جی این این سوشل

دنیا

ایران : گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی گئی

تا حال دھماکے میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایران : گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی گئی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ایران کی مرکزی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی گئی ، تاہم دھماکے میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

 عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کےصوبہ چہارمحل بہتیاری کی تحصیل بوروجن میں قدرتی گیس سپلائی کرنے والے مرکزی پائپ لائن میں پر زور دار دھماکہ ہوا۔

بوروجن کے ضلعی گورنر فتح کریمی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو اپنے بیان میں کہا کہ ہلوائی کے علاقے میں قدرتی گیس کی مرکزی پائپ لائن میں دھماکہ ہوا اور بوروجن، لاردیگان، حوزستان پائپ لائن کے والوز بند کر دیے ہیں۔

امدادی ٹیموں کو علاقے میں روانہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بروجن کے محکمہ فائر بریگیڈ چیف اسماعیل یزدانی نے بتایا کہ انہیں تا حال دھماکے میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

علاقائی

عدالت نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت 6 مئی تک معطل رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدالت نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت 6 مئی تک معطل رہے گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں پنجاب میں 120 گرام کی روٹی25 روپے میں ہے۔ ضلعی حکومت کے نمائندے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ وہ دوسری صوبائی حکومت ہے، آٹا یہاں مہنگا ہے اور اسلام آباد میں کرائے بھی زیادہ ہیں، متعلقہ افسر موجود نہیں، پیراوائز کمنٹس دے دیتے ہیں، مناسب وقت دے دیں۔ 

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ تندور والوں سے پوچھا آٹا کتنے کا آرہا ہے یا لوگوں کو خوش کرنے کو آرڈر جاری کر دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 6 مئی تک متلوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر فریقین تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرائیں۔

یاد رہے نان بائی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کو چیلنج کیا تھا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

گرفتار افغان دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات

حملے کے لئے ہمارے دو بندوں کو راکٹ لانچر، گرنیڈ اورا سلحہ سے فراہم کیا گیا، انکشاف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گرفتار افغان دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات

افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے افغان دہشتگرد نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔
23 اپریل 2024 کوبلوچستان کے علاقے ضلع پشین میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار ہوا، گرفتار دہشتگرد کا نام حبیب اللہ عرف خالد ولد خان محمد ہے، حبیب اللہ افغانستان کے علاقے سپن بولدک کا رہائشی ہے۔
افغان دہشتگرد حبیب اللہ نے اپنے اعترافی بیان میں پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ بلوچستان کے علاقے پشین میں حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی، حملے کے لئے ہمارے دو بندوں کو راکٹ لانچر، گرنیڈ اورا سلحہ سے فراہم کیا گیا اور ہمیں افغانستان کے بارڈر تک افغان طالبان نے مکمل مدد فراہم کی۔
دہشتگرد حبیب اللہ نے بتایا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہمیں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ہمارے دو ساتھی مارے گئے اور میں زخمی ہو گیا، گرفتاری کے بعد احساس ہوا کہ ہمیں اس حملے کے لئے ورغلایا گیا جو بہت بڑی غلطی تھی، مفتی صاحب کی وجہ سے ہم اور ہمارے گھر والے برباد ہو گئے۔
افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے والی تنظیموں میں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور بلوچ دہشتگرد تنظیمیں سر فہرست ہیں۔پاکستان میں دو دہائیوں پر محیط جاری دہشتگردی میں افغان دہشتگردوں کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
پاکستان میں جاری دہشتگردی کی بڑھتی لہر میں ٹی ٹی پی اور افغان دہشتگردوں کا مرکزی کردار رہا ہے، پاکستان پر حملہ آور افغان دہشتگردوں کی آماجگاہیں افغانستان کے علاقے کنڑ، نورستان، پکتیکا، خوست و دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کالعدم ٹی ٹی پی کی بزدلی اور موقع پرستی بے نقاب

ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے ہیں کیونکہ وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی آگے سے قیادت نہیں کرتے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کالعدم ٹی ٹی پی کی بزدلی اور موقع پرستی  بے نقاب

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنما دوغلے، موقع پرست، بزدل اور دھوکے باز ہیں۔ وہ ان خصلتوں کو پاکستان میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے معصوم لوگوں کو پیادوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے ہیں کیونکہ وہ اپنے نام نہاد مقصد کا پرچار تو کرتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی آگے سے قیادت نہیں کرتے، ان کی  مکمل قیادت جن میں مفتی نور ولی محسود، منگل باغ، محمد خراسانی، فقیر محمد شامل ہیں ، سبافغانستان میں مقیم ہے جبکہ ان کے جنگجو پاکستان میں ایک لاحاصل جنگ لڑ رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کئی کمانڈر افغانستان کے اندر مارے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر عمر خالد خراسانی، مفتی حسن سواتی، حافظ دولت خان، ملا فضل اللہ، عتیق الرحمان عرف ٹیپو گل مروت اور عمر منصور افغانستان میں نامعلوم حملہ آوروں کےہاتھوں قتل ہوئے۔ اپنے جنگجوؤں کی قیادت کرنےسے گریز کرتےریے اور بالآخر اقتدار اور پیسے کی خاطر اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں افغانستان کےاندر محفوظ اور آرام دہ ٹھکانوں میں مارے گئے۔

وہ موقع پرست اور چالاک ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں آرام دہ زندگی گزارتے ہیں، لیکن اپنے بہکائے ہوئے ہرکاروں کو پاکستان میں سخت اور خوفناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جہاں بالآخر ان دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ختم کر دیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کے ساتھ حالیہ مفاہمتی عمل بھی اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے جہاں ٹی ٹی پی کے رہنماؤں نے مفاہمتی عمل کی آڑ میں پاکستان میں اپنے قدم بڑھا کر موقع پرستی کا مظاہرہ کیا۔

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے فتویٰ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں نام نہاد جہاد کے لیے غریب افغان شہریوں کو نشانہ بنانے اور آمادہ کرنے کے ذریعے ان کی ہیرا پھیری اور فریب کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کے صوبہ پکتیکا کا رہنے والا دہشت گرد ملک الدین مصباح ہے جو حال ہی میں شمالی وزیرستان کے غلام خان بارڈر سے پاکستان میں دراندازی کے دوران مارے گئے 7 حملہ آوروں میں شامل تھا۔

ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے غیر ملکی آقاؤں سے مدد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کے لیے ان کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ پیسے کی خاطر وہ مسلمان ہونے کی مذہبی، اخلاقی اور اخلاقی اقدار کو بھول چکے ہیں اور وحشیوں کا روپ دھار رہے ہیں جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی کے ارکان اور ان کے خاندانوں کو طالبان سے باقاعدہ امداد ملتی ہے اور یہ کہ افغان حکام مبینہ طور پر ٹی ٹی پی رہنما نور ولی محسود کو ماہانہ $50,500 ڈالر فراہم کرتے تھے۔

ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے ان بہکائے ہوئے دہشتگرد ہرکاروں کااستحصال کرتے ہیں جنہیں ٹشو پیپرز کے طور پر استعمال کرنے کے بعد ضائع یا پھینک دیا جاتا ہے۔

غریب اور معصوم لوگوں کو خودکش حملوں کے لیے برین واش کیا جاتا ہے لیکن خود لیڈران اور ان کے رشتہ دار کبھی بھی لڑائی/خودکش حملوں میں حصہ نہیں لیتے۔

ٹی ٹی پی کے رہنما پاکستان کے مذہبی، اخلاقی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار سے پوری طرح غافل ہیں اور مذہبی جوڑ توڑ، جبر، دھمکی اور خوف کے ہتھکنڈوں کے ذریعے معصوم لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام ٹی ٹی پی کے خود غرضانہ مقاصد اور ان کے "فسادی ایجنڈے" سے بخوبی واقف ہیں۔

پاکستانی عوام کی حمایت سے سیکیورٹی فورسز اپنی لگن اور عزم کے ذریعے پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کر دیں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll