جی این این سوشل

دنیا

ترقی پذیر ممالک زہریلی گیسوں کے اخراج میں بھرپور کمی کو یقینی بنائیں ، سیکرٹری اقوام متحدہ

تفصیلات کے مطابق کوپ 28 کانفرنس میں دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بات کی جائے گی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ترقی پذیر ممالک زہریلی گیسوں کے اخراج میں بھرپور کمی کو یقینی بنائیں ، سیکرٹری اقوام متحدہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

کوپ 28 کانفرنس دبئی میں جاری ہے، دبئی میں ہونے والی کوپ کانفرنس میں 200 سے زائد ممالک کے سربراہان نے شرکت کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کوپ 28 کانفرنس میں دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بات کی جائے گی اور دنیا میں کیسے کلائمٹ چینج پر قابو پایا جا سکتا ہے پر بات کی جائے گی ۔

سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوا م متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتو نیو گوتریس نے نقصانات کے بعد ازالے کےفنڈ کے فعال ہونے کے اہم اقدام کوسراہا۔

 انہوں نے ترقی پذیر ملکوں پرزور دیا کہ وہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں بھرپور کمی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کریں۔

 انہوں نے ایک اعشاریہ پانچ ڈگری دنیا کےلئے قائدانہ کردار تعاون اور سیاسی جرات کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری حد کا حصول صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر ہم فوسل ایندھن چلانا روک دیں۔

انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ کاربن کے استعمال پر قابو پانے، آئین سازی اور منصفانہ قیمت مقرر کرنے، فوسل ایندھن پر اعانتوں کے خاتمے اور منافعوں پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے ذریعے صنعتوں کو درست فیصلے کرنے میں مدد دیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے قابل تجدید توانائی کا استعمال بروئے کار لانے پر زور دیا اور کہا کہ یہ ہمارے کرہ ارض اور معیشتوں کےلئے اچھی ہے۔

 ترقی پذیر ملکوں پر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا موسمیاتی  انصاف کابہت عرصے سے انتظار ہے۔

دنیا

سعودی عرب کی اقوام متحدہ میں غزہ تباہی پر عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی تنقید

ہم یہاں کن حقوق کی بات کر رہے ہیں جب کہ غزہ ر اکھ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، سعودی وزیر خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سعودی عرب کی اقوام متحدہ  میں غزہ  تباہی پر عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی تنقید

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں غزہ کی تباہی پر عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 55ویں اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کی جبری بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہ رفح پر حملے کی دھمکیوں پر عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔

وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سوال اُٹھایا کہ ہم یہاں کن حقوق کی بات کر رہے ہیں جب کہ غزہ راکھ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ عالمی برادری اس پر کیسے خاموش رہ سکتی ہے جب کہ غزہ کے لوگ بے گھر اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قراردادوں کے اطلاق میں دوہرے معیار اور پسند و ناپسند رویے کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے رفح پر حملے کے  تباہ کن اثرات سے خبردار کیا۔

سعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سنجیدہ، منصفانہ اور جامع اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے تاکہ معصوم شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔ غزہ سے 30 ہزار ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے اس کے علاوہ 20 لاکھ سے زائد افراد فاقہ کشی، تحفظ، پانی، بجلی اور ادویات جیسی بنیادی ضرورتوں کے فقدان کا شکار ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تمام مظالم کے باوجود سلامتی کونسل اپنے اجلاسوں کو بغیر کسی نتیجے کے ختم کردیتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قرارداد نمبر 2720 پر عمل درآمد کروائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بلوچ طلباء بازیابی کیس ، انوار الحق کاکڑ اسلام آباد ہائیکورٹ پیش

 نگران وزیر اعظم انوارلحق کاکڑ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے کے حل کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بلوچ طلباء بازیابی کیس ، انوار الحق کاکڑ اسلام آباد ہائیکورٹ پیش

نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ بلوچ طلباء مقدمے کی سماعت کےلئے آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی  پر مشتمل ہائیکورٹ کے ایک رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی  ،  نگران وزیر اعظم نے عدالتی کٹہرے میں کھڑے ہوکر کہا کہ ہم آئین وقانون کے پابند ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں ۔ 

 انہوں نے کہا کہ  لاپتہ  افراد کی بازیابی کےلئے ایک کمیشن تشکیل دیاگیا ہے ، انہوں نے کہا کہ کمیشن لاپتہ ہونے والے بلوچوں کے بار ے میں تحقیق کرے گا اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ 

 نگران وزیر اعظم انوارلحق کاکڑ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے کے حل کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر

اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے،رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے، اُمیدہے آئین اور قانو ن کے مطابق فیصلہ ہوگا،اگر الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے۔

مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہےلیکن عمل نہیں کرتی، آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جو حصہ دوسری جماعتوں کا ہے آپ وہ انہیں دے چکے ہیں اور پی ٹی آئی ارکان کو آئین کے مطابق حصہ دینا ہی دینا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مخصوص نشستیں خود میں تسلیم کرلیں، مخصوص نشستیں کوئی خیرات نہیں آئینی حق ہے، ہم نے کہا الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑسکتا، جنہیں نشستیں مل گئی انہیں دوبارہ نہیں مل سکتیں، دوران سماعت کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت تو ہے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ میں کوئی سیٹ نہیں جیتی ، اس لئے آزاد ارکان کی اس جماعت میں شمولیت کے بعد بھی کوئی مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتی،ہم نے آرٹیکل 51 دکھایا کہ ارکان کسی بھی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں،آئین میں کہیں یہ قدغن نہیں لگائی کہ اسی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں جو پارلیمنٹ میں ہو۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ دوسری بحث یہ کی کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرائی جس کے جواب میں ہم نے کہا کہ قانون میں کہا لکھا ہے کہ لسٹ بعد میں جمع نہیں کرائی جا سکتی۔اگر مخصوص نشستیں چھین کر دوسری جماعتوں میں بانٹی گئیں تو وہ سپریم کورٹ جائیں گے لیکن اگر ایسی بانٹ ہوئی تو صدر کا الیکشن، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کے الیکشن سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ خط میں کہیں نہیں لکھا کہ ہمیں مخصوص سیٹیں نہیں چاہیئے، اس خط کا مخصوص نشستوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔  سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا خط انہیں دکھایا نہیں گیا لیکن انہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ خط رول 206 کے تحت لکھا گیا تھا، جب الیکشن کمیشن نے رسمی کارروائی کے لیے سنی اتحاد کونسل سے پوچھا کہ انہوں نے مخصوص نشستوں کے لیے ترجیحی فہرست فراہم نہیں کی تو جواب میں سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ انہوں نے الیکشن نہیں لڑا اور اس فہرست کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے مطابق پی ٹی آئی کے 293 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 86 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، پنجاب سے 107، خیبرپختونخوا سے 91 جبکہ سندھ اسمبلی سے 9 ایم پی ایز نے جوائن کیا۔

اس سے قبل سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll