Advertisement
پاکستان

میڈیا کی ہی نہیں بلکہ ججز کی بھی اظہا رائے ہوتی ہے ،چیف جسٹس

چیف جسٹس آف  پاکستان نے کہا کہ سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 30th 2024, 12:43 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
میڈیا کی ہی نہیں بلکہ ججز کی بھی اظہا رائے ہوتی ہے ،چیف جسٹس

چیف جسٹس آف  پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے ہدایت کی ہے  کہ تنقید کی بنیاد پر درج ہونے والے مقدمات فوری واپس لیے جائیں۔  فیصلوں پرتنقید صحافی اورعام شہری بھی کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بارکے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی۔

وکیل حیدروحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی جس پرعدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کہ صرف صحافیوں کی ہی نہیں بلکہ ججز کی بھی اظہار رائے ہو تی ہے ۔ 

چیف جسٹس آف  پاکستان نے کہا کہ سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ جس پرصحافی نے جواب دیا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

 

 

Advertisement