جی این این سوشل

پاکستان

حکومت سازی، ایم کیو ایم کے وفد کی نواز شریف سے ملاقات

ملاقات میں نئی حکومت سازی ، آئندہ سیاسی حکمت عملی سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت

پر شائع ہوا

کی طرف سے

حکومت سازی، ایم کیو ایم کے وفد کی نواز شریف سے ملاقات
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

‏متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا وفد رائیونڈ پہنچ گیا۔

ایم کیو ایم وفد نے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے ملاقات کی جس میں حکومت سازی پر بات چیت کی گئی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم قائدین وفد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف اور جماعت کے دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ملاقات میں نئی حکومت سازی ، آئندہ سیاسی حکمت عملی سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت ہوئی۔ 

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے مطالبات کی لسٹ نوازشریف کے سامنے رکھ دی اور ن لیگ کی حکومت بننے کی صورت میں سندھ کی گورنر شپ مانگ لی جبکہ کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں میں آن بورڈ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔

نوازشریف نے ایم کیو ایم کی شرائط کا مثبت انداز میں جواب دیا اور ایم کیو ایم و پیپلزپارٹی کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنے کی حامی بھرلی۔

 

پاکستان

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، فاروق ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بجٹ کو ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پورے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے تمام اپوزیشن الائنس پارٹیوں نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، آئی جی پنجاب وزیر وزیراعلی پنجاب کا ٹاؤٹ ہے، ہم پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی مذمت کرتے ہیں، ہمارے اراکین احتجاج میں شرکت کریں گے ہمارے اراکین کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے، ان کی گرفتاریوں کا خدشہ ہے۔

 ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے صوبائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا امید ہے کہ وہ خود ہی معاملہ حل کر لیں گے جس پر جمشید دستی اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ہماری بات کو سنا جائے یہ سیدھی سیدھی بدمعاشی ہے۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ اور جمشید دستی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ڈپٹی اسپیکر نے جمشید دستی کو فلور دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا، اگر آپ شور شرابہ اور بدمعاشی کرنا چاہتے ہیں تو میں اجلاس ملتوی کردوں گا، آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ کیسے اجلاس چلانا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے بجٹ 2024-25پر بحث کا آغاز کرواتے ہوئے مائیک ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے کردیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر روایتی بجٹ دے دیا گیا، ملکی سلامتی کے خلاف ایسا بجٹ نقصان دہ ہے، اسٹیٹس کو کی کوک سے روایتی بجٹ جنم لیتا ہے، 77 سال سے ہر سال ایک جیسا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کی 4 سال کی حکومت میں بھی روایتی بجٹ پیش کیا گیا، روایتی بجٹ دینا ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ ہے، عوام دوست، کاروبار دوست بجٹ نہیں بنایا گیا، زمینداروں اور سرمایہ کاروں کو کیا ٹیکسز میں چھوٹ دیتے رہیں؟ دنیا ٹیکس فری رجیم پر جارہی ہے۔

رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ہی بھاری ٹیکسز لگائے گئے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ جب اپوزیشن میں تھی تو پیٹرولیم لیوی کی مخالفت کی، ہمیں بجٹ میں تیل، گیس اور پانی کے بلوں میں کمی کرنا ہوگی۔ پاکستان سے سرمایہ باہر جارہا ہے، ملیں بند ہورہی ہیں، 12 لاکھ نوجوان پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جارہے ہیں، ظلم بند کریں، عام شہریوں پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، بجٹ میں جاگیرداروں، وڈیروں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، آپ بجلی کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ کرتے جارہے ہیں، مہنگائی، بےروزگاری پاکستانی عوام کے بنیادی مسائل ہیں، بے روزگاری کی شرح میں 15 فیصد ہے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے، بچے شہید ہورہے ہیں، احساس محرومی اب احساس بغاوت میں بدل رہا ہے، ڈریں اس وقت سے جب مظفرآباد کی طرح باقی ملک میں عوام سڑکوں پر آجائے، صرف قومی مفاہمت اور ایجنڈے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے، سب سیاسی جماعتیں سرجوڑکر بیٹھیں یہ کسی ایک جماعت کے بس میں نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

سموگ تدارک ، ہائیکورٹ کا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فوری بند کرنے کا حکم

ہیٹ اسٹروک سے متعلق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سموگ تدارک ، ہائیکورٹ کا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فوری بند کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فوری بند کرنے کا حکم دے دیا۔

سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ٹریفک پولیس دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ موٹر وے پولیس فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات پر کارروائیاں کریں۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ موٹر وے کے گرد و نواح میں آگ کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، وہاں قابو پایا جائے۔

ہیٹ اسٹروک سے متعلق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیٹ اسٹروک سے متعلق آگاہی مہم شروع کردی ہے، چولستان میں 20 واٹر بوزر بھیجے دیے ہیں۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فوری بند کرنے کا حکم دے دیا اور سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے گندم خریداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس سردار شوکت رخشانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جبکہ فیصلے میں 5 ارب کی لاگت سے گندم خریداری کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا،ا یک وجہ یہ بھی تھی کہ محکمہ خوراک کے پاس مزید 500 بوری گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ خوراک کے ڈی جی کے مطابق محکمے کے پاس پہلے ہی 8 لاکھ 15 ہزار بوری گندم پڑا ہوا ہے، صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خریداری سے گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

فیصلے کے مطابق سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب گوداموں میں گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں تو مزید پانچ لاکھ بوری گندم کیوں خریدی جارہی ہے؟ جب اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں تو حکومت بلوچستان کیوں بڑے پیمانے پر گندم خرید رہی ہے؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی علم میں یہ بھی ہے کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے حوالے سے بڑے اسکینڈلز ہوئے، ان ہی وجوہات کی بنیاد پر کابینہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کے تجویز کے مطابق 5ارب روپے کی رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے، بلوچستان کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر حکومت غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیرضروری اخراجات کی کمی کے لیے حکومت نقصان کا باعث بننے والے محکموں کے خاتمے کے لیے سفارشات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ گندم خریداری کےفیصلےکےخلاف شہری نے دائر کی تھی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll