جی این این سوشل

پاکستان

شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرو ل لسٹ سے نکالنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی بھی قرار دے دیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرو ل لسٹ سے نکالنے کا حکم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا اور ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی بھی قرار دیا گیا ہے۔

اس معاملے پر عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈی جی امیگریشن ایک ہفتے میں پی سی ایل سے شیریں مزاری کا نام نکال کر رپورٹ دیں، ڈی جی امیگریشن ایک ہفتے میں ڈپٹی رجسٹرار ہائیکورٹ کو رپورٹ دیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ فیصلہ سنایا ہے، عدالت نے 21 نومبرکو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کی سفارش پر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ ایگزٹ لسٹ (پی سی ایل) لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

تجارت

گندم کے وافر ذخائر ہونے کے باوجود اس کی درآمد کی تحقیقات کا حکم

رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم کسانوں کی سہولت کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی پر بھی توجہ دے رہے ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کے وافر ذخائر ہونے کے باوجود اس کی درآمد کی تحقیقات کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے گندم کے وافر ذخائر ہونے کے باوجود اس کی درآمد کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

 وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے بدھ کو قومی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے پوائنٹ آف آرڈرز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کو حکم دیا جائے ۔ 


انہوں نے کہا کہ یہ نگران حکومت تھی جس نے ملک میں 4.1 ملین ٹن کے کیری فارورڈ سٹاک کو نظر انداز کر کے گندم درآمد کی۔ انہوں نے کہا کہ اجناس کی اس درآمد نے صوبوں میں گندم کی خریداری کے اہداف کو متاثر کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ زراعت ایک منتج شدہ موضوع ہے جس کے تحت صوبے اپنے اہداف کے مطابق گندم خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں فصل کی کل پیداوار کا 25 فیصد خریدتی ہیں لیکن کیری فارورڈ سٹاک کے پیش نظر صوبوں کو اس ہدف کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔


وزیر نے ایوان کو مزید بتایا کہ انہوں نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو فوری طور پر خریداری شروع کرنے اور گندم کے اہداف کو بڑھانے کے لیے خطوط بھی لکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم کسانوں کی سہولت کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے ایوان کو آئندہ فصل کے سیزن کے لیے کھاد کی فراہمی اور قیمتوں کے تعین کو یقینی بنانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ قانون سازوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کی سہولت کے لیے بجٹ میں تاریخی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔


ایوان کا اجلاس کل شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں چوتھے روز بھی تیزی،400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

100 انڈیکس 72 ہزار 547 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں چوتھے روز بھی تیزی،400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج بھی ٹریڈنگ کے دوران تیزی کا رجحان ہے۔
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی سٹاک مارکیٹ میں 495 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے ساتھ 100 انڈیکس 72 ہزار 547 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
خیال رہے کہ کاروباری روز کے اختتام پر انڈیکس 72 ہزار 51 پوائنٹس پر بند ہوا۔ جب کہ کاروبار کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 72 ہزار 414 پوائنٹس رہی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

امریکہ کا افغانستان کو اسلامی ریاست تسلیم کرنے سے صاف انکار

طالبان نےخواتین کے کام، تعلیم کے حوالے سے اپنے احکامات کو تبدیل نہیں کیا،امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امریکہ کا افغانستان کو اسلامی ریاست تسلیم کرنے سے صاف انکار

امریکہ نے افغانستان کو اسلامی ریاست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، طالبان نےخواتین کے کام، تعلیم کے حوالے سے اپنے احکامات کو تبدیل نہیں کیا۔
 امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ رپورٹ میں طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں رونما ہونے والی تباہ کاریوں کا تجزیہ کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ملک میں دہشتگردی کا ماحول قائم کر دیا ہے۔ 
بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان میڈیا کوپابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، صحافت افغان سرزمین پر ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی 90 فیصد شرح سیاسی لیڈران پر مشتمل ہے،2021 میں افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے ملک میں انتشار اور بد امنی کی صورتحال برپا کر دی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll