اسلام آباد:قومی اسمبلی کا ایک اور ہنگامہ خیز اجلاس ہوا، جس میں ایوان میدان جنگ بنا رہا ، اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ ہاتھاپائی کی اور سپیکر ڈیسک کا گھیراؤ کیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں ہوا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی پر مسلم لیگ(ن) کو استعمال کرنے کا الزام لگا دیا ۔وزیرخارجہ نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ وکٹ کی دونوں طرف کھیلنے کے عادی ہیں، مراد سعید کھڑا ہو تو واک آؤٹ کر جاتے ہیں، ان میں سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ یہ ن لیگ کو استعمال کرکے جمہوریت کے علمبردار بن جاتے ہیں، یہ دوغلے ہیں اور اگر یہ رویہ ہو گا تو ہاؤس اس طرح نہیں چلے گا، نہیں چلے گا تو پھر نہیں چلے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر یہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بات سننی بھی ہو گی، اگر بات نہین سننا چاہتے تو یکطرفہ بحث نہیں ہو سکتی، یہ قابل قبول نہیں اور جمہوری روایات کے برعکس ہے۔اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور مچانے کا سلسلہ جاری رہا
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر کے معزز جج صاحبان کی رائے طلب کی کہ کیا سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہو سکتے ہیں یا ان پر بھی سیکرٹ بیلٹ کی قدغن لگتی ہے کیونکہ ہمارے آئینی ماہرین کی نظر ایسی کوئی قدغن نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں مسئلہ زیر بحث ہے اور مجھے امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس پر غور کر کے اس پر اپنے فیصلے صادر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم آئین میں ترمیم کریں اور ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے لیکن ہم نے اس کے باوجود یہ بل اس لیے پیش کیا کیونکہ یہ میثاق جمہوریت کے علمبردار اور شفاف انتخابات کے دعویداروں کو بے نقاب کیا جائے ۔ ُسنا ہے کہ بیٹھک میں آج نئے لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا، ہم کسی لانگ مارچ سے نہیں ڈرتے، ہم عوام کی طاقت اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں اور جمہوری انداز میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق، پاکستان کے آئین اور پارلیمان کے وقار کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور کریں گے۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران حکومتی اراکین کی جانب سے مسلسل بینچ بجانے اور شور کا سلسلہ جاری رہا اور ” راجہ رینٹل “ کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے ، جس پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ” میں وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ تمہارے دن گنے جا چکے ہیں ، "ہاں میں راجہ رینٹل ہوں۔" اس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما نے حکومتی اراکین سے پوچھا ، " آپ کیا ہیں؟ آپ کے وزیر اعظم آپ کے اقدامات کی وجہ سے پارلیمنٹ میں بھی نہیں آسکتے۔ اگر آپ کو شرم نہیں آتی ہے تو میں آپ کو بازار سے خرید کر دے سکتا ہوں۔" انہوں نے مزید کہا کہ " انہیں آر پی پی معاملے پر کلیئر کردیا گیا تھا۔حکومتی اراکین نااہل ہیں اور وہ پارلیمنٹ کے تقدس کو نہیں سمجھتے ہیں۔ جنوری میں وفاقی حکومت کے بجلی کی قیمت میں 1.95 اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ عمران خان کہا کرتے تھے کہ اگر بجلی کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وزیر اعظم چور ہیں۔ تو میں آج یہ کہوں گا کہ ہمارے وزیر اعظم چور ہیں "۔
