وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ سال پاکستان نے گلوبل لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کی کوشش میں قائدانہ کرداراداکیاتھا


نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے 100 ارب ڈالر کے معاونت کے وعدوں پرفوری عمل درآمد کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاہے کہ ترقی پذیرممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات پرعمل درآمدکیلئے اس معاونت کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کودبئی میں کوپ 28 کانفرنس کے دوران قومی بیان دیتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہ معاونت ڈویلپمنٹ فنانس اورپہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے رہنے والے ترقی پذیرممالک کے قرضوں میں مزید اضافہ کی قیمت پرنہیں ہونا چاہئیے۔
وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی کیلئے ترقی یافتہ ممالک کو اپنی اقتصادی حیثیت اورتاریخی ذمہ داری سے ہم آہنگ قائدانہ کرداراداکرتے ہوئے اسی طرح کے اقدامات کیلئے ترقی پذیرممالک کی مدد کرنی چاہئیے۔ وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے عالمگیراستقامت کے حصول کیلئے موسمیاتی موافقت کے واضح عالمی اہداف واشاریوں بشمول باقاعدہ نگرانی وپیش رفت پرمبنی ایک فریم ورک کی صورت میں نتیجہ کے حصول کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ کوپ 28 کانفرنس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہے جوحقیقت پسندانہ ہے اورہمیں امید ہے کہ اس سے عملی اقدامات کی راہ ہموارہوگی۔وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں اورمسائل پرقابوپانے اوراس ضمن میں اقدامات پر عمل درآمد کیلئے ترقی پذیرممالک کیلئے موسمیاتی مالیاتی معاونت، استعدادکارمیں بہتری اورٹیکنالوجی کی فراہمی پرزوردیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ سال پاکستان بدترین سیلاب سے متاثرہوا جبکہ جاری سال ریکارڈ شدہ تاریخ میں سب سے گرم ترین سال ہوگا۔
وزیراعظم نے کہاکہ گلاسکو میں کوپ 26 کے موقع پرپاکستان نے 2030 تک ماحول کونقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں مجموعی طورپر60 فیصد کمی کے پرجوش ہدف پرمبنی نظرثانی شدہ نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) پیش کیاتھا، اس سال پاکستان نے ایک جامع قومی موافقت پلان پیش کیاہے جبکہ اختراقی لیونگ انڈس انیشئٹو کا آغاز بھی کردیاگیا ہے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں اورفطرت کیلئے ہماری توجہ اورعزم کی عکاسی ہورہی ہے، موجودہ اجلاس میں پاکستان اپنی پہلی اپ ڈیٹ رپورٹ بھی پیش کرے گا۔
وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ سال پاکستان نے گلوبل لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کی کوشش میں قائدانہ کرداراداکیاتھا جبکہ اس سال ہم نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ اورفنڈنگ کیلئے مناسب انتظامات کو فعال بنانے کیلئے کام کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اقوام متحدہ کے پائیدارترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے ، انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے ضمن میں ترقی پذیرممالک کیلئے اضافی مالیاتی گرانٹس ضروری ہے۔

پاک افواج کا افغان بارڈر پر تاریخی آپریشن، فتح کی داستان، جرات کے نشان کا ٹیزر ریلیز
- 26 minutes ago

مسلسل دوسرے روز بھی سونا سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- an hour ago

صدرمملکت آصف علی زرداری کی روس کی قیادت کو یومِ فتح پر مبارکباد
- 20 minutes ago

کِم جونگ اُن کے قتل کی صورت میں فوری 'ایٹمی حملہ، شمالی کوریا نے آئین میں اہم ترمیم کر دی
- an hour ago

امریکہ، ایران مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوں گے،امریکی اخبارکا دعویٰ
- an hour ago

آسٹریلیا نےکالعدم تنظیم بی ایل اے پر پابند ی عائد کر دی
- 19 hours ago

28 فروری کے مقابلے میں ہمارے میزائلوں اور لانچرز کے ذخیرے میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے، عباس عراقچی
- 19 hours ago

ڈھاکا ٹیسٹ : پہلے دن کا کھیل ختم ،بنگلادیش نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 301 رنزبنا لیے
- 21 hours ago

طالبان رجیم میں افغان سرزمین القاعدہ،داعش سمیت دیگر عالمی دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن گئی
- an hour ago

وزیراعظم نے بڑھتے ہوئے ایچ آئی وی کیسزکا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دیدی
- 19 hours ago

وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 تا 25 مئی چین کا دورہ کریں گے
- 30 minutes ago

مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے امریکا کو ایرانی تجاویز کا جواب آج مل جانا چاہیے،مارکو روبیو
- 21 hours ago









