مودی سرکارکی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی گھناؤنی سازش ، مقبوضہ کشمیر میں مردم شماری ملتوی
ویب ڈیسک : مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی گھناؤنی سازش ، مسلم آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے رواں سال ہونیوالی مردم شماری ملتوی کروا دی گئی ۔

جی این این کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوتوا نظریہ کے تحت مقبوضہ کشمیر میں آبادی تناسب اپنے حق میں کرنے کے لیے رواں سال ہونیوالی مردم شماری 2026 تک ملتوی کروا دی ہے ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلسہ جاری ہے ، جبکہ اس عرصے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور کشمیر کے مُسلم تشخص کو مسخ کرنے کی غرض سے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ متنازعہ علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا جنیوا کنونشن 4کے آرٹیکل 49کی خلاف ورزی ہے۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق آبادی کا 68 فیصد حصہ مسلمانوں کا تھا جبکہ 28 فیصد ہندوؤں اور 4 فیصد سکھ اور بُدھ مت کے پیرو کار تھے۔ بھارتی حکومت نے ساڑھے 18 لاکھ سے زائد لوگوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا۔ ان میں گورکھا کمیونٹی کے 6600 ریٹائرڈ فوجیوں بھی شامل ہیں، نئے ڈومیسائل قانون کے تحت 10 ہزار سے زائد مزدوروں کو بِہار سے کشمیر میں بسایا جائے گا جبکہ چار، پانچ لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر الگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں ۔کنٹرول آف بلڈنگ آپریشن ایکٹ 1988ء اور جموں و کشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ 1970 تبدیل کر دیا گیا۔
بھارتی حکومت کے اس اقدام کا مقصد افواج اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کو تعمیرات کی کُھلی چھوٹ دینا ہے۔ مودی سرکار نے 20 ہزار کنال زمین ہندو سرمایہ داروں، 2 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی بیرونی سرمایہ کاروں جبکہ سیکیورٹی فورسز کیلئے خصوصی سرٹیفیکیٹ شرط ختم کر کے بارہ مولا میں فوجی کیمپ کے لیے 129 کنال اراضی دی گئی ۔
مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جوڑ توڑ بھی جاری ہے ، نئے منصوبہ کے تحت قانون ساز اسمبلی کی7 سیٹیں بڑھائی جائیں گی اور یہ سیٹیں کشمیر کی بجائے جموں کو دی جائیں گی حالانکہ کشمیر کی آبادی زیادہ ہے۔کشمیر کی 46 جبکہ جموں کی 37 سیٹیں ہیں۔BJP کو سادہ اکثریت کیلئے 44 سیٹیں درکار ہیں جو کہ آج تک انہیں حاصل نہیں ہوسکیں ۔ نئی حلقہ بندی کے بعد انتخابات کا ڈھونک رچاکر سادہ اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایک نئے ڈویژن کا قیام بھی کیا جا رہا ہے تاکہ جموں و کشمیر کی نسبت کا اثر رَسوخ کم کیا جا سکے۔ مجوزہ ڈویژن میں رمبان، کشتوار، ڈوڈا، سوفیان، انتناگ اور کُلگم کے اضلاع شامل ہونگے۔
واضح رہے کہ بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔ 5اگست 2019 کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔یکم نومبر سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے کے خاتمے سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں خصوصی درجہ حاصل ہے جس کے تحت صرف کشمیری ہی وادی میں جائیداد خریدنے اور ورثے میں منتقل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
ایران جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول
- 21 گھنٹے قبل

سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کی کمی
- 9 گھنٹے قبل
آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی، بیٹرز رینکنگ میں بابراعظم چھٹے نمبر
- 6 گھنٹے قبل
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- ایک دن قبل
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
- ایک دن قبل
پاکستان کی ترقی کا خواب: کیوں مطلوبہ جی ڈی پی شرح ناقابلِ حصول ہے؟
- 8 گھنٹے قبل
کویت پر ایران کے حملے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی
- 9 گھنٹے قبل
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے
- ایک دن قبل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک
- ایک دن قبل
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا
- ایک دن قبل

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار
- 2 دن قبل

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی
- 2 دن قبل


.jpg&w=3840&q=75)