وفاقی وزیر فواد چودھری نے قومی اجلاس میں وفقہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن این آر او لینے کیلئے تمام حربے آزما رہی ہے، اپوزیشن جو مرضی کرلے این آر او نہیں ملے گا، چوروں کا سرغنہ خود لندن چلا گیا، ارکان کو یہاں چھوڑ گیا، لیگی خواتین ارکان نے آئین کی کتاب کو ڈیسک بجانے کیلئے استعمال کیا، کتاب کو ڈیسک بجانے کیلئے استعمال کرنا آئین کی توہین ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ایوان میں تقریر کے دوران کہاکہ انہوں نے خود یہاں کھڑے ہو کر تقریریں کی ہوئی ہیں کہ یہاں ممبرز بکتے ہیں ،انہوں نے خود یہاں کھڑے ہو کر ایک دوسرے پر الزام لگائے ہوئے ہیں، پاکستان ایک جمہوری تحریک کی پیداوار ہے ، اس قانون میں لکھا ہے کہ پیپلز پارٹی کی 5 سیٹیں بنتی ہیں تو 5 ہی ملنی چاہیے ، یہ غلط فہمی ان کو پہلے بھی ہوئی تھی تو سینیٹ کا چیئر مین بدلنے چلے تھے۔ فیٹف میں انہوں نے کہا پاکستان گرے لسٹ میں چلا جائے ہمیں فکر نہیں ، یہ بل کیخلاف کھڑے ہو گئے ، ان کے جو لیڈر تھے وہ پہلے بے نقاب ہو چکے تھے ،کوئی قبضے کر رہا ہے کوئی غیر ملکی فنڈنگ لے رہا ہے ، اپوزیشن خود قوم کو گمراہ کر رہی ہے ، یہ جو چیخیں نکل رہی ہیں انہیں پتہ ہے کہ معاملہ نواز شریف اور آصف زرداری پر نہیں رک رہا، ان کی دیہاڑی بند ہورہی ہے ۔یہ کالا پیسہ خرچ کرکے الیکشن جیت کر آئے ہیں۔ اپوزیشن کے دور میں خریدو فروخت کی بولیاں لگیں ، ڈان لیکس کی صورت میں پاک فوج کی پیٹھ پر خنجر مارنے کی کوشش کی وہ بھی نہیں چلی اور ان کو منہ کی کھانی پڑی ۔ نواز شریف تو لندن سے بیٹھ کر نام لیتے ہیں لیکن پاکستان میں موجود یہ لوگ گھروں میں چھپ جاتے ہیں چاہے سیٹیاں بجائیں شور کریں یا اسپیکر پر حملہ کریں کچھ نہیں ہوگا۔
اسد عمر کی تقریر کے دوران پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ارکان آپس میں لڑ پڑے، پیپلز پارٹی کے نوید قمر اور آغا رفیع اللہ کا پی ٹی آئی کے فہیم خان اور عطاء اللہ سے ہاتھا پائی بھی ہوئی، جب کہ آغا رفیع اللہ کے دھکے سے پی ٹی آئی رکن عطا اللہ گر پڑے، اور پی ٹی آئی کےفہیم خان اور نوید قمر میں بھی جھڑپ ہوگئی، اس دوران پی ٹی آئی کے عامر کیانی میدان میں آگئے، اور مجبوراً حالات خراب ہونے پر سیکورٹی طلب کر لی گئی، تاہم حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا ایک دوسرے کےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔
دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور جھگڑے کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامہ اور لڑائی کرنے والوں کے خلاف ایکشن کا فیصلہ کرلیا، اسپیکر نے ایوان میں لگے کیمروں کی فوٹیج طلب کر لی۔

پاکستان کے ثقافتی اور میوزک کے رنگ اب سعودی عرب میں سجیں گے
- 3 دن قبل
فٹبال لیجینڈ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیربادکہہ دیا
- 2 دن قبل

مصطفیٰ زاہد پہلی بار پاکستانی فلم کا میوزک بنائیں گے
- 15 گھنٹے قبل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عالمی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
- 2 دن قبل

لاہور: آوارہ کتے کے حملے میں ڈاکٹر زخمی
- 2 دن قبل
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، انتونیو گوتریس
- 18 گھنٹے قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے قبضے سے بازیاب تین پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے
- 2 دن قبل

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب بیس کروڑ ڈالر قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ
- 20 گھنٹے قبل

مہنگائی نے کسان، مزدور اور چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ دی: میاں شاہد حسین
- 20 گھنٹے قبل

سابق خطیب داتا دربار پر مالی بدعنوانی کے الزامات ثابت، لاکھوں روپے کی ریکوری کا حکم
- 2 دن قبل

پاکستان اور بحرین کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے پراتفاق
- 17 گھنٹے قبل

سینیئر بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں دنیا چھوڑگئے
- 20 گھنٹے قبل






