جی این این سوشل

پاکستان

امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی نگران وزیرا علیٰ بلوچستان میر علی مردان سے ملاقات

ملاقات میں قونصل جنرل کراچی کونرڈ ٹریبل بھی موجود رہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی نگران وزیرا علیٰ بلوچستان میر علی مردان سے ملاقات
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی سے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اور قونصل جنرل کراچی کونرڈ ٹریبل نے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے امریکی سفیر اور قونصل جنرل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان روایتوں کا امین صوبہ ہے جو سرمایہ کاری کے لیے موزوں خطہ ہے  بلوچستان میں امن ، تعلیم ، خواتین کی معاشی ترقی اور مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں جاری امریکی معاونت کے منصوبے اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکی حکومت اور عوام نے تعلیم خصوصا گرلز ایجوکیشن کے لئے نمایاں تعاون کیا ہے جب کہ دہشتگردی ، جرائم کی روک تھام اور تفتیش کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے  بلوچستان پولیس کو گاڑیاں ، جدید آلات اور ساز و سامان فراہم کیا ہے۔

پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں میں اضافے کا یہ منصوبہ امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کیلئے مفید ثابت ہوا ہے ۔اس کے علاوہ بلوچستان کی خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے کاروباری مواقع کی فراہمی کا منصوبہ بھی ترقی نسواں کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ۔

ا س موقع پر امریکی سفیر نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات بہتر سمت پر گامزن ہیں اور ہم باہمی عزت و احترام پر مبنی خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس سے قبل بھی بلوچستان کا دورہ کیا اور ہمیشہ بلوچستان کے لوگوں کو مہمان نواز اور پر خلوص پایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و انصاف کی فراہمی کے منصوبوں میں معاونت کررہے ہیں اور پائیدار سماجی ترقی ہمارے اہداف کا حصہ ہے۔ امریکا اور عالمی اداروں نے سندھ اور بلوچستان میں گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی دل کھول کر مدد کی اور متاثرین کی فوری امداد و بحالی کے لئے کردار ادا کیا ۔ اس موقع پر نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان اور امریکی سفیر و قونصل جنرل کے مابین سوئینر اور تحائف کا تبادلہ ہوا۔

پاکستان

کم عمری میں بچے محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کم عمری میں بچے  محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

ہر سال 12 جون کو عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔ رواں سال بھی عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے  25 سال گرہ منائی گئی، جس کے لیے تھیم ’’ لیٹس ایکٹ آن آور کمٹمنٹ، اینڈ چائلڈ لیبر‘‘ کا انتخاب کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار 2002 میں چائلڈ لیبر کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزییشن (آئی ایل او) کی سفارشات پر12 جون کو بطور چائلڈ لیبر ڈے مختص کیا گیا۔ 
یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ چائلڈ لیبر کا شکار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 160 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد برا عظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف افریقہ میں 72 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایشائی ممالک کے 62 ملین بچے، امریکہ کے 11 ملین، یورپ اور مرکزی ایشیا کے 6 ملین، جبکہ متحدہ عرب امارات کے 1 ملین بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ 
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ چائلڈ لیبرکیا ہے؟ 
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) کے مطابق ایسا تفویض شدہ کام جو بچوں کو ان کی معصومیت، تخلیقی صلاحیتوں اور وقار سے محروم کر دے اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما پر براہ راست برااثر ڈالے، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں آتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا کوئی بھی کام جس میں بچے کو کمانے کی عمر سے قبل مشغول کیا جائے، مگر اس کام کا بچے  کی صحت و تعلیم پر کوئی مضر اثر نہ ہو، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں نہیں آتا۔ 
بد قسمتی سے دنیا بھر میں چائلڈ لیبرکی لعنت اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر بچوں کو مجبورا اپنے کھیلنے کودنے کی عمر میں چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں۔
یوں تو دنیا بھر مں چائلڈ لیبر کی وجوہات مختلف ہیں، مگرعالمی طور پرچائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ غریب لوگ اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کے لیے اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کو بھی کام میں جت دیتے ہیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹے بچوں کا معصوم ذہن صحیح نشونما نہیں کر پاتا اور وہ معاشرے کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ 
کچھ جگہوں پر لوگوں نے چائلڈ لیبر کو بطور رواج سمجھ لیا ہے، جہاں بچے اپنے مالکان کا کام کرتے ہیں اور بدلے  میں مالکان سماجی خدمت سمجھتے ہوئے بچوں کو ان کی خدمت کے عوض چند اونے پونے دام پکڑا دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں سے کام لینا بجٹ کے لحاظ سے بہت موزوں رہتا ہے کیوں کہ بچوں کو کسی بالغ کی نسبت زیادہ معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔ معاشرے میں موجود طبقاتی نظام اور جنس پرستی بھی چائلڈ لیبر کی ایک بڑی وجہ ہے۔
چائلڈ لیبر کے شکار بچے مختلف قسم کے کاموں میں مشغول کیے جاتے ہیں۔ جن میں زراعت، کان کنی، بھٹہ مزدوری، گھر کی نوکر چاکری، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کاج اور صنعتوں میں کام سر فہرست ہیں۔ مزید برآں، جنگی مہم جوئیوں کے دوران، بچوں کو جنگی حکمت عملی کے طور پر بطور جا سوس اور مددگار استعمال کیا جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر بچوں پر بہت سنگین  اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایسے بچے جو چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں، وہ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے نہ تو اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھ پاتے اور نہ ہی ان کا کام ان کے ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، یونیسیف سمیت متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اقوام متحدہ کا رکن ملک ہونے کے ناطے اقوام متحدہ کے چارٹر اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ پاکستان میں یونیسیف کے مشنز بھی چائلڈ لیبر کے تدارک کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سپارک( سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چلڈرن) کام کر رہا ہے۔ 
چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے۔ بچوں کی ملازمت کا ایکٹ 1991 پاکستان کا وہ تازہ ترین قانون ہے جسے خاص طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے تناظر میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو ذہنی و جسمانی خطرات والے شعبوں میں کام کرنے پر پابندی ہے۔

ملکی ترقی اور معاشرتی بہبود کے حصول میں بچوں کی مزدوری( چائلڈ لیبر) کا خاتمہ ایک اہم معاملہ ہے۔ چائلڈ لیبر نے غربت اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات پر مشتمل نہیں ہو سکتا، بلکہ معاشرتی اور سماجی سطح پر تبدیلی اور اقدامات بھی ضروری ہیں۔  
معاشرہ مجموعی طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہمارے معاشرتی اقداراور سماجی اعتقادات کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔  
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر بچہ اس کا حق حاصل کر سکے۔ تعلیمی اداروں کی فراہمی اور ترقی سماج کے اہم مقاصد میں سے ایک ہونی چاہئے۔ اسن کے ساتھ ہی سماج کو چائلڈ لیبر کے نقصانات کی آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس سے لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہوگا کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ملک و قوم کے مستقبل کے لیے کیسے سود مند ہوسکتا ہے۔ حکومت کو ایسی موثر قانون سازی کرنی چاہئے جو چائلڈ لیبر کے خاتمے کی ضامن ہو۔  
سماج کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرے کے تعاون کے ساتھ امدادی ادارے بچوں کو مزدوری سے نکالنے میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس وقت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سماجی تبدیلی اور مربوط اقدامات کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو ناقابل قبول قرار دے۔ 
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ ایک سماجی فرض ہے جس پر ہمیں مل کر عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم سماج کے مختلف اقسام میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اپنا حصہ ادا کریں تو ہم ایک بہتر معاشرتی و معاشی مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

 

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

غذائی قلت کا شکار آٹھ ہزار سے زائد بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے ،ڈبلیو ایچ او

صحت مراکز پر حملوں ، نقل و حمل پر پابندی اور صحت کی خدمات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کے باعث مغربی کنارے میں بھی صحت بحران بڑھ رہاہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

غذائی قلت کا شکار آٹھ ہزار سے زائد بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے ،ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ غزہ پراسرائیلی جارحیت کے باعث غزہ کی پٹی میں شدید غذائی قلت کا شکار 5 سال سے کم عمر کے8000 سے زائد بچوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان میں سے 28 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ غزہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ شدید بھوک اور قحط کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاصحت مراکز پر حملوں ، نقل و حمل پر پابندی اور صحت کی خدمات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کے باعث مغربی کنارے میں بھی صحت بحران بڑھ رہاہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

سینیٹر فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہو گئے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہونے پر کمیٹی ارکان نے شکریہ ادا کیا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ بحری مسائل کی نشاندہی ہی نہیں، بلکہ مسائل کا حل میری ترجیح ہوگیا، سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے، جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم بھی بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll