غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے انتظامات اور یرغمالیوں-قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی پر مذاکرات ہو رہے ہیں


حماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ فلسطینی گروپ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے قریب ہے حالانکہ غزہ پر مہلک حملہ اور اسرائیل کے علاقوں میں راکٹ فائرنگ جاری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسماعیل ہنیہ کا کہنا تھا کہ حماس کے اہلکار اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں اور گروپ نے قطری ثالثین کو اپنا جواب پہنچا دیا ہے،
حماس کے عہدیدار عزت الرشق نے منگل کو ایک نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مذاکرات غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے انتظامات اور یرغمالیوں-قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی کے بارے میں تھے۔
مذاکرات غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے انتظامات اور یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی کے بارے میں تھے۔
انہوں نے مزید کہا، متوقع معاہدے میں یرغمال اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی قابض فوج کی جیلوں میں موجود فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی شامل ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو کہا کہ انہیں یقین تھا کہ ایک معاہدہ ہونے والا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک معاہدے کے بارے میں کہا، ہم پہلے سے کہیں زیادہ (معاہدے پر پہنچنے کے) قریب ہیں۔ اس کا مقصد غزہ میں قید کچھ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا اور لڑائی میں وقفہ کرنا ہے جس سے محصور انکلیو میں اشد ضروری امداد پہنچ سکے گی۔
یرغمالیوں کی رہائی کے ایک قریبی معاہدے کی باتیں کئی دنوں سے زیرِ گردش ہیں۔ ایک اہلکار کی مذاکرات پر بریفنگ کے حوالے سے رائٹرز نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ قطری ثالث حماس اور اسرائیل کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کے بدلے 50 یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے ایک معاہدے کے خواہاں تھے جس سے غزہ کے شہریوں کو ہنگامی امداد کی ترسیل میں اضافہ ہو گا۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جون فائنر نے اتوار کو این بی سی کے "میٹ دی پریس" پروگرام کو بتایا، "اس طرح کے حساس مذاکرات آخری لمحات میں ٹوٹ سکتے ہیں۔ جب تک ہر چیز پر اتفاق نہ ہو جائے تب تک کسی چیز پر اتفاق نہیں ہوتا۔"
7 اکتوبر کو حماس کا حملہ اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ کا مہلک ترین دن تھا جس نے اسرائیل کو حماس کو نشانہ بنانے کے لیے فلسطینی سرزمین پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی حکومت نے کہا کہ تب سے اسرائیلی بمباری سے کم از کم 13,300 فلسطینی مارے گئے ہیں جن میں کم از کم 5,600 بچے اور 3,550 خواتین شامل ہیں۔
حماس نے پیر کو اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر کہا کہ اس نے تل ابیب کی طرف میزائلوں کی بوچھاڑ کی ہے۔ عینی شاہدین نے بھی وسطی اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کی اطلاع دی۔

اسلام آباد میں بڑا ایکشن، 275 غیر ملکی گرفتار
- ایک دن قبل

لاہور میں جشن آزادی اسنوکر رینکنگ ٹورنامنٹ، شوبز شخصیات کی شرکت
- ایک دن قبل

بچوں کی نایاب دماغی بیماری کے خلاف بڑی امید، پرانی دوا کے حیران کن نتائج
- ایک دن قبل

پٹیالہ گھرانے کے نامور گائیک راگا بوائز کی امریکا میں جشن آزادی کے شوز میں شاندار پرفارمنسز
- ایک دن قبل

لاہور میں مبینہ ویزہ فراڈ، چشم کشا تفصیلات سامنے آگئیں
- 9 گھنٹے قبل

پاکستان انگلینڈ ٹیسٹ: بارش نے کھیل روک دیا، قومی ٹیم کی 2 وکٹیں گر گئیں
- ایک دن قبل
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا بڑا اضافہ
- 7 گھنٹے قبل
مصباح ارشد کو مس یونیورس پاکستان منتخب کر لیا گیا
- 8 گھنٹے قبل

کیا ٹک ٹاک پر اب رقم بھی بھیجی جا سکے گی؟
- 6 گھنٹے قبل
تاجروں کیلئے ریٹیلراسکیم ایپ لانچ کردی گئی
- ایک دن قبل

بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک اور مشکل
- 6 گھنٹے قبل
ڈیزل سستا ہونے پرکرایوں میں کمی کا اعلان
- 7 گھنٹے قبل





