Advertisement
پاکستان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی سمیت متعدد پارٹی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنےکا فیصلہ برقرار

لاہور ہائیکورٹ نے آر او اور ایپلنٹ ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 17th 2024, 11:02 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بانی چیئرمین پی ٹی آئی سمیت  متعدد پارٹی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنےکا فیصلہ برقرار

لاہورہائیکورٹ نے حلقہ این اے 122 اور این اے 89 سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت شاہ محمود قریشی ، چوہدری پرویز الٰہی ،فواد چوہدری ، حماد اظہر اور صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی وکیل نے دلائل دیئے کہ موجودہ کیس میں الیکشن لڑنے سے نا اہلی کا اختیار ریٹرننگ افسران کے پاس نہیں۔ یہ اختیار عدالت کا ہے۔عمران خان کی سزا کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ کسی کو نا اہل کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں۔ الیکشن کمیشن کا آرڈر ٹھیک نہیں ہے۔

وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ این اے 122 لاہور میں تجویز کنندہ کا حلقے سے نہ ہونے کا بھی اعتراض لگایا گیا ہے۔ حلقہ بندیوں کی جو آخری لسٹ آئی اس میں تجویز کنندہ اسی حلقے میں تھا،  الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ریٹرننگ افسر یہ کہہ سکتا ہے کہ امیدوار آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے دونوں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقراررکھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے شاہ محمود قریشی،  پرویز الٰہی، حماد اظہر اور صنم جاوید کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف درخواستیں بھی خارج کرتے ہوئے الیکشن کےلئے نا اہل قرار دے دیا۔

پرویز الٰہی کے این اے 64، 69 اور پی پی 32، 34 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔حماد اظہر نے این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جس کو عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر بھی فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی،

لاہور ہائیکورٹ نے آر او اور ایپلنٹ ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔  جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔

 

Advertisement