکالی اور ایک گھنٹہ تک احتجاج کرتے رہے اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت اساتذہ بھرتی کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں کو ٹھیکے پر دینے کے لیے تلی ہوئی ہے ٹھیکیداری نظام سے نظام تعلیم تباہ و برباد ہو جائے گا پیف اور پیما دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔

اساتذہ نے مہنگائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے جبکہ مہنگائی میں کمی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لہذا تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے ، لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفکیشن حسب وعدہ ڈی نوٹیفائی کیا جائے اور نیشنل ہیلتھ ملازمین کی زیر التواء آپ گریڈیشن فی الفور نمٹایا جائے۔

اساتذہ نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کی پیف کو حوالگی کا عمل نہ روکا تو پنجاب بھرمیں احتجاج کیا جائے گا دفاتر ، سکولوں اور کالجوں کی تالہ بندی کریں گے۔7 جون کو وفاقی بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پاکستان کے زیر انتظام احتجاج کیا جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں اضافی الیکشن ٹربیونل ججز تعینات کرنے کا حکم

عدالت کا الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کو الیکشن ٹربیونل مقرر کرنے کا حکم

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں اضافی الیکشن ٹربیونل ججز تعینات کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے اضافی الیکشن ٹربیونل تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس کے نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب میں اضافی ٹریبونلز کے ججز تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ٹربیونلز ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سلمان اکرم اور عمر ہاشم کی درخواستوں کو منظور کرلیا، درخواستوں میں اضافی ٹربیونلز بنانے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست گزاروں کے مطابق الیکشن کمیشن نے سندھ اور خیبرپختونخوا میں 5،5 ، بلوچستان میں 3 الیکشن ٹربیونل تشکیل دیے ہیں تاہم پنجاب کے لیے صرف 2 الیکشن ٹربیونل تشکیل دیے گئے ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اضافی الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کے لیے خط لکھا لیکن ٹربیونلز نہیں بنائے گئے، عدالت سے استدعا ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عذرداری کے لیے اضافی ٹریبونلز بنانے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کو الیکشن ٹربیونل مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ جب تک چیف جسٹس بھجوائے گئے ناموں کی فہرست واپس نہیں لیتے الیکشن کمیشن کوئی اور ٹربیونل تشکیل نہیں دے سکتا۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سلمان اکرم راجہ اور عمر ہاشم کی اضافی الیکشن ٹریبونل بنانے کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll