Advertisement

سینیگال میں صدارتی انتخابات ملتوی، سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

انتخابات ملتوی کئے جانے اور سابق وزیر اعظم کی گرفتاری پر دارالحکومت ڈاکار میدان جنگ بن گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Feb 5th 2024, 11:26 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سینیگال میں صدارتی انتخابات ملتوی، سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

سینیگال میں صدارتی انتخابات ملتوی، سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

سینیگال کے صدر کی جانب سے عین آخری دنوں میں انتخابات ملتوی کئے جانے اور سابق وزیراعظم کی گرفتاری پر دارالحکومت میدان جنگ بن گیا، جہاں میں اپوزیشن پارٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔صدارتی انتخابات ملتوی کئے جانے کے بعد سینیگال کے سینکڑوں مظاہرین ڈاکار میں احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے آنسو گیس کا استعمال، متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔

اتوار کے روز افریقی ملک سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں صدر میکی سال نے 25 فروری کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا، جس سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

قوم سے ایک ٹیلیویژن خطاب میں صدر نے کہا کہ انہوں نے امیدواروں کی فہرست پر تنازعہ کے باعث متعلقہ انتخابی قانون کو منسوخ کر دیا ہے اور انہوں نے نومبر 2023 کے اقدام کو ختم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کئے جس میں انتخابات کی اصل تاریخ طے کی گئی تھی۔میکی سال نے کوئی نئی تاریخ بتائے بغیر کہا، ’میں ایک آزاد، شفاف اور جامع انتخابات کے لیے حالات کو یکجا کرنے کے لیے ایک کھلا قومی مکالمہ شروع کروں گا۔

انتخابات ملتوی ہونے کے بعد کچھ اپوزیشن امیدواروں کی کال پر ہر عمر کے سینکڑوں مرد اور خواتین، سینیگال کے جھنڈے لہراتے ہوئے یا قومی فٹ بال ٹیم کی جرسی پہنے ہوئے دارالحکومت کی مرکزی سڑکوں میں سے ایک کے چوک پر جمع ہوئے۔جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیل فائر کئے اور پھر ملحقہ گلیوں سے بھاگنے والے مظاہرین کا تعاقب کیا، اس دوران کچھ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

پولیس نے کریک ڈاؤن کے دوران اہم اپوزیشن رہنما و سابق وزیر اعظم امیناتا ٹورے کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب صدر میکی سال کی طرف سے اعلان کردہ صدارتی انتخابات کے التوا پر غور کرنے کے لیے آج سینیگال کی پارلیمنٹ کا اجلاس ہو رہا ہے۔قانون ساز صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز پر ووٹ دیں گے۔ ان کے سامنے پیش کردہ متن کو منظور کرنے کے لیے 165 نشستوں والی پارلیمنٹ کے تین پانچویں حصے کی حمایت درکار ہوگی۔

Advertisement
Advertisement